پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان، مردم شماری اور نئی انتخابی اصلاحات بل مسترد

پشاور(نادرخواجہ سے) انتخابی اصلاحات کے نتیجے میں ضلع چترال کی صوبائی اسمبلی کینشست کے خاتمے کے خلاف ضلع کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور منتخب نمائندوں سول سوسائٹی ، ٹریڈرز ، وکلاء اور صحافی تنظیموں نے سیٹ کی بحالی تک احتجاجی تحریک چلانے اور آئندہ انتخابات کے بائکاٹ کی دھمکی دیدی ہے جبکہ اپنے جائز حق کے حصول کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے اور عدالتی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ منگل کے روز شاہی مہمان خانہ پشاور میں سی ڈی این این کے زیر اہتمام آل پارٹیز کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین ، ایم پی اے سلیم خان ، ایم پی اے سردارحسین ، ایم پی اے فوزیہ بی بی ، ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ ، سی سی ڈی این کے کنوینئر سرتاج احمدخان ، پی ٹی آئی کے رہنما رحمت غازی ، محب اللہ ایڈوکیٹ ، چترال جرنلسٹس فورم کے صدر ذولفقار علی شاہ ، جنرل سیکرٹری نادرخواجہ ، مسلم لیگ (ن) کے محمد وزیر ، سردارحکیم ، قاسم عبدالرازاق ، شہزادہ پرویز اور دیگر معززیں علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں مقررین نے مردم شماری کے عمل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران چترال کے باہر لاکھوں کی تعداد میں مقیم آبادی کو شامل نہیں کیا گیا اور آبادی کے کمی کی بنیاد پر ایم پی اے کی سیٹ کو ختم کرنا چترال کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی مترادف ہے چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے ایک ایم این اے کی موجودگی میں انٹظامی معاملات چلانے میں پہلے مشکلات حائل ہیں جبکہ نئے مجوزہ حلقہ بندیوں میں دیر کی آبادی چترال میں شامل کرنا نہ صرف عوام کے ساتھ ناانصافی لہے بلکہ اس فیصلے کو چترال کے ثقافت کو متاثر کرنے کا اندیشہ تصور کرتے ہیں جس کو چترال کے عوام کسی صورت قبول کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوں گے اجلاس میں مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ عنقریب چترال میں آل پارٹیز کانفرنس بلا کر احتجاجی تحریک کے لئے عوام کو تیار کریں گے جبکہ مقررین نے صوبائی نشست بحال نہ ہونے کی صورت میں آنے والے انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کریں گے اجلاس میں جلد الیکشن کمیشن کو ایک یاداشت پیش کی جائے گی وکلاء کی پینل تشکیل دی گئی ہے جو عدالتی جنگ کے لئے پٹیشن تیار کرکے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔جبکہ خیبر پختولنخوا اسمبلی اور قومی اسمبلی سے بھی قرارداد پاس کرائے جائیں گے۔ اجلاس میں وزیراعظم مجوزہ دورہ چترال کے موقع پر بھی اس مسئلے کو اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments