مقصد تحریک کربلا

مقصد تحریک کربلا

84 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شہزاد برچہ

امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا که ” مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا۔”

یہ امام کی پالیسی سٹیٹمنٹ ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے دیکھو جب بھی کسی ظالم ،جابر ،آمر کی اطاعت کا سوال ہو تو سیرت حسینؑ یہ ہے سر دے دینا بیعت نہ کرنا کیوں کہ انسان قتل ہونے سے نہیں مرتا بیعت قبول کر کے اپنے نظریے کی موت سے مر جا تا ہے بقول شاعر جب بھی ضمیر کا سودا ہو دوستو ں توڈٹ جاؤ حسیین کے انکار کی طرح کربلا الہی انقلابی تحریک ہے اس نے انسانی زندگی پر دنیا میں چلنے والی تمام تحریکوں سے زیادہ اثرات چھوڑے ہیں ۶۱ہجری سے لے کر آج تک ۱۴ صدیا ں ہوگئیں ہیں مگر آج بھی یہ تحریک تروتازہ ہے دنیا کے جس حصے میں چلے جائیں وہاں کسی نہ کسی صورت میں ذکر کربلا ضرور ہو گا آج یہ تحریک دنیا میں آزادی اور حریت کا نشان بن چکی ہے اس تحریک نے انسانیت کو اس کی معراج تک پہنچا دیا ہے عزم ،ہمت ،حوصلے اور استقامت کی علامت بن چکی ہے انسانی آزادی کے لیے چلنے والی تمام تحریکیں اس تحریک سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں اس عظیم تحریک کا مقصد کیا تھا ؟یہ کیوں برپا کی گئی؟

حریت انسانیت کے لیے چلنے والی اس تحریک کے الہی قائد خود اپنے بھائی کے نام اپنی وصیت میں اس مقصد کو بیان فرماتے ہیں میرا نکلنا نہ خود پسندی اور تفریح کی غرض سے ہے اور نہ میررا مقصد فساد اور ظلم کرنا ہے میں صرف اس لیے نکلا ہوں کہ اپنے نانے کی امت کی اصلاح کروں میں چاہتا ہوں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام دوں اور یوں اپنے نانا اور اپنے والد کی سیرت کی پیروی کروں امام کے ان جملوں پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ امام نے ان تمام وجوہات کی نفی کر دی جن وجوہات پر اس زمانے میں جنگ ہوا کرتی تھی مثلا لوگ خود پسندی اور اپنی لڑائی جھگڑے والی طبیعت کی وجہ سے جنگیں کرتے تھے خودپسندی جیسی برائی تربیت یافتہ نبوت کے دل دماغ میں کیسے آ سکتی ہے دوسرا لوگ ظلم کرنے اور فساد پھیلانے کے لیے کشت و خون کرتے ہیں امام حسینؑ نے ظلم کے خاتمے اور فساد کی جڑیں کاٹنے کے لیے قیام فرمایا آپ تو پیکر عدل اور عظیم مصلح تھے۔

ایسا کیوں نہ ہو آپ اس ہستی کے فرزند ہیں جن کے بارے میں مشہور عیسائی مصنف جارج اپنی مشہور زمانہ تصنیف ندائے عدالت انسانی میں لکھا ہے کہ علیؑ کو ان کے شدت عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا خود حضرت علیؑ فرماتے ہیں دنیا کے ہر حکمران سے دشمنی اس کے ظلم کی وجہ سے کی گئی میں واحد حکمران ہوں میرے ساتھ دشمنی میرے عدل کی وجہ سے کی گئی امام حسینؑ اپنے بابا کی اسی سیرت عدل کو زندہ کرنے کے لیے قیام فرما رہے ہیں امام نے اپنے قیام کا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح کو قرار دیا. امام حسینؑ آزادی بشر کے بہت بڑے داعی تھے آپ نے کسی فرد کواپنی تحریک میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا ہر آدمی کو مکمل اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی سے اس تحریک میں شامل ہو آپ نے دس محرم کی رات اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا میرے خیال میں کل میرے اور ان کے درمیان جنگ کا دن ہو گا میں آپ سب کو چلے جانے کی اجازت دیتا ہوں میں نے آپ سب پر سے اپنی بیعت اٹھا لی ہے آپ لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے رات کی تاریکی نے آپ سب کو چھپایا ہوا ہے اس سے فائدہ اٹھائیے ہر شخص میر ے اہلبیت میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ یہاں سے چلا جائے ۔۔۔۔۔یہ لوگ میرے درپے ہیں اگر مجھے مار لیں گے تو پھردوسروں سے انہیں کوئی سروکا ر نہیں ہو گا امام یہ جملے اس رات کو ارشاد فرمارہے ہیں جس کی صبح جنگ ہونی ہے امام تمام لوگوں حتی اپنے رشتہ داروں کو جانے کا کہہ رہے ہیں ساتھ میں فرما رہے ہیں اندھیراہے چلے جاؤاس کی وجہ سے شرمندگی بھی نہ ہوگی تمام ذمہ داریوں کو ختم فرما رہے ہیں کہ کسی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے بیعت اٹھا رہے ہیں غرض ان کے جانے کے تمام موانع کو ختم کر دیتے ہیںیہ آزادی سوائے تحریک کربلا کے کہیں نظر نہیں آتی اسی لیے یہ ہر تحریک سے منفرد ہے دنیا کی تحریکوں میں ان تحریکوں کے سربراہ عوام اور افواج کو لڑاتے ہیں خود محفوظ پناہ گاہوں میں رہتے ہیں مگر تحریک کربلا کا رہنما کہتا ہے تم چلے جاؤ میں شہید ہونے کے لیے تیار ہوں یہ حقیقی آزادی ہے امام اپنے ساتھیوں کو کل پیش آنے والے واقعات کے لیے تیار کر رہے ہیں کیونکہ دس محرم کا دن کوئی عام دن نہیں ہے یہ اسلامی اقدار کی بقا کا دن ہے یہ کٹ جانے شہید ہو جانے کا دن ہے یہ انسانیت کی معراج کا دن ہے۔

دس محرم کو لشکر یزید سے لوگ مرنے کے لیے امام کے لشکر میں آے مگر لشکر حسینی کا کوئی سپاہی زندہ رہنے کے لیے لشکر امام کو چھوڑ کر لشکر یزید میں شامل نہیں ہوا کیوں کہ یہ لوگ حقیقت زندگی سے آشنا ہوچکے تھے.. بقول شاعر کربلا تاج کو برداشت نہیں کر سکتی، کربلااب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے، کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے، کربلا خارتو کیا آگ پہ چل سکتی ہے، کربلاوقت کے دھارے کو بدل سکتی ہے، کربلا قلعہ فولاد ہے جراروں کا، کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا. شھزاد علی برچه

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔