بجٹ دئیے بغیر سیکیورٹی انتظامات کرنے کا حکم صادر کرنے، اساتذہ کے خلاف مقدمے دائر کرنے کیخلاف احتجاج

 چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) سرکاری سکولوں میں خدمات انجام دینے والے مختلف کیڈر کے ٹیچروں نے جمعرات کے روز ایک احتجاجی جلوس نکالا جوکہ سیکرٹریٹ روڈ سے گزرتا ہوا چترال پریس کلب میں احتجاجی مظاہرے کے بعد احتتام پذیر ہوا ۔ اس موقع پر ٹیچر رہنماجمیل الدین، ضیاء الدین، قاری یوسف اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری سکولوں میں پولیس کی ہدایات کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات نہ کرنے پر اب اساتذہ کے خلاف ایف۔ آئی۔ آر کاٹنے اور انہیں سکولوں میں پڑہائی کے اوقات میں تھانے کچہریوں میں ذلیل وخوار ہونے پر مجبور کیا جارہاہے اور استانیوں کو بھی اس میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ واک تھرو گیٹ ، سی سی ٹی وی، اسلحہ ، خصوصی موبائل فون سیٹ ، اسلحہ اور سیکیورٹی گارڈ رکھنے کی ہدایات دی جاتی ہیں جبکہ اس کے لئے ایک پائی کی بجٹ بھی سکولوں کے پاس نہیں ہے اور یہ لوازمات پورا نہ کرنے پر ان کے دھڑا دھڑ ایف۔ آئی ۔آر کاٹے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ چونکہ حکومت کی ملکیتی سکول ہیں ، اس لئے غریب اساتذہ کو گرفتار کرنے کی بجائے وزیر تعلیم سے لے کر سیکرٹری تعلیم اور ڈائرکٹر سمیت ڈی۔ ای ۔او کو گرفتار کئے جائیں ۔ انہوں نے احتجاج کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پہلے سے درج شدہ کیسوں کو واپس لینے ، آئندہ ایف۔ آئی ۔آر نہ کاٹنے سمیت ان کے مطالبے کو نہ مانا گیاتو اس ماہ کی 20تاریخ سے 30تاریخ تک وہ علامتی ہڑتال جبکہ یکم دسمبر سے مکمل ہڑتال کریں گے اور کسی استاذ کی گرفتاری اگر عمل میں آئی تو تھانے بھرو تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے ضلع ناظم پر بھی زور دیا کہ یا تو وہ فنڈ سکولوں کو فنڈ فراہم کردے یاتو ان کی گرفتاریوں اور ایف۔آئی ۔آر کے اندراج کا سلسلہ روکنے میں کردار ادا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments