صاف پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے مرکزی شگر میں سات فیصد افراد ہیپیٹائٹس میں مبتلا ہیں

شگر ( عابد شگری) ضلع شگر میں ہپیٹائٹس کی مرض میں دن بدن ہوشرباء اضافہ ہوتا جارہاہے۔شگر سنٹر میں دس میں سے ایک شخص اس مرض میں مبتلاء ہے۔ مناسب تشخیص اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔

گذشتہ دنوں شگر ٹورزم ایسوسی ایشن اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے 550 افراد کے خون کے نمونے لیے گئے، جن میں سے  37افراد ہیپٹائٹس میں مبتلا پائے گئے، جوکہ تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔

اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شگر ڈاکٹر سید صادق شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس مرض کی اصل وجوہات میں پینے کے پانی کا صاف نہ ہونا،بازاروں میں ملنے والی غیر معیاری اورملاوٹ والی اشیاء کا استعمال،گرم حمام اور نائی شاپ میں صفائی ستھرائی کا فقدان شامل ہے۔ جبکہ حفظان صحت کے مطابق انسانی زندگی نہ گزارنا بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر ایچ سی شگر میں اس مرض کی تشخیص کیلئے مکمل آلات اور سامان موجود ہیں۔ لہذا بغیر کسی فیس کے اس مرض کے بارے میں تشخیص کیلئے ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ضلع شگر کے ہیڈ کوارٹر کی نصف سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔جبکہ ندی نالوں کے علاوہ نشیبی علاقوں کو جانے والے کوہلوں کا پانی بھی آلودہ ہے، کینکہ بالائی علاقوں میں خواتین انہی کوہلوں میں کپڑے دھوتی ہیں، اور کچرا بھی اسی میں پھینکا جاتا ہے۔ شگر بازار میں واقع چکن مذبحہ خانوں سے مرغیوں کی آلائشیوں کو براہ راست ندی نالوں میں پھینکا جاتا ہے بعض گرم حمام کے نکاسی آب کا پانی بھی براہ راست شگر نالہ میں چھوڑا جارہا ہے اور یہ پانی بونپہ،کیاہونگ،مرہ پی ،کوتھنگ،لمسہ ،دسکور،سینکھور اور زنگپا کے لوگ براہ راہ استعمال کرتے ہیں۔جوکہ اس مرض کی پھیلنے کا ایک وجہ ہوسکتا ہے۔

یونین کونسل مرہ پی اور مرکنجہ سے تعلق رکھنے والے رضا کار محمداقبال ،غلام علی اور دیگر نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیپٹائٹس کی مرض میں آگاہی کیلئے گاؤں گاؤں فری میڈیکل کیمپ لگایا جائے اور ندی نالوں میں کپڑے دھونے اور فضلہ جات پھینکنے پر پابندی لگائی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments