بلتستان میں تعلیمی تماشا

بلتستان میں تعلیمی تماشا

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 محمد جو نسیم (ریٹا ئر ڈ ہیڈماسٹر)

تعلیم وتدریس ایک قو می فر یضہ ہے ۔جس کا مقصدوطن عزیز کو مستقبل میں قومی تقا ضو ں سے ہم آہنگ مفید اور با صلاحیت شہر ی پیدا کر نا ہے ۔جس کے لئے قومی تعلیمی پا لیسیے مر تب کی جا تی ہے ۔جس کی روشنی میں قومی ادارہ نصا ب سا زی نصا بی کُتب ترتیب دیتا ہے۔تدریسی نظام اور نظام امتحانات کا مر بوط لائحہ عمل طے کر تا ہے جس کے ذریعے معینہ مقا صد کے حصول کی منصوبہ بندی کی جا تی ہے۔اس کی انتظا میہ کی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ مقررہ تعلیمی حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے لئے اپنی ساری صلا حیتں اورتوانائیاں صرف کر ے اور اسے کامیاب بنائے۔لیکن ہما رے خطہ بلتستان کی با ت ہی کچھ اور ہے ۔یہاں کے منتظمین اپنے آپ کو حکو مت کا کل پُر زہ سمجھ کر قومی منصو بہ بندی کے مطا بق ادارے کو چلا نے کے بجا ئے مقامی مصلحتوں کے مد نظر من موجی اندازمیں چلا نا پسند کر تے ہیں۔محکمہ تعلیم بھی اسی انداز فکر کے مطا بق نو نہا لا ن وطن کے تعلیمی عمل سے کھلواڑ کر رہا ہے ۔جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

1۔ ملک بھر میں ایلمنڑی اور سکینڈری سطح کے لئے تعلیمی سا ل اپر یل تا مارچ مقر ر ہے ۔جس کے مطا بق ملک بھر میں ما ہ ما رچ میں ان جما عتوں کا امتحا ن سالا نہ ہو تا ہے اور اپر یل میں نئی کلاس بندی ہوتی ہے اسی نظا م الاوقات کے مطا بق نئی یا تر میم شدہ نصابی کُتب ما رکیٹ میں لا ئی جا تی ہیں ۔لیکن ہما رے ہا ں مقا می انتظا میہ ما ہ نو مبر میں سالا نہ امتحا ن لیتا ہے اور دسمبر میں اعلان نتیجہ کے سا تھ سر مائی تعطیلا ت کر تا ہے ۔یہا ں کے مخصو ص جغرافیائی حا لا ت کے پیش نظر ما ہ ما رچ میں بھی با قا عدہ کلاس ممکن نہیں ۔یوں چار ما ہ کے تعطل کے بعد اپر یل میں کلاسیں شروع ہو تی ہیں اور تعلیمی سال با رہ مہینہ کی بجا ئے اپر یل تا اکتو بر سا ت مہینے کا ہو تا ہے جس میں سے موسم گر ما کی تعطیلا ت ، محرم اور دیگر مقا می چھٹیوں کو منہا کر یں تو بمشکل چھ مہینے رہ جا تے ہیں اس آدھے وقت میں سا ل بھر کا تعلیمی کو رس مکمل ہو نا ممکن نہیں ۔پھر ما ہر ین تعلیم کے مطا بق ابتدا ئی جما عتوں میں جب تک اعا دۂ کورس نہ ہو طلباء و طالبا ت کا تعلیمی اکتساب تسلی بخش نہیں ہو تا ۔یوں یہ تعلیمی دورانیہ بالکل نا قص اور نا مکمل ہے ۔بجا ئے اس کے اپر یل تا ما رچ کا قومی تعلیمی سال اختیار کر نے کی صورت میں نو مبر کے آخر تک تد ریس نصا ب بحسن و خو بی انجام پا سکتا ہے اور سرما ئی تعطیلا ت کے دوران سکینڈری کلاسز کی طرح دیگر جما عتوں کے طلبا ء و طا لبا ت اعا دہ اور امتحان سالانہ کی تیا ری کر سکتے ہیں۔یو ں اعتماد کے سا تھ ماہ ما رچ میں سا لا نہ امتحان دے کر اگلی جما عت میں تر قی پا سکیں گے ۔

اس جا مع تعلیمی سال کی بجا ئے مقا می اختراعی سال کے پس پر دہ یہا ں کے چند تسہل پسند اشرافیہ کا یہ شوق کا ر فر ما ہے کہ وہ سردیوں میں با ل بچوں سمیت نیچے کے گرم شہروں میں جا ٹھہریں۔اور بچے سکو ل اور کتا بوں کے جھنجٹ سے آزاد مو ج مستیاں کر تے پھریں ۔چا ہئے وہ تعلیمی اعتبار سے کتنے ہی نقصا ن دہ کیو ں نہ ہو ۔تعلیمی اصولوں کے مطا بق ابتدا ئی طلبا ء کے لئے اصول مصروفیت ،اصول تکرار و اعادہ کتنی ضروری ہیں وہ ما ہر ین جا نتے ہیں ۔سطحی علم رکھنے والے درمیانی طبقہ کیا جا نے ۔اس کا احسا س محکمہ تعلیم کو ہو تا چا ہئے کہ وہ قومی پا لیسی سے ہم آہنگ تعلیمی پرو گر ام چلا ئے یا مقا می مصلحتوں کی غلا می کر ے۔

2 ۔ گزشتہ ایک دو سا لو ں سے ایک اور تعلیمی کھیل شر وع ہوا ہے ۔جس کے مطا بق ایلمنٹری کلا سز کے لئے سمسٹر کا طرز امتحا ن شروع کیا گیا ہے تعلیم سے وابستہ افراد جا نتے ہیں کہ تر قی یا فتہ مما لک کی دیکھا دیکھی یہ امتحا نی نظا م آج سے دس با رہ سال قبل پور ے ملک میں اختیار کیا گیا تھا ۔لیکن ہما ری معا شر تی پسماندگی اور اسا تذہ کی کمتر تعلیمی اہلیت اور نا پختہ کردارکی وجہ سے دو سا ل کے اندر یہ تحریر نا کام ہوا ۔اور اُسے یو نیو رسٹی اور پو سٹ گر یجو یٹ سطح پر ہی جا ری رکھا گیا ۔جہا ں ہر سمسٹر کے لئے مختلف مضا مین کا کو رس مقرر کیا جا تا ہے ۔جبکہ نچلی سطح کے تمام تعلیمی اداروں میں سا لا نہ امتحانی نظام ملک بھر میں را ئج ہے ۔لیکن یہا ں کے افسران اک الگ دنیا میں آباد ہیں ۔جو قومی نظا م امتحا ن اپنا نے کی بجا ئے ایلمنٹری سطح پر مسترد شدہ سمسٹر رائج کئے ہو ئے ہیں۔ جس کے تحت مقررہ تعلیمی نصا ب کے نصف حصے کا امتحان جولائی میں لیا جا تا ہے ۔جب کہ بقیہ نصف حصے کا نو مبر میں ۔

ما ہر ین تعلیم جا نتے ہیں کہ پرائمری ،مڈل اور سکینڈری سطح کے نصا بی کُتب میں مختلف نکا ت بتدریج اور مر بو ط انداز میں شامل کئے گئے ہیں ۔ہر جما عت کے مختلف مضا مین پچھلی جماعت میں فراہم کر دہ معلومات پر مبنی ہو تے ہیں۔جن سے سال بھر مر بوط رہنا اگلی جما عت کی تعلیم میں ممدو و معاون ہو تا ہے ۔جبکہ نصا ب کے آدھے حصے سے بالکل لا تعلق رہنا اگلے مو ضو ع کی تدریس میں مطلوبہ سابقہ واقفیت مہیا نہیں کر تا ۔اور طلبہ و طالبات کے تعلیم کو نا قص اور تد ریس کو نا کام کر تا ہے ۔اس نظا م کے حق میں یہ دلیل دی جا تی ہے کہ سالا نہ امتحان کے نظا م میں بعض سکولوں میں نصا بی کتب کے آخر ی اسبا ق پو رے نہیں ہو تے ۔جبکہ سمسٹر نظام کے تحت انہیں مکمل کیا جا تا ہے ۔یہ دلیل بذا ت خود نگران عملے کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اگر وہ اپنا فر یضہ دیا نتداری اور احساس ذمہ داری سے ادا کر نا چا ہیں ۔تو مرکزی طور پر رتمام جماعتوں کے سال بھر کے نصا ب کو مختلف مہینوں کے سیلبس میں تقسیم کر ے ۔اور اس کے مطا بق سوالناموں کے ذریعے سکولوں میں رفتار تعلیم کا جا ئزہ لیتے جا ئیں ۔نیز سکولوں میں سہ ما ہی ،ششماہی اور نو ما ہی کے مقا می امتحا نا ت یقینی بنا ئیں اور ان کے نتا ئج سکو لو ں کے پراگرس رپو رٹ کے طور حا صل کر تے جا ئیں تو تدریسی عمل ہر طر ح سے مکمل اور تسلی بخش ہو سکتا ہے ۔

مو جو دہ سمسٹر سسٹم نہ صرف تدریسی اعتبار سے نا قص ہے ۔بلکہ بچوں اور والدین کے تعلیمی اخراجا ت میں نا روا اضا فہ بھی ہے ۔طلبہ سے اس طرز امتحان کے دونوں سمسٹر کے لئے سا لا نہ رجسٹر یشن اور امتحانی اخراجا ت کے مد میں مڈل سطح پر بحسا ب 900/ روپے فی طالب علم اور پرائمر ی بو رڈ کے لئے 700/ روپے فی طا لب علم لیا جا تا ہے ۔جس کی مجمو عی رقم ہر ضلع میں لا کھوں روپے بنتی ہے ۔اس بھاری رقم کے اخراجا ت کے لئے نہ محکمانہ احتسابی نظام ہے۔ نہ عوامی سطح پر کو ئی رد عمل ۔ع ۔ نا طقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے؟

سو چنے کی با ت یہ ہے کہ ہمارا معا شرہ پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اجتما عی فکر سے کیوں اتنا تہی دامن ہو چکاہے ؟کہ ایسے اہم امورپر غور کر نے کی نہ محکمہ بھر میں کسی کو فکر ہے۔نہ عوامی نما ئندگا ن ،معززارکین جی بی اسمبلی اسے در خور اعتناسمجھتے ہیں ۔خا ص طور پر جنا ب صو با ئی وزیر تعلیم صاحب اور جنا ب سکریڑی تعلیم کو اس طر ف تو جہ دینی چا ہئے ۔اگر وہ اس نظام کو بہتر تعلیمی حکمت عملی سمجھتے ہیں تو اسے دیگر اضلا ع میں بھی رائج کر یں ورنہ اس تجا ہل عا رفا نہ کا کیا مطلب ؟

3۔ سکینڈری سطح کے امتحا نا ت کے لئے ملک بھر میں امتحا نی بورڈ قا ئم ہیں ۔ان تمام کے چےئر مین کی کمیٹی ہے۔جو وقتا فوقتا اجلاس منعقد کر تا ہے اور ان کی سفارشا ت کی روشنی میں امتحا نی اصلا حا ت اور سکیم آف سٹیڈیز آزما یا جا تا ہے ۔لیکن گلگت بلتستان میں یہ کام قراقرم یو نیورسٹی کے سپرد ہے ۔جس کا سکینڈری سطح کے نصا ب سے کوئی واسطہ نہیں ۔نہ ان کا چےئر مین بورڈ کمیٹی میں گزر ممکن ہیں ۔جس کے ذریعے معمول کے اصلا حا ت سے واقف ہو ں۔یو نیو رسٹی شا یدایسے اصلا حا ت کے Notifications))کے لئے فیڈرل بورڈ اسلام آبادکا دست نگر رہتا ہے ۔جس کا تجر بہ مجھے اپنی پیشہ وارنہ زند گی میں کئی با ر ہو اہے ۔حال کا واقعہ ہے کہ مذکو رہ کمیٹی کے فیصلے کے مطا بق تعلیمی سال 2016–18 سے مطا لعہ پا کستان اور اسلا میا ت لا زمی کے دونوں مضا مین کا 9thاور 10thکے دونوں کلا سوں میں 50,50نمبر کے پر چہ کا فیصلہ کیا تھا ۔اس کا Notification))فیڈ رل بو رڈ کے ویب سا ئٹ سے یکم جون 2015سے دستیا ب تھا ۔قبل ازیں کلا س نہم میں اسلا میا ت لا زمی اور کلا س دہم میں مطالعہ پاکستان کے 75,75نمبر کے پر چے ہو تے تھے ۔احقر نے اپنی معلومات مقا می ہیڈ ما سٹر صا حب سے ما ہ مارچ 2016 میںshareکی تھی جس پر انہوں نے جو اب دیا کہ ہمیں ابھی تک ایسی کو ئی اطلاع نہیں آئی ہے۔ کہ اس کے مطا بق ٹا ئم ٹیبل مر تب کیا جا ئے ۔جس پر میں نے کہا قراقر م یو نیو رسٹی ایسے Notificationتعلیمی سال کا نصف حصہ گز رنے کے بعد دیا کر تا ہے ۔اور یہی واقع ہو گیا ۔موسم گر ما کے تعطیلا ت کے بعد سکول میں Notifications))آیا اور ما ہ اگست کے بعد ٹا ئم ٹیبل تبدیل کر کے اس مضمون کی تدریس شروع ہو ئی ۔

اس سے ظا ہرہو تا ہے کہ ہمارا یہ علا قہ تعلیمی تگ دو میں کن نا مساعد حا لا ت کا شکار ہے۔متعلقہ افراد پیشہ وارنہ لگن ،احساس ذمہ داری اور قومی سوچ سے کتنے تہی دامن ہیں ۔ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد صرف معا شی فوائد سمیٹنے کے در پے ہیں چا ہئے اس کی کتنی ہی قیمت چکا نی پڑے ع

بر یں عقل ودانش ببا ید گر یست۔

ضرورت اس با ت کی ہے کہ ہم پسماندہ اور اجڈ معاشر ے کے افراد کی طرح خود غرضا نہ انداز فکر ، انفرادی فوائد اور سطحی سو چ سے باہر نکلیں ۔اور سما جی فلا ح ،علاقا ئی فکر اور ملی احساس کے ما لک ہوں ۔نو نہا لان قوم کا تعلیمی درد رکھنے والے حضرات ان معاملات میں دلچسپی لیں۔سب سے زیادہ ذمہ داری محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے ارباب اختیار کا ہے کہ وہ مندرجہ بالامعروضات پر غور کریں۔اور اگر اس میں کو ئی بھلا ئی نظر آئے تو یہا ں کے راہ گم کردہ تعلیمی عمل کو دوبارہ قومی دھارے میں لے آئیں۔جو ان کے فرائض منصبی میں شا مل ہے ۔اور اسی میں طلبہ کا بہتر تعلیمی مستقبل اور قومی فلا ح و تر قی کا راز مضمر ہے ۔

ایک طرز تغا فل ہے سو ان کو مبارک
ایک عر ض تمنا ہے سو ہم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔