نظر انداز کرنے کی پالیسی ختم کی جائے ورنہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں گے، آل کسان کونسلرز چترال

نظر انداز کرنے کی پالیسی ختم کی جائے ورنہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں گے، آل کسان کونسلرز چترال

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 چترال ( بشیر حسین آزاد )آل کسان کونسلرز اتحاد نے ضلعی اور صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے ۔ کہ 10 دسمبر تک اُن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک نہ کی گئی ۔ تو وہ اجتماعی طور پر کسان کونسلر کی نمایندگی سے استعفیٰ دیں گے ۔ اور صوبائی حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آل کسان کونسلرز اتحاد منظور قادر ، نائب صدر حامد علی شاہ ، جنرل سیکرٹری الطاف احمد ، جوائنٹ سیکرٹری عبدالسمیع اور انفارمیشن سیکرٹری محمد سمیع نے کہا ۔ کہ موجودہ بلدیاتی سسٹم میں وہ عوام کے ووٹوں سے اُن کے مسائل حل کرنے کیلئے کسان کونسلرز منتخب ہوئے ہیں ۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ زراعت اور کسانوں سے متعلق امور کی انجام دہی کے سلسلے میں اُن سے کوئی مشاورت اور رائے نہیں لی جاتی ۔ اور اُنہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ محکمہ زراعت چترال کے زیر انتظام صوبائی حکومت نے گندم کی بیج تقسیم کرنے کیلئے بھیجا تھا ۔ لیکن ادارے کے اہلکاروں نے اُنہیں 2250روپے فی بیگ فروخت کر دیا ۔ جس سے صوبائی حکومت کی انتہائی بد نامی ہوئی ہے ۔ جبکہ کئی بیگ بوائی کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے اب بھی پڑے ہوئے ہیں ۔ اور خراب ہو رہے ہیں ۔ منطور قادر نے کہا ۔ کہ زراعت کے اس کرپشن کی مکمل تحقیقات کی جائے ۔ اور مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کسان کونسلر کا عہدہ کسی اہمیت کی حامل ہے ۔ تو اس کے کام اور اختیارات کا تعین کیا جائے ۔ اور اگر نہیں ۔ تو مزید کسان کونسلرز کو عوام کے سامنے بے وقعت بنانے کی بجائے اس عہدے کو ختم کیا جائے ۔ انہوں نے مقامی این جی اوز پر بھی الزام لگایا ۔ کہ وہ مختلف اشیاء تقسیم کرتے ہوئے کسان کونسلز کو مشاورت میں شامل نہیں کرتے ۔ اس سے اُن کی بددیانتی ظاہر ہوتی ہے ۔ جبکہ محکمہ جنگلات کا ادارہ بھی پودوں کی تقسیم اور پرمٹ کے اجراء میں اُن کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اختیارات اب بھی ضلعی انتظامیہ کے پاس ہیں ۔ اور ہر کام کیلئے نمایندوں کو انتظامیہ سے ہی اجازت لینی پڑتی ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہے ۔ کہ ہم اب بھی آزاد نہیں ہوئے ۔ اور یہ ملک بیوروکریسی کی تحویل میں ہے ۔یا بیوروکریسی صوبائی حکومت کو نا کام بنانے کیلئے بلدیاتی نمایندوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر صوبائی حکومت اپنے سسٹم کی دھجیاں اُڑانے والے بیوروکریسی کی کاروائیوں سے چشم پوشی کر رہا ہے ۔ تو عوام کو دھوکا دینے میں صوبائی حکومت بھی شامل ہے ۔ انہوں نے 10دسمبر تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ۔ کہ اُن کے مطالبات پر عملدر آمد نہ کیا گیا ۔ تو چترال کے 104کسان کونسلرز ، یوتھ اور خواتین مل کر استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں گے ۔ اور حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔