چلاس میں پانی کی قلت سے شہر کربلا کا منظر پیش کرنے لگاہے۔ علماِ

چلاس(بیوروچیف) علمائے دیامر مولانا محفوظ ،مولانا اکرام ،مولانا رشید ،سی سا ارگنائز دیامر کے رہنماوں عبدالستار،ابوبکرو دیگر نے اپنے الگ الگ بیان میں کہا کہ چلاس میں پانی کی قلت سے شہر کربلا کا منظر پیش کرنے لگاہے۔ گزشتہ دو مہینوں سے چلاس کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ محکمہ واسا کے حکام شہریوں کو وقت پر پانی سپلائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، ضلعی انتظامیہ بھی عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے چھوٹے بڑے تمام ملازمین نے عوام کے بنیادی مسائل پانی اور بجلی کی دگرگوں صورت حال سے انکھیں چورا کر غائب ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ چلاس شہر کے مکینوں کو 24گھنٹوں میں صرف چند گھنٹے پانی ملتا ہے ،جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے،تمام پاور ہاوسس کی مشنری خراب پڑی ہے ،تھرمل جنریٹر محکمہ برقیات کے ذمہ داروں کی غفلت کی وجہ سے خراب پڑا ہوا ہے ،محکمہ برقیات کے حکام تھرمل جنریٹر میں فنی خرابی کے بہانے لاکھوں روپے ماہوار ہڑپ کرلیتے ہیں ،لیکن جنرٰیٹر مستقل طور پر ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔عوام نے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر چلاس میں پانی اور بجلی کا مسلہ حل کرانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں ،تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں ۔

آپ کی رائے

comments