ہلال احمر گلگت بلتستان نے کسی بھی ممکنہ آفت سے نمٹنے کے لئے اپنے سٹاف اور رضاکاروں پر مشتمل ٹیموں کو متحرک کردیاہے

ہلال احمر گلگت بلتستان نے کسی بھی ممکنہ آفت سے نمٹنے کے لئے اپنے سٹاف اور رضاکاروں پر مشتمل ٹیموں کو متحرک کردیاہے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) محکمہ موسمیات کی جانب سے گلگت بلتستان میں شدید بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں سیلاب اور طغیانی کی پیش گوئی کے پیش نظرہلال احمر گلگت بلتستان نے کسی بھی ممکنہ آفت سے نمٹنے کے لئے اپنے سٹاف اور رضاکاروں پر مشتمل ٹیموں کو متحرک کردیاہے۔ ہلال احمر گلگت بلتستان کے صوبائی ترجمان کے مطابق ہلال احمر کی صوبائی سیکریٹری نورالعین کی ہدایت پر ادارے کی تربیت یافتہ ٹیمیں تمام اضلاع میں بارش اور برفباری کے سبب ممکنہ طورپر وقوع پذیر ہونے والی ناگہانی آفات کا جائزہ لے رہی ہیں اور اس حوالے سے ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ اور حکومتی ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ترجمان کے مطابق شاہراہ قراقرم سے متصل ضلع گلگت کے نواحی گاؤں رحیم آبادمیں پہاڑ سرکنے کے ممکنہ خطرات کے پیش نظرضلعی انتظامیہ کی درخواست پر ہلال احمر کی جانب سے مذکورہ گاؤں کے پچیس گھرانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے خیمے، کمبل، ترپال شیٹس، کچن کا سامان اور دیگر بنیادی ضروری اشیاء بہم پہنچائی گئی ہیں جس سے مقامی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم کے تعاون سے مذکورہ گاؤں کے لوگوں کے لئے خیمہ بستی(ٹینٹ ویلیج) بنانے پر کام جاری ہے۔ ہلا ل احمر گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری نورالعین نے بالائی علاقوں میں آباد لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں اور برفباری کے سبب رونما ہونے والے کسی بھی ممکنہ آفت سے محفوظ رہنے کے لئے حکومت، انتظامیہ اور قدرتی آفت سے نمٹنے والے اداروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ آفات کی وجہ سے انسانی جان ومال کو ممکنہ طورپر درپیش خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔