معذرت نامہ، دُوریاں، مجبوریاں، بیماریاں

یہ غالباً اپریل وسط کی بات ہے۔ ایک دن دوستِ محترم بلتستان کے نامور محقق جناب محمد حسن حسرت نے فون کرکے بتایا کہ آٹھ اور نو مئی کو سکردو میں حکومت گلگت بلتستان کی زیر نگرانی ایک قومی ادبی میلہ ہونے جا رہا ہے۔ جس میں ملک عزیز کے نامور ادبا، شعرا اور محققین کی ایک کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ جس میں ادبا اور محققین ادب، ثقافت اور سیاحت کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کریں گے جبکہ شعرا اس حوالے سے اپنا کلام لے کے حاضر ہوں گے۔ حسرت صاحب نے بتایا کہ ہماری ایکیڈمک کمیٹی نے مقالہ پیش کرنے کے لیے آپ کا نام تجویز کیا ہے۔ میں نے اس عزت افزائی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے گزارش کی کہ میں اس وقت اپنی دختر نیک اختر کے علاج کے سلسلے میں شہر قائد میں ہوں۔ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ میں حاضر ہوجاؤں۔ مجھے جو موضوع دیا گیا تھا وہ تھا ’’سیاحت کے معاشی اثرات‘‘۔ میں نے حامی بھری لی اور مقالہ لکھا۔ مقالے کا خلاصہ حسرت صاحب، ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ اور موسیٰ سدپارہ صاحب کو الگ الگ ای میل کر دیا۔

دو دن بعد کمشنر بلتستان اور ڈپٹی کمشنر سکردو کی طرف سے ایک دعوت نامہ بھی موصول ہوا۔ اب مقالہ تیار تھا۔ کانفرنس میں شرکت کی تمنا دوچند ہوگئی تھی۔ پلان کے مطابق میری بیٹی کا تین مئی کو آغا خان ہسپتال میں آخری چیک اپ تھا۔ چار مئی کو شاپنگ، پانچ مئی اسلام آباد کی فلائیٹ اور چھ مئی کو اسلام آباد سے سکردو کے لیے فلائیٹ کی بات بھی ہوئی تھی۔ گلگت اور سکردو کے لیے فلائیٹ کا بڑا مسلہ رہتا ہے کبھی بہت رش ہوتا ہے تو کبھی موسم خراب۔ اس لیے ایک دو ہفتے پہلے ٹکٹ لیا جائے تو تسلی ہوجاتی ہے۔ خیر تیاری عروج پر تھی۔ پھر تین مئی کو بیٹی کا چیک اپ ہوا۔ بیٹٰی کے ڈاکٹر نے تین ہفتے مزید رکنے کا کہہ کر سارا مزہ کرکرا کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بچی چلتی نہیں تب تک میں آپ کو اجازت نہیں دے سکتا۔ بچی کا ڈھائی مہینہ پہلے ہڈیوں کا آپریشن ہوا تھا اور اس عرصے میں وہ پلستر میں تھی۔ پلستر ریموف کراکر ابھی دو ہفتے ہوئے تھے لیکن چلنے میں ابھی دُشواری تھی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ پلستر میں رہنے کی وجہ سے رگیں اور ہڈیاں سخت ہو جاتی ہیں اس لیے تین ہفتے تک فزیو تھراپی اور ایکسرسائز کرانا ضروری تھا۔ سو ہمارا سکردو کا پلان کٹھائی میں پڑ گیا تھا۔ اب مسلہ یہ تھا کہ یہ بات حسرت صاحب کو کیسے بتایا جائے کہ میں سکردو نہیں آسکتا۔ اب تو کانفرنس کے لیے دن بھی کم رہ گئے ہیں۔ اب کس کو ری پلیس کیا جائے گا۔ خیر دھڑکتے دل اور لرزتی انگلیوں کے ساتھ حسرت صاحب کا نمبر ملا لیا۔ اور سارے احوال سے ان کو آگاہ کیا وہ کچھ خاموش رہے پھر فرمانے لگے کہ کریمی صاحب اب دن اتنے کم رہ گئے ہیں کون نیا مقالہ لکھنے کے لیے تیار ہوگا۔ اگر کوئی تیار ہوگا بھی تو معیاری مقالہ لکھ سکے گا۔ بڑی مشکل سے اکیڈمک کمیٹی نے کچھ مقامی دانشوروں کو بڑی چھان بین کے بعد مقالہ پیش کرنے کے لیے فائنل کیا تھا۔ اب کیا کیا جائے۔ میں نے کہا محترم بچی کی بیماری کا مسلہ نہ ہوتا تو میں ہر صورت پہنچنے کی کوشش کرتا۔ پھر بھی مقالے کا مسلہ ہے تو میں اپنا مقالہ بھیجتا ہوں آپ کسی سے پڑھوائے۔ انہوں نے کہا کہ میں اکیڈمک کمیٹی سے بات کرتا ہوں اور میں کوشش کرتا ہوں کسی کو ری پلیس کرنے کی۔ پھر شام کو فون کرکے کہا کہ ہم نے ری پلیس کر دیا ہے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور بار دیگر کانفرنس میں شرکت نہ کرے پر معذرت کی۔

کبھی کبھی دوریاں اور مجبوریاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں لیکن ان دوریوں اور مجبوریوں کے ساتھ بیماریاں بھی ہوں تو سمپلی انسان بے بس ہوجاتا ہے۔ اُمید ہے میرے دوست محمد حسن حسرت صاحب، محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ اور اکیڈمک کمیٹی کے دیگر افراد درگزر فرمائیں گے۔

آج کانفرنس کا دوسرا دن ہے۔ اور وہ بھی سکردو جیسی خوابوں کی سرزمین میں۔ اور ہم ٹھہرے شہر قائد میں پردیس۔ سکردو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا شہر قائد کی ہڈیوں بلکہ گودوں تک اثر کرنے والی گرمی سے موازنہ کیا جائے تو انسان کے احساسات میں قدرے تشکر کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ اللہ پاک نے خطہ جمال و کمال گلگت بلتستان کو کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے۔ پھر زبان بے ساختہ یہ آیت رود کر رہی ہوتی ہے کہ

فَبِأَیِّ آلَاء رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ۔ (سورۂ رحمٰن)

ادب، ثقافت اور سیاحت کے حوالے سے یقیناً اس طرح کی کاوشیں قابلِ رشک ہے جس کے لیے حکومت گلگت بلتستان مبارک باد کی مستحق ہے۔ کانفرنس کے منتظمین، اکیڈمک کمیٹی اور ٹوریزم ڈپارٹمنٹ کے بڑوں سے گزارش ہے کہ وہ اس کانفرنس میں پڑھے گئے مقالے اور شعرا کے کلام کو کتابی صورت دے تاکہ اس سے نہ صرف ہمارا ادب اور ادبی اثاثے میں اضافہ ہوگا بلکہ ادب، ثقافت اور سیاحت کے فروغ میں بھی یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔

نوٹ: کانفرنس کے لیے لکھا گیا مقالہ بہت جلد آپ کی بینائیوں کی نذر ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments