دور حاضر کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں

دور حاضر کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں

110 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر مولانا محمد دین چلاسی

چلاسی نے بار ہا دل میں قصد باندھا کہ کوئی نہ کوئی تحریر لکھی جائے لیکن ہر بار مصروف ہونے کی وجہ سے اس قصد کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہ ہوا۔آج وقت کے اولین فرصت کو غنیمت جان کر قلم کاپی اٹھایا اور لکھنے پر مجبور ہوا۔دل و دماغ میں مختلف موضوعات گردش کر رہے ہیں۔اس لیے کہ ہماری عظمت رفتہ کی داستان تاریخ عالم کا ایک درخشاں باب ہے اس سے ہمیں فراموش شدہ حقیقت کا یقین ہوتا ہے۔

ملت اسلامیہ اقوام عالم کی امام تھی اور دنیا اسکی امامت کو تسلیم کرتی تھی مگر اب کرہ ارض کا چپہ چپہ ہماری گراوٹ ویشی پر نوح کناں ہے یہ باب اظہر من الشمس ہے کہ جب کسی قوم کے ا ہل علم اپنی زمہ داریوں پہلوتہی اختیار کرتے ہیں تو جغرافیہ بھی ان کو یکسر فراموش کر دیتا ہے۔یہ ایک جامع مکمل مدلل مبنی بر حقیقت اور روز روشن کی طرح واضع نظر یہ ہے جس کی تردید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی انکار ممکن ہے آج اگر ہم من حیثیت القوم پر خطر دورا ہے یہ کھڑے جابجا بے علمی کے طوفانوں اور ہزار ہا فتنوں کے زد میں ہیں تو اس میں اہل علم کی دور حاضر کے لاتعداد فتنے ارباب صحافت کے فتنے،امراء اور حکام کے فتنے، سرمایہ داروں اور امیروں کے فتنوں کے اس دور میں علماء کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام الناس کو آگاہ کریں کیوں کہ سب سے بڑا نقصان دنیاوی علوم اور محاصر دنیا کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ اگربنظر عمیق مطالعہ کیا جاتا ہے تو موجودہ دور میں ملت اسلامی کی خسران و تباہی کی بنیادی وجہ علمائے کرام کا عصر حاضر کے مسائل سے بے خبر رہنا ہے

رہتے ہیں دنیا میں اور دنیا سے بلکل بے تعلق ہیں
پھرتے ہیں دریا میں اور کہتے ہیں کہ کپڑوں کو لگے ہر گز نہ پانی

علماء مدارس میں کتنے بچوں کو سالانہ زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ ایک لاکھ، دو لاکھ۔ مگر اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پرائمری سکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد دو سے ڈھائی کروڑ ہے۔ کیا ان کروڑں بچوں کی تعلیم و تربیت علماء کی زمہ داری نہیں ہے؟ کیا اس سے غفلت برت کر علماء فتنوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں!

علماء کی ذمہ داری ہے کہ اپنی مقدور بھر کوششیں دور حاضر کے جدید مسائل کے احکام ان سے اخذ کرنے میں صرف کریں۔ ہر عالم دین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو بتلائے نئے نظریئے کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کیا ہے؟ جدید تجارت اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟ سرمایہ کاری کاجو طریقہ ایجاد ہوا ہے اس کے بارے میں اسلام کا فلسفہ کیا ہے؟ ان تمام تبدیلیوں اور مسائل میں لوگوں کی مکمل رہنمائی کرنا علماء کی زمہ داری ہے۔ جہاں تبدیلیاں کم ہوں گی وہاں علماء کی زمہ داری بھی کم ہوگی۔ جہاں تبدیلیاں زیادہ ہوں گی وہاں علماء کی زمہ داری بھی زیادہ ہوں گی۔ علماء کو حالات حاضرہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وابستگی رکھنی چاہئے تاکہ عوام کے مسائل کو سمجھا جا سکے اور انہیں اسلامی نقطہ نظر سے بہترین حل بتایا جاسکے۔ علماء کی زمہ داری بھی ہے اور دور حاضر کی ضرورت بھی کہ علماء سیاست، صحافت، قیادت، عدالت، حکمت کے میدانوں میں کود پڑیں۔ ان تمام علوم کو علوم اسلامی کے تابع رکھتے ہوئے تحقیق و تجسس کے لیے افق دریافت کریں تاکہ اہل مغرب کو ہم ڈنکے کی چوٹ پر کھ سکیں۔

آفتاب دوراں سے کہ دو اپنی کرنوں کو سھنبال رکھے
ہم اپنے صحراء کے زرے زرے کو خود ہی چمکنا سکھا رہے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔