بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ ہولڈروں کا بینکوں اور پروگرام ملازمین کے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ ہولڈروں کا بینکوں اور پروگرام ملازمین کے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ ہولڈروں نے بینکوں اور بے نظیر انکم سپورٹ دفتر کے ناروا سلوک خلاف بھر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بے نظیر کارڈ کا وظیفہ ڈاک خانے کے ذریعے ادا کیا جائے۔یابینکوں کو بروقت ادائیگی کا حکم دیا جائے۔ایک مشترکہ اخباری بیان میں بے نظیر کارڈ ہولڈروں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ غریب،نادار،بیوہ یا معذور خاتون اپنا کارڈ کسی مرد کو دیکرسینکڑوں کلومیٹر دور سے چترال بازار میں واقع بینک کے لئے بھیجتا ہے۔بینک کے اے ٹی ایم مشین کے سامنے گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونے کے بعد باری آتی ہے تو کارڈ ہی پھنس جاتا ہے۔پھنسا ہوا کارڈ واپس نہیں ملتا ۔بینک حکام کا کہنا ہے کہ ایک شخص دس سے پندرہ کارڈ لیکر آتا ہے۔کارڈ کی حالت مخدوش ہوتی ہے ،مشین میں پھنسنے کے بعد واپس کرنا بینک کے اختیار میں نہیں۔کارڈ بی آئی ایس پی کے ہیڈکوارٹر بھیجا جاتا ہے یہ بی آئی ایس بی کے دفتر کا اختیار ہے کہ وہ کارڈ کو ضبط کرے یا واپس کرے۔اس میں بینک کا قصور نہیں۔سسٹم ہی غلط بنایا گیا ہے۔دوسری طرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے متاثرین کا موقف یہ ہے کہ ایک بیوہ ،معذور،بیمار یا غریب عورت 3ہزار روپے کیلئے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرے تو اس پر ہزاروں روپے کا خرچہ آتا ہے۔اس کی جگہ ہرگاؤں میں ڈاک خانہ ہے۔یہ رقم ڈاک کے ذریعے تقسیم کی جائے تو سب کا فائدہ ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔