نظر انداز کرنے کی پالیسی ختم کی جائے ورنہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں گے، آل کسان کونسلرز چترال

 چترال ( بشیر حسین آزاد )آل کسان کونسلرز اتحاد نے ضلعی اور صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے ۔ کہ 10 دسمبر تک اُن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک نہ کی گئی ۔ تو وہ اجتماعی طور پر کسان کونسلر کی نمایندگی سے استعفیٰ دیں گے ۔ اور صوبائی حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آل کسان کونسلرز اتحاد منظور قادر ، نائب صدر حامد علی شاہ ، جنرل سیکرٹری الطاف احمد ، جوائنٹ سیکرٹری عبدالسمیع اور انفارمیشن سیکرٹری محمد سمیع نے کہا ۔ کہ موجودہ بلدیاتی سسٹم میں وہ عوام کے ووٹوں سے اُن کے مسائل حل کرنے کیلئے کسان کونسلرز منتخب ہوئے ہیں ۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ زراعت اور کسانوں سے متعلق امور کی انجام دہی کے سلسلے میں اُن سے کوئی مشاورت اور رائے نہیں لی جاتی ۔ اور اُنہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ محکمہ زراعت چترال کے زیر انتظام صوبائی حکومت نے گندم کی بیج تقسیم کرنے کیلئے بھیجا تھا ۔ لیکن ادارے کے اہلکاروں نے اُنہیں 2250روپے فی بیگ فروخت کر دیا ۔ جس سے صوبائی حکومت کی انتہائی بد نامی ہوئی ہے ۔ جبکہ کئی بیگ بوائی کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے اب بھی پڑے ہوئے ہیں ۔ اور خراب ہو رہے ہیں ۔ منطور قادر نے کہا ۔ کہ زراعت کے اس کرپشن کی مکمل تحقیقات کی جائے ۔ اور مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کسان کونسلر کا عہدہ کسی اہمیت کی حامل ہے ۔ تو اس کے کام اور اختیارات کا تعین کیا جائے ۔ اور اگر نہیں ۔ تو مزید کسان کونسلرز کو عوام کے سامنے بے وقعت بنانے کی بجائے اس عہدے کو ختم کیا جائے ۔ انہوں نے مقامی این جی اوز پر بھی الزام لگایا ۔ کہ وہ مختلف اشیاء تقسیم کرتے ہوئے کسان کونسلز کو مشاورت میں شامل نہیں کرتے ۔ اس سے اُن کی بددیانتی ظاہر ہوتی ہے ۔ جبکہ محکمہ جنگلات کا ادارہ بھی پودوں کی تقسیم اور پرمٹ کے اجراء میں اُن کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اختیارات اب بھی ضلعی انتظامیہ کے پاس ہیں ۔ اور ہر کام کیلئے نمایندوں کو انتظامیہ سے ہی اجازت لینی پڑتی ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہے ۔ کہ ہم اب بھی آزاد نہیں ہوئے ۔ اور یہ ملک بیوروکریسی کی تحویل میں ہے ۔یا بیوروکریسی صوبائی حکومت کو نا کام بنانے کیلئے بلدیاتی نمایندوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر صوبائی حکومت اپنے سسٹم کی دھجیاں اُڑانے والے بیوروکریسی کی کاروائیوں سے چشم پوشی کر رہا ہے ۔ تو عوام کو دھوکا دینے میں صوبائی حکومت بھی شامل ہے ۔ انہوں نے 10دسمبر تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ۔ کہ اُن کے مطالبات پر عملدر آمد نہ کیا گیا ۔ تو چترال کے 104کسان کونسلرز ، یوتھ اور خواتین مل کر استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں گے ۔ اور حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے ۔

آپ کی رائے

comments