گلگت : جگہ جگہ ناکے لگاک ٹرانسپورٹرز کو تنگ کیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان ڈرائیورز ایسوسی ایشن

گلگت (چیف رپورٹر ) گلگت بلتستان ڈرائیورز ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں موجو کالی بھیڑیوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور انکا قبلہ درست کریں بصورت دیگر انکے خلاف پہیہ جام ہڑ تال کرنے پہ مجبور ہونگے۔ جگہ جگہ ناکے لگاکر ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو تنگ کیا جاتا ہے۔ سابقہ دور میں ریونیو فیس سالانہ 200سے300روپے بڑھتے تھے اور کاغذات مکمل کرکے بروقت ڈرائیوروں کے حوالے کرتے تھے ۔ان خیالات کا اظہار ڈرائیورز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد یعقوب نے ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے ایک اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ریونیو کی فیس میں بے تہاشہ اضافہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا معاشی قتل ہے۔ محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیسکسیشن نے فیس میں کئ گنا اضافہ کیا ہے۔ محکمے والے اب رینویو فیس 9000سے 15000روپے وصول کرتے ہیں جوکہ ڈرائیورزاور ٹرانسپورٹرز کا معاشی قتل ہے اور ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ محکمہ ایکسائیز کے بے لگام گھوڑوں کو کھلی چھٹی دے رکھی گئی ہے اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو سخت رد عمل آئے گا کبھی این سی پی کے نام پہ کبھی ڈبلنگ کے نام پہ جگا ٹیکس لیا جاتا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے آفیسران نے صرف پیسے بٹورنے کیلئے دکان کھولی ہے ۔این سی پی اور دیگر گاڑیوں کے چالان جمع کراکے آتے ہیں تو تین مہینے کا عرصہ دیا جاتا ہے مگر تین ماہ کی بجائے چھ ماں کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments