یاسین :بجلی کی لو وولٹیج، سلطان آباد میں پینے کے پانی کی قلت، دفعہ 144کے باوجود طاوس چوک میں محکمہ برقیات گوپس یاسین کے خلاف شدید احتجاج

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین(معراج علی عباسی ) برقیات گوپس یاسین کے ستائے ہوئے گاوں سلطان آباد کے عوام نے دفعہ144کے باوجود بجلی کی لو ولٹیج کے باعث گاوں میں پینے کے صاف پانی کے لیے نصب شدہ موٹربندہونے سے پینے کے پانی کی قلت طاوس چوک میں محکمہ برقیات گوپس یاسین کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پینے کے صاف پانی کے لیے ترسنے والے سلطان آبادکے عوام نے دفعہ 144کو بھی خاطرمیں نہ لاتے ہوئے چارگھنٹے تک یاسین گلگت مین شاہرہ کو چار گھنٹے تک ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بندکیا۔ ایس ایچ او یاسین محمدولی کے مطابق دفعہ 144کے خلاف ورزی کرنے پر مظاہرین کے قیادت اور لوگوں کو احتجاج پراُکسانے والے 7افراد کے خلاف تھانہ یاسین میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ تاہم ایف آئی آر میں نامزدکسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ برقیات گوپس یاسین کے ستائے ہوے یاسین کے بالائی گاوں سلطان آباد کے سینکڑوں مکینوں نے دفعہ 144کے باوجود باری کے اوقات میں بھی بجلی کی وولٹج کی کمی کے باعث گاوں کو پینے کے صاف پانی پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والی پمپ اسٹارٹ نہ ہونے سے علاقے میں پانی کی قلت کے باعث طاوس چوک کے مقام پر گلگت یاسین مین شاہراہ کو چارگھنٹوں تک مسلسل بلاک کرکے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے محکمہ برقیات سے مطالبہ کررہیں تھے کہ بجلی کی وولٹیج کی کمی کے باعث گزشتہ ایک ہفتے سے گاوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ہمارے ماں بہینں ایک کلومیٹردورپیدل سفرکرکے دریا سے پانی لانے پرمجبور ہے ۔ محکمہ برقیات کو اس حوالے سے تحریری و زبانی طور پرآگاہ کیا مگرکوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ ہمیں مجبوراٰ روڑپر آنا پڑا ہے ۔ دریں اثنایاسین تحصیل انتظامیہ نے مطالبات کے منظوری کے لیے مظاہرین سے ایک دن کا وقت لیا جس پر مظاہرین منتشرہوگئے ۔یاسین پولیس نے دفعہ 144کے خلاف کرنے پر احتجاجی مظاہرین کے قیادت کرنے والے اور لوگوں کو احتجاج پر اُکسانے والے سات افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے ۔تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔