دیامر انشاء اللہ ایجوکیشن، ہیلتھ اور بجلی کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔ صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ و امور نوجوانان ثوبیہ جبین مقدم

دیامر انشاء اللہ ایجوکیشن، ہیلتھ اور بجلی کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔ صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ و امور نوجوانان ثوبیہ جبین مقدم

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (مجیب الرحمان) صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ و امور نوجوانان ثوبیہ جبین مقدم نے دیامر پریس کلب کے صدر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر کے عوام کی 70سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کی بھر پور کوششیں جاری ہیں۔اپنے پانچ سالوں میں دیامر کے عوام کی بنیادی ضروریات صحت اور ایجوکیشن میں بہتری جبکہ بجلی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔گونر فارم اور گوہر آباد میں پچھلے کئی سالوں سے دس بیڈڈ کے دو ہسپتال عدم توجہی کے باعث تکمیل تک نہیں پہنچائی گئیں۔جس کی وجہ سے عوام صحت کی سہولیات سے یکسر محروم تھے۔عوام کو درپیش مسائل کے پیش نظر ذاتی طور پر سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری ورکس کے ساتھ ملکر ان ہسپتالوں کو مکمل کروانے کے لئے کام کا آغاز کر دیا ہے۔اور وزیر اعلیٰ کی مشاورت سے سکیم کو ریوائز کر والیا ہے۔تمام قانونی تقاضے مکمل کر کے وزیر اعلیٰ کی منظوری سے 2017میں دونوں ہسپتالوں کو مکمل کر کے عوام کے لئے تحفہ دینگے۔

گوہر آباد کے انتہائی پسماندہ ترین علاقے لیچر کو سابقہ ادوار میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ۔اب تک وہاں کی عوام کو دریا پار کرنے کے لئے پل نہیں ہے۔لوگ جھولے کے ذریعے زندگی اور موت کی کشمکش میں آمد ورفت پر مجبور ہیں۔ان کی مجبوری کے پیش نظر پل کے لئے مزید دو کروڑ تیر تالیس لاکھ روپے مختص کروائے ہیں۔جلد ہی ٹینڈر کروا کر پل کی تعمیر مکمل کروا دی جائے گی۔رائیکوٹ مٹھاٹ میں بجلی گھر کی سکیم سابقہ ادوار میں رکھی گئی تھی مگر اس پر عملی کام نہ ہونے کی وجہ سے سکیم ہی ختم کر دی گئی تھی۔وزیر اعلیٰ سے اس سکیم کے لئے دو سو بہتر ملین کی باقاعدہ منظوری لے لی ہے۔جلد ہی ٹینڈر کروا کر 1.5میگا واٹ پن بجلی گھر کی تعمیر مقررہ مدت میں مکمل کروا کر عوام کو اندھیروں سے نجات دینگے۔انہوں نے کہا کہ رائیکوٹ ہی میں 0.6میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بڑھا کر 1.2میگاواٹ کروانے کے لئے انیس کروڑ نوے لاکھ روپے مختص کروائے ہیں۔گیس بنگہ نالے میں ون میگا واٹ بجلی گھر کو بھی 2017میں ہی مکمل کروا دیا جائے گا۔بجلی گھروں کی ٹرانسمیشن لائنوں اور پولز کے لئے بھی فنڈز مختص کروائے ہیں۔پاور ہاؤس کی تکمیل تک پولز اور تاروں کا کام بھی مکمل ہو جائے گا۔جس کے بعد گوہر آباد کا کوئی علاقہ اندھیرے میں نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے انکے دور میں دیامر ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو۔اور امید ہے دیامر انشاء اللہ ایجوکیشن ،ہیلتھ اور بجلی کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔