بلتستان: شدید برف باری سے نظام زندگی مفلوج ، تینوں اضلاع کا سکردوسےزمینی رابطہ منقطع، دو معلق پُل منہدم

بلتستان: شدید برف باری سے نظام زندگی مفلوج ، تینوں اضلاع کا سکردوسےزمینی رابطہ منقطع، دو معلق پُل منہدم

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رجب علی قمر ) بلتستان بھر میں طوفانی برف باری نے نظام زندگی مفلوج کردیا ہے۔ ریجن کے چاروں اضلاع میں گزشتہ 18 گھنٹوں سے جاری شدید برف باری نے دنیا بھر سے زمینی رابطہ منقطع کرکے رکھ دیا ہے۔ چاروں اضلاع میں تجارتی مراکز، بازار اور سڑکیں سنسان رہی جبکہ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے سب سے زیادہ برف باری شگر باشہ میں 7 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکردد میں 2 فٹ ،گانچھے میں 4 فٹ اور ضلع کھرمنگ میں 5 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ریجن بھر میں 30 سال کے بعد شدید برف باری نے تمام معمولات زندگی جام کردیا۔ بلتستان کے مرکزی تجارتی شہر سکردو میں دن بھر تمام تجارتی مراکز اور کاروباری سنٹر بند رہے جبکہ سٹرکیں بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے جام رہی۔

کھرمنگ ،شگر اور گانچھے سے بھی سکردو کا زمینی رابطہ دو دن سے منقطع ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلتستان میں طوفانی برف باری کی وجہ سے دو معلق پُل منہدم ہوگئے مہدی آباد پنڈا کے مقام پر واقع لکڑی کا پُل شدید برف باری کی وجہ سے دریا میں گر گیا جس کی وجہ سے علاقے کا سکردو سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ جبکہ نر شگر کے مقام پر واقع رابطہ پُل برف باری کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔ زرائع کے مطابق نر شگر سکردو کے قریب واقع پُل ٹوٹ جانے کے بعد گاؤں کے لوگو ں کا سکردو شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔مہدی آباد پنڈا اور نر شگر کے مقام پر واقع پُل منہدم ہونے کے بعد اہل علاقے کا سکردو سے زمینی رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے علاقے کے لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ متعلقہ پُل ناقص مٹیریل استعمال کرنے کی وجہ سے برف برداشت نہیں کرسکا ہے جس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

چاروں اضلاع میں بجلی کانظام بھی شدید متاثر ہو کررہ گئی۔ ریجن کے مختلف مقامات پر کچے مکانات منہدم ہونے اور سڑکیں بلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ سکردو شہر میں24 گھنٹے سے بجلی بند ہے۔ سکردو شہر میں لوگ دن بھر گھروں اور عمارتوں کے چھتوں سے برف صاف کرتے رہے۔ شہر کی سڑکوں پر بلدیہ کی جانب سے برف ہٹانے کا کام دوپہر کے بعد شروع کیا گیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔