شاہراہوں کی تعمیر اور خطے کی سیاحت۔۔۔۔

شاہراہوں کی تعمیر اور خطے کی سیاحت۔۔۔۔

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

انتظار کی گھڑیاں ختم صوبائی حکومت نے عوام بلتستان سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیاگلگت سکردو روڈ کابالاآخر ٹینڈر ہو ہی گیااخباری اطلاعات کے مطابق اس اہم شاہراہ کی تعمیر کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او نے حاصل کیا ہے اور تین سال میں اس اہم شاہراہ کو پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گااور اس اہم شاہراہ کی تعمیر پر 45 ارب کی خطیر رقم خرچ ہوگی ٹینڈر کے مطابق منصوبے پر آنے والی لاگت کا85فیصد ایف ڈبلیو او اور15فیصد این ایچ اے برداشت کرے گی اور اس اہم شاہراہ کی تعمیر کا کام ایک سے دو ماہ میں شروع ہوگاگلگت سکردو روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر اپوزیشن نے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید بھی کی اور روز بروز اس اہم شاہراہ کی تعمیر نہ ہونے پر خطے کا ہر شخص پریشان تھا چونکہ روزبر وز ٹریفک کے حادثات نے ہر ذی شعور انسان کو پریشان کرکے رکھ دیا تھاگلگت بلتستان کے عوام بلخصوص بلتستان کے عوام کے لئے یہ بہت بڑی اور اچھی خبر ہے چونکہ سکردو روڈ کی خستہ حالی اور روز بروز اس دفاعی اہمیت کی حامل سڑک پر حادثات نے عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا تھا اس اہم شاہراہ کی مرمت تک نہ ہونے سے مسافروں کو اس روڈ پر سفر کرنا ایک عذاب بن گیا تھا دوسری طرف یہ خبریں بھی آرہی ہے کہ سی پیک سے جہاں ملک کے دیگر صوبوں میں تعمیر وترقی کے لئے اربوں روپے رکھے گئے ہیں تو وہاں پر گلگت بلتستان کی حکومت نے گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی تعمیرکے ان منصوبوں کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جن میں گلگت چترال ایکسپریس وے ،جگلوٹ مظفر آباد روڈ ،بابوسر ٹینل اور دیگر شاہراہیں شامل ہے جن کو سی پیک میں رکھا جائیگا اور ان اہم منصوبوں کی تعمیر پر تین کھرب روپے کی لاگت آئیگی اگر گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت ان اہم منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو گلگت بلتستان ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہوگا اور یہاں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آئینگے اور علاقے سے بیروزگاری کا بھی خاتمہ ہوگا چونکہ گزشتہ دو سے تین سالوں میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی ایک کثیر تعداد نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے اور ہر سال ان سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہورہا ہے مگر گلگت بلتستان میں ان کے لئے سب سے زیادہ مشکلات یہاں کی خستہ حال سٹرکیں ہیں اس کے علاوہ محکمہ سیاحت کی طرف سے بھی ان کو معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث بھی ان کی تکلیفات میں اضافہ ہورہا ہے اگر گلگت بلتستان کی حکومت بابوسر ٹینل اور گلگت چترال ایکسپریس وے کی تعمیر میں کامیاب ہوتی ہے تو سالانہ تیس سے چالیس لاکھ تک سیاح ان علاقوں کا رخ کرینگے اس کے علاوہ گلگت چترال روڈ بن جائے تو اگر سیاح چترال کے راستے گلگت بلتستان میں داخل ہونگے اور قراقرم ہائے وے کے راستے بابوسر کے خوبصورت مقامات کا نظارہ کرتے ہوئے اسلام آبادپہنچ جائینگے گلگت بلتستان میں امن و آمان کے پیش نظر ہر سال گلگت بلتستان میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ان خوبصورت علاقوں کا رخ کرتی ہے ایک طرف ان کو یہاں کی خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے تو دوسری طرف علاقے میں ان کے لئے رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پی ٹی ڈی سی نے گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں تو ہوٹل بڑے بڑے بنائے ہیں مگر بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان ہوٹلوں میں کھانے پینے کا سامان تک موجود نہیں ہوتا جبکہ دیگر ہوٹلوں کی بھی یہ حالت رہی کہ اس سال کئی سیاحوں نے یہ شکایت کی کہ حکومت کی طرف سے ریٹ مقرر نہ کرنے کی وجہ سے بعض ہوٹلوں میں ان سیاحوں کو رہائشی کمروں اور کھانے پینے کی اشیاء میں دو سے تین گناہ زائد رقم وصول کی گئی اس حوالے سے بھی گلگت بلتستان حکومت ہر ضلع کی انتظامیہ کو پابند کریں کہ وہ ہوٹلوں میں سرکاری نرخنامے سے زائد رقم وصول نہ کریں اور زائد رقم وصول کرنے والے ہوٹل مالکان کی لوٹ مار کے خلاف کارروائی کریں اور باقاعدہ طور پر رسپشین میں ہوٹل کے کمروں کا کرایہ نمایاں طور پر آویزاں کریں تاکہ ان کی من مانی ختم ہوسکے اگلے سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے پھر ان خوبصورت مقامات کا رخ کرنا ہے محکمہ سیاحت کی طرف سے گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر ٹورسٹ پیکنک پوائنٹ بنائے گئے ہیں ان کی مناسب دیکھ بال کرنے کی ضرورت ہے اس سال تو ان پیکنک پوائنٹ سے کسی بھی ٹورسٹ نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا حکومت کو ابھی سے ہی ان پیکنک پوائنٹ کی مرمت اور ان میں پورے علاقے کی معلومات فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے اگر محکمہ سیاحت ان ٹورسٹ پیکنک پوائنٹ چلانے کی اہل نہیں ہے تو پورے خطے میں موجود ان پیکنک پوائنٹ کو کسی سیاحت سے دلچسپی رکھنے والی نجی ادارے کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو ان علاقوں کے بارے میں معلومات مل سکے گلگت بلتستان پوری دنیا کا ایک جنت نظیر خطہ ہے اور یہاں کی حکومت اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کریں تو سالانہ لاکھوں سیاح اس جنت نظیر وادی کو دیکھنے ان علاقوں کا رخ کر سکتے ہیں مگر اس حوالے سے اگر سیاحوں کو ان علاقوں کی طرف متوجہ کرانا ہے تو گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو سب سے پہلے یہاں کی سڑکوں کو بہتر بنانے ہونگے ہر ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں باقاعدہ طور پر ٹورسٹ انفارمیشن سینٹر قائم کرنے ہونگے پی ٹی ڈی سی کے ہوٹلوں میں سیاحوں کو سہولتیں فراہم کرنی ہوگی ہوٹلنگ کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور ہوٹلنگ کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو آسان اقساط پر قرضے دینے ہونگے تاکہ ان خوبصورت علاقوں کی طرف دنیا سے سالانہ لاکھوں سیاح آئے ان سیاحوں کی آمد سے گلگت بلتستان کے عوام ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author