چترال: آل ایمپلائز کو آرڈنیشن کو نسل چترال نے صوبائی قیادت کی یقین دہانی پر احتجاج اور ہڑتال تاحکم ثانی موخر کردیا

چترال ( بشیر حسین آزاد ) آل ایمپلائز کو آرڈنیشن کو نسل چترال نے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی یقین دہانی کے بعد ملازمین کی صوبائی قیادت کے حکم پر تا حکم ثانی اپنا احتجاج اور ہڑتال موخر کر دی ہے ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کلرک ایسوسی ایشن و آل ایمپلائز کو آرڈنیشن کونسل ضلع چترال امیر الملک نے کہا ۔ کہ صوبائی صدر وچیئرمین اسلام خان نے ہمیں ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ سراج الحق اور مظفر سید سے مذاکرات جاری ہے اور انہوں نے یقین دلایا کہ پندرہ دن کے اندر ہم یہ مسئلہ حل کریں گے۔اس سے پہلے بھی یہ مطالبہ جناح پارک میں کیا گیا تھا جہاں آسد قیصر صوبائی حکومت کے نمائندوں نے یقین دہانی کی تھی کہ نوٹفیکیشن جاری کیا جائیگا مگر بعد میں وزیر اعلیٰ نے اسے مسترد کیا ۔اور اب دوبارہ ہیلتھ دپارٹمنٹ میں چترال کے کلرکل اسٹاف ، آئی ٹی اسٹاف ، ٹیکنکل اور نان ٹیکنکل اسٹاف ، سنیٹیشن اور دیگر کلاس فور ملازمین نے دو دن جمعرات اور جمعہ کے دن ہڑتال اور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جو کہ صوبائی قیادت کی یقین دہانی کے بعد موخر کردیا گیا۔اُنہوں نے کہا ہم سارے ملازمین تحریک انصاف کے صوبائی قیادت سے توقعات رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے مراعات میں بھی اضافہ کرینگے۔کیونکہ صوبائی حکومت نے دوسرے محکموں کے ملازمین کے مراعات میں اضافہ کیا ہے۔پی ٹی آئی کی انصاف کی دعویدار حکومت کا یہ کیسا انصاف ہے کہ گریڈ 17سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہیں لاکھوں میں ہے اور اُن میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ کلرک ملازمین کی مراعات میں اضافہ نہیں کیاجاتا جوکہ انصاف کے منافی ہے۔ چترال کے کلرکل اسٹاف ، آئی ٹی اسٹاف ، ٹیکنکل اور نان ٹیکنکل اسٹاف ، سنیٹیشن اور دیگر کلاس فور ملازمین کیلئے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا حصول انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور ان مراعات کے حصول تک صوبائی قیادت کی ہدایات کے مطابق احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اور بھرپور احتجاج کی تیاری جاری تھی۔ کہ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید اور سراج الحق نے ملازمین کی صوبائی قیادت سے گفت وشنید کرکے یقین دہانی کرائی ہے ۔ کہ پندرہ دنو ں کے اندر یہ مسئلہ حل کیا جائے گا ۔اس لئے چترال آل کو آرڈنیشن کونسل برائے ملازمین اپنا احتجاج صوبائی قیادت کے حکم پر ملتوی کرتی ہے ۔ اگر پندرہ دنوں کے اندر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا ۔ تو آیندہ کالائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ تو صرف دو دن کی ہڑتال کی کال تھی اگرہڑتال پانج دن کا ہوتھا تو انتظامیہ کوہسپتال میں صفائی نہ ہونے سمیت دیگر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے نمایندگان نورولی شاہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، سیکرٹری غازی خان ، محمد الیاس ،محمد قاسم خان صدر کلاس فور محکمہ تعلیم ، مولانا اسماعیل،سراج الدین اور بڑی تعداد میں ملازمین موجود تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments