دیامر بھاشہ ڈیم کے حقیقی متاثرین کو نظر انداز کیا جارہا ہے، پریس کانفرنس

دیامر بھاشہ ڈیم کے حقیقی متاثرین کو نظر انداز کیا جارہا ہے، پریس کانفرنس

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(پ ر)سپریم کونسل و علماء کونسل قدیم باشندگان چلاس و سو فیصد حقیقی متاثرین دیامر ڈیم کا اہم اجلاس چلاس شہر میں منعقد ہوا۔جس میں سینکڑوں ممبران سپریم کونسل و علماء کونسل مولانا عبدالباری،جان عالم،حبیب الرحمان،حمایت اللہ،ریاض اللہ،مولانا مطیع اللہ،مفتی عتیق اللہ،مولانا خان محمد،مولانا ابیاز،عبدالرحمان،اختر منیر،مولانا انعام اللہ ،فضل الرحمان،شیر افضل گل سید و دیگرشریک تھے۔اجلاس میں حقیقی متاثرین ڈیم کے ساتھ کئے گئے تاریخی نا انصافیوں کے خلاف جملہ اقدامات پر تفصیلی گفت و شنید کی گئی۔اور حکومت کی پر اسرار خاموشی اور خاموش تماشائی بننے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔آخر میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بشمول واپڈا چلاس ٹاؤن ایریا کے سو فیصد حقیقی متاثرین اور قدیم باشندگان کے جائز قانونی اور حقائق پر مبنی مطالبات کو یکسر نظر انداز کر کے ان کو دیوار سے لگایا گیا ہے۔جو دیامر ڈیم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وفاق سے اس مسئلے کے حل کے لئے درجنوں لیٹرز آئے ہیں۔مگر انکا معقول جواب دینے کے بجائے انکو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔مسئلے کے حل کے لئے کمیشن تشکیل دیا گیا تاہم اس کمیشن کا نہ تو معقول قیام عمل میں لایا گیااور نہ ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

آٹھ سالوں کی مسلسل جدو جہد کو بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔حالانکہ سابق کئی چیف سیکرٹریز نے ہمارے حق کو نہ صرف تسلیم کر لیا بلکہ اس پر ٹھوس پیشرفت بھی کی۔لیکن موجودہ انتظامیہ کا رویہ اس کے بالکل بر عکس اور افسوسناک ہے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مارچ 2010 کے وزارتی کمیٹی کے ڈرافٹ میں ہر جگہ متاثرین ڈیم کا لفظ درج ہے۔لیکن مقامی طور پر سو فیصد متاثرین کو نظر انداز کر کے پچیس فیصد جزوی متاثرین کو مبینہ رشوت کی بنیاد پر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا۔لہٰذا اس ڈرافٹ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنا کر بحیثیت حقیقی سو فیصد متاثرین کے آبادی کی مناسبت سے ہرپن داس اور چراگاہوں میں حصہ دار تسلیم کر کے کمپنسیٹ کیا جائے۔اس قانون اور جائز مطالبے کو نظر انداز کر کے سراپا احتجاج ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔جلد از جلد مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔جس کی تمام تر ذمہ داری گلگت بلتستان کی حکومت اور واپڈا پر عائدہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔