معیار تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی ڈائریکٹر شگر کا تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب

معیار تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی ڈائریکٹر شگر کا تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب

51 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری) ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم ضلع شگر عبدالحمید نے کہا ہے کہ کوالٹی ایجوکیشن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور محکمہ تعلیم گلگت بلتستان معیاری تعلیم کو عام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ایکسل پبلک سکول تسر کی سالانہ نتائج کے اعلان اور تقریب تقسیم انعامات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیم کو عام کرنے کے سلسلے میں بچوں کو کتابیں بھی مفت میں دینے کا فیصلہ کیا ہے اور تعلیم کو عام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں شعور کو اجاگر کیا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم شگر اپنی بساط کے مطابق بہتر تعلیم کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے اس حسین ترین وادی میں سکول تو موجود ہیں مگر اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ان کا کہنا تھا کہ ضلع کھرمنگ کے مقابلے میں ضلع شگر میں اساتذہ کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور منظور شدہ سکولوں کی تعداد بھی بہت کم ہے جس کے باعث تعلیمی میدان میں شگر پیچھے ہے تاہم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہم سب کو جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے شگر میں178سرکاری سکو ل ہیں ان میں سے صرف 88سکولز منظور شدہ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں کھرمنگ میں سب سے چھوٹا ضلع ہونے کے باﺅجود ڈھائی سو سے زائد اساتذہ تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شگر کے نمائندوں کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کریں اور عوام بھی اپنے اندر تعلیمی شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں اور نمائدوں کی مدد سے علاقے میں تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کریں تاکہ علاقے سے ناخواندگی کا خاتمہ ہو اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولاناابراہیم زاکری نے کہا کہ علاقے میں تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی سے طلباءکو ایک اچھا انسان بنا سکتا ہے جس کے لئے اساتذہ والدین کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر اساتذہ اپنی پیشے کے تقدس کو بحال رکھتے ہوئے بچوں پر توجہ دیں تو معیار تعلیم عام ہوسکتا ہے ساتھ ہی والدین بچوں کی تربیت اور تعلیم کی جانب متوجہ ہوں اور معاشرے میں بھی تعلیم یافتہ افراد کی قدر کرنے لگیں تو تعلیم عام ہونے میں دیر نہیں لگتی ان کا کہنا تھا کہ تعلیم سے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے میں ان تینوں برابر کے شریک ہوتے ہیں کیونکہ اساتذہ اپنے پیشے کی تقدس سے واقف نہیں تو والدین کو یہ نصیب نہیں کہ اپنے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی لے ساتھ ہی معاشرے میں پڑے لکھے اور ان پڑھ لوگوں میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی بھی بچہ تعلیم کی طرف دل سے توجہ نہیں دیتے لہذا ہم سب کو مل کر گلگت بلتستان میں تعلیم کو عام کرنے کے لئے کوشیش کرنا ہوگا کیونکہ تعلیم ایک شہری کا حق ہے

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے العارف پبلک سکول سکردو کے پرنسپل حسن نقی نے کہا کہ شگر کے بچوں میں ٹیلینٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اگر ان پھول جیسے بچوں کی تعلیم پر زرہ برابر توجہ دیں تو یہ دنیا بھر میں گلگت بلتستان کا نام روشن کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ایکسل پبلک سکول تسر علاقہ تسر کا اکلوتا سکول ہے اور میں سکول انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں تمام تر نامساعد حالا ت میں تسر جیسے دور افتادہ علاقے میں اس سکول کو شروع کرکے تسر میں معیاری تعلیم کو عام کرنے کے سلسلے میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چائیے کہ وہ اس سکول انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کریں انہوں نے کہا کہ حالانہ سکول کے مالک یہ رقم کسی کو جگہ لگا دیتے تو انہیں زیادہ منافع ملتا مگر انہوں نے اپنی جمع پونجی سے کاروبار کرنے کے بجائے یہ سرمایہ قوم پر لگا دیا ہے جس پر علاقے کے عوام بھی ان کے شکر گزار ہونا چائیے انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم صرف نوکربننے کے لئے نہ دلوائیں بلکہ انہیں انسان بنانے کے لئے تعلیم کی طرف راغب کریں کیونکہ صرف تعلیم حاصل کرنے سے ہی انسان نہیں بنتا بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے کیونکہ تربیت کے فقدان کے باعث اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی دہشت گرد بنتے ہیں اور دہشت گردوں کے گروہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں ہے اس لئے والدین اور اساتذہ کو چائیے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دی جائے تاکہ معاشرے سے تمام برائیوں کا خاتمہ ہو اس موقع پر سکول کے پرنسپل نے سالانہ نتائج کا اعلان کردیا

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرنسپل نجیب اللہ نے کہاکہ ضلع شگر کے دور افتادہ گاوں تسر میں ایکسل پبلک سکول کے نام سے یہ ادارہ 2014میں قائم کیا گیا اس وقت طلباءکی تعداد صرف 50تھے تیسری کلاس تک پڑھاتے تھے تاہم علاقے کے تعلیم دوست عوام کی تعاون سے تین سال کے اس مختصر عرصے میں نہ صرف پانچویں کلاس تک بچوں کو پڑھانے میں ہم کامیاب ہوئے بلکہ طلباءکی تعداد میں بھی اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ سکول کے اساتذہ کی دن رات کی محنت کا نتیجہ یہ ہے کہ سکول کا نتائج 98فیصد آیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اساتذہ کی محنت کے ساتھ علاقے کے عوام بھی ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے تاکہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو ۔دوران تقریب مشہور ڈرامہ آرٹس اقبال کائینات اور ان کی ٹیم نے تعلیم سب کا حق کے عنوان پر ایک ڑرامہ پیش کیا گیا جسے تمام سامعین سے سراہا ۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔