آہ کو چاہیےاک عمر۔۔۔

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد جاوید حیات

اللہ رب کریم نے اس لئے صبر کی تلقین کی اور صبر کے اجر کا ذکر کیا کہ آہ پہنچنے میں دیر لگاتی ہے۔ ویسے مظلوم کی آہ کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، ۔یہ سیدھا دربار ایزیدی میں پہنچ جاتی ہے ۔۔اس لئے اس سے بچنے کی تاکید ہے ۔۔۔۔غالب نے کہا کہ آہ کو اثر کرنے میں اک عمر چاہئیے ہوتی ہے ۔۔۔مگر فانی انسان جلد باز بھی تو تخلیق ہوا ہے ۔۔یہ عجول ہے انتظار اور صبر اس کے لئے عذاب سے کم نہیں ۔۔اس لئے جب آہ کرتا ہے تو توقع بھی کرتا ہے کہ اس کا فوری اثر ہو ۔۔اس لئے آہ کو چاہئے کہ فوری اثر کرے ۔۔ا

غریب عوام آہ کرکے یہ توقع کرتے ہیں کہ اس کا اثر فورا وزیر اعظم پر ہو، اگر نہیں تو کم از کم وزیر ،ایم این اے ،ایم پی اے تک پہنچے۔۔ گودام میں غلہ گندھا ہے پیسے مٹھی میں بند کرکے ایک غریب گودام میں آتا ہے ۔۔گندھا غلہ دیکھ کر آہ کرتا ہے اور توقع کرتاہے کہ یہ آہ وزیر خوراک تک پہنچے گی۔سیکریٹری تک،ضلعی ناظم خوراک تک ،پھر گودام کلرک تک ،پھر ٹھیکہ دارر کو اس کی آہ جھنجھوڑ کر رکھ دیگی ۔۔مگر آہ دیر لگاتی ہے ۔۔سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔۔اسی طرح گودام میں آنا جانا پڑتا ہے ۔۔۔بازار میں دو نمبر کی چیزیں خرید کر خریدار کی ہڈیاں چٹخ جاتی ہیں ۔۔تڑپ اٹھتا ہے ۔۔آہ کرتا ہے مگر آہ خاک میں مل جاتی ہے ۔۔درخواست دھندہ آفیسر کے دفتر کے سامنے انتظار میں کھڑا ہے ۔۔اس کی باری نہیں آتی اس کی آنکھیں کوئی نہیں پڑھتا ۔جانے والے دفتر جاتے بھی ہیں دفتر سے باہر نکلتے بھی ہیں ۔پھر دن ڈھلتا ہے ۔دفتر کی چھٹی ہوتی ہے ۔۔وہ آہ کر تا ہے ۔ اس کی آہ سے نہ دفتر ہلتا ہے اور نہ دفتر میں بیٹھے ہوئے کی کرسی ہلتی ہے۔ کیونکہ آہ کو اثر کرنے میں عمر چاہئے ۔۔ سیاسی لیڈر اپنی من مانیاں کرتا ہے مجبور و مقہور تڑپ اٹھتے ہیں ۔ان کا حق مارا جاتا ہے ان کو محروم کیا جاتا ہے ۔۔ان کی کہیں بھی رسائی نہیں یہ دھندناتے پھرتے ہیں وہ کڑ جاتے ہیں ۔صرف آہ کرتے ہیں ۔اور آہ کو اثر کرنے میں عمر چاہئے۔۔قاتل عدالت میں ڈھٹائی سے دلائل دیتا ہے بچتا ہے مقتول پر آنسو بہائے جاتے ہیں ۔صرف آہ کیا جاتا ہے ۔۔پھر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔۔سیلاب سے گھر تباہ ہوتے ہیں آہ دلوں سے نکلتی ہے بوڑھے کندھوں پر زرعی بینک کا ۵۰ ہزار روپے کا قرض ہے بوڑھا بینک کے سامنے کھڑا ہے ۔۔قرض واپس نہیں کرسکتا ۔۔اگر حکومت قرض معاف کرے تو کئی لوگوں کو کروڑوں روپے معاف ہوتے ہیں حکومت چھوٹے قرضداروں اور بڑے قرض داروں میں فرق نہیں کرتی اگر ایک لاکھ سے کم قرضوں کو معاف کرے توکتنے مجبور دعائیں دیں گے ۔۔بوڑھا مقروض صرف آہ کرتاہے ۔۔آہوں کی بھی اپنی دنیا ہوتی ہے ۔۔اگر آہوں کا دھواں ہوتا تو ہر طرف دھواں ہی دھواں ہوتا ۔۔یہ دنیا دو دن کی آزمائش ہے ۔ اس کو زندگی کہنے والے یاد رکھیں کہ اگر خدانخواستہ کسی کی آہ لگ گئی تو بچنا مشکل ہے مگر آہ کو بھی وقت بے وقت نکلنی نہیں چاہئیے کیونکہ صبر خود ایک صبر آزما امتحان ہے ہر کوئی اس پرچے میں پاس نہیں ہوسکتا ۔۔آہ کو چاہئیے کہ نکلے ہی نہ ۔۔خلق تک آئے اور واپس ہو جائے ۔۔یہ ہم کمزوروں میں مایوسیاں پھیلاتی ہے ۔۔ہماری رگ رگ میں نفرت بھر دیتی ہے ۔۔ہمار ے درمیان فاصلے بڑھاتی ہے ۔ہماری امیدوں کا ٹمٹماتا چراغ بجھا دیتی ہے ۔۔اس لئے آہ کو چاہئے کہ وہ کم از کم دل سے نہ نکلے ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔