انجینئرنگ فیکلٹی کے لیئے زمین کی حدبندی کا تنازعہ حل، 4جنوری کو بنیاد رکھی جائیگی

گلگت ( پ ر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ترجمان نے چھلمس داس میں انجینئرنگ فیکلٹی کی تعمیر کے حوالے سے منفی بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجینئرنگ فیکلٹی نہ صرف گلگت بلکہ پورے خطے کے عوام کیلئے حکومت کی جانب سے ایک عظیم تخفہ ہے۔ منصوبے کے آغازمیں ہی ایسے منفی بیانات خطے کے مفاد میں نہیں۔

ترجمان نے کہاکہ یونیورسٹی کو حکومت کی جانب سے 2002ء میں چھلمس داس کے مقام پر 1697کنال اراضی الاٹ کیا گیا اوریہ یونیورسٹی کی قانونی ملکیت ہے۔ بعدمیں اس اراضی کی حدبندی کے حوالے سے تنازعہ شروع ہوا۔ وہاں کے مقامی لوگوں کا دعویٰ تھا کہ 1697کنال سے زائد رقبے پر یونیورسٹی کا تصرف ہے۔ لہذا نئی حد بندی کی جائے۔ مقامی لوگوں کے اس مطالبے پریونیورسٹی بھی نئی حدبندی پر رضامند ہوگئی ۔ صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، فورس کمانڈر میجر جنرل احسان محمود، چیف سیکریٹری جی بی کیپٹن ریٹائرڈ محمد خرم آغا، علاقے کے عمائدین ، علماء، زعماء، ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور کاوشوں سے نئی حدبندی کا معاملہ احسن طریقے سے انجام پایا۔ ہم وزیراعلیٰ، فورس کمانڈر، چیف سیکریٹری سمیت ان تمام افراد اور اداروں کے نہایت مشکور ہیں۔ انشاء اللہ اس عظیم منصوبے کی سنگ بنیاد 4جنوری کو رکھی جائیگی۔

سنگ بنیاد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان رکھیں گے اور منصوبے پر فی الفور کام کا آغاز ہوگا۔ انشاء اللہ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے کے نوجوانوں کیلئے تعلیم کی نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی منظوری سے بی ایس مائننگ انجینئرنگ پہلے ہی شروع کئے جاچکے ہے اور انجینئرنگ فیکلٹی عمارت کی جدید طرز تعمیر سے خطے میں معیاری انجینئرنگ تعلیم کو وسعت اور ترقی ملے گی۔ ترجمان نے کہا کہ انجینئرنگ فیکلٹی کی تعمیر وائس چانسلر کی اولین ترجیحات میں شامل تھیں۔ عالمی سطح کے مایہ ناز انجینئر ہونے کے ناطے ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ اس فیکلٹی کوایک منفرد شعبہ بنائیں گے۔ اسی طرح رہائشی ہاسٹلز، سپورٹس جمنازیم، کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر بھی حتمی مراحل میں ہے۔ وویمن کیمپس کا قیام بھی زیر غور ہے۔ انشاء اللہ ان منصوبوں کی تکمیل سے خطے میں تعلیمی انقلاب آئیگا۔ ترجمان نے ترقی کی اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کی شدید مذمت کی اوراسے ذاتی مفاد کیلئے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچانے کے متراد ف قرار دیا۔ قراقرم یونیورسٹی ایسے عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments