ممبران اسمبلی طاقت ور بیوروکریسی سے اپنے تجویز کردہ منصوبوں کو پاس کرنے میں بے بس نظرآتے

یاسین (معراج علی عباسی ) گزشتہ ڈیڑھ سال میں ایک بھی اے ڈی پی منظور نہ ہونا منتخب عوامی نمائندوں کی افسرشاہی کے سامنے بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے صوبائی حکومت کے قیام کو ڈیڑھ سال کاعرصہ گزرگیا ۔ گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت نے اپنے اقتدار کے دو ران دوترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا مگر پیش کردہ بجٹ کے ثمرات اپ تک عوام کو میسرنہ ہوسکا۔ علاقے میں ترقیاتی عمل جمود کا شکار ہے ۔انتخابات کے دوران گلگت بلتستان کو تعمیرترقی کے راہ پر گامزن کرنے کے دعویدار ممبران گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ڈیڑھ سال کا عرصہ صرف سیاسی اعلانات میں گزاردیا ہے ۔صوبائی اسمبلی کے ممبران کے کمزور پالیسوں کے باعث علاقے کی تعمیرات وترقی روکا ہوا ہے۔ ممبران اسمبلی کے مطابق وہ اپنے سالانہ اے ڈی پی بروقت جمع کرایا ہے مگرگلگت بلتستان کے طاقت وار بیوروکریسی سے اپنے تجویز کردہ منصوبوں کو پاس کرنے میں بے بس نظرآتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments