چھٹی مردم شماری اور مختلف حلقوں کے خدشات

چھٹی مردم شماری اور مختلف حلقوں کے خدشات

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کسی بھی ملک کے عوام کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مردم شماری اتنی اہم کیوں ہوتی ہے اور اس کی کے فوائد کیا ہیں ، اس ضمن میں حکومتیں اور دارے مکمل آگاہی مہم چلاتے ہیں اور مردم شماری کی اہمیت کے باعث بعض ممالک میں اس عمل کے دوران انتہائی سخت اقدام اٹھائے جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں اس پر توجہ نہیں ۔
پاکستان کے حالیہ جاری شیڈول کے مطابق چھٹی مردم شماری 15مارچ سے 26مئی تک دو مراحل میں ہوگی ۔کسی بھی ریاست کے لئے ضروری ہے کہ مردم شماری کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں،لیکن بدقسمتی سے ہم پاکستان میں اس تسلسل کو جاری نہیں رکھ سکے۔پاکستان میں پہلی مردم شماری 1951ء ،دوسری 1961ء ، تیسری 1972 ء، چوتھی1981ء اور پانچویں مردم شماری 1998ء میں ہوئی اورچھٹی مردم شماری کے لئے 2008ء سے کوششیں کی جا رہی ہیں مگر مشکلات ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔
ہم نے پانچویں مردم شماری اپنی معینہ مدت کے7سال اور اب چھٹی مردم شماری اپنی معینہ مدت کے 9سال بعد کرانے کی تیاری کر رہے ہیں ،اگر سپریم کورٹ کا حکم نہ ہوتا تو ہم 2017ء میں بھی مردم شماری کرانے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ عالمی قوانین کے مطابق ہر10 سال بعد مردم شماری ضروری ہے، کیونکہ مردم شماری کا تعلق ملکی وسائل کی تقسیم سے لیکر انتخابی حلقوں کی حد بندیوں اور یہاں تک کہ حج کے فریضہ کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم جب ملکی سطح پر مردم شماری کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ملک کے مختلف صوبوں سے اٹھنے والی آوازوں کے بعد چھٹی مردم شماری کا شیڈول کے مطابق انعقاد سوالیہ نشان نظر آرہا ہے ۔مردم شماری کے حوالے سے بلوچستان ، سندھ اور گلگت بلتستان میں شدیدخدشات کا اظہار کیاجارہاہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو کی جانب سے نادرا کو13فروری 2017ء کو لکھا گیاخط انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہاہے کہ نادرا سندھ کے لوگوں کو شناختی کارڈ کی بروقت فراہمی میں ناکام رہاہے اور سندھ میں 30فیصد سے زائد لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ایسی صورتحال میں مردم شماری کے عمل میں 30فیصد لوگوں کی شمولیت سوالیہ نشان بن جائے گی۔
اسی طرح کی باز گشت دیگر حلقوں کی جانب سے بھی سنائی دے رہی ہے ۔سندھ میں سندھی اور اردو کو اپنی مادری زبان کے اندراج کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور سندھ قوم پرستوں کا مطالبہ ہے سندھ میں رہنے والے تمام لوگ’’ سندھی زبان‘‘ کا ہی اپنی مادری زبان کے طور پر اندراج کریں ،اس ضمن میں 14فروری 2017ء کو ملیر میں پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء مولابخش چانڈیو کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں اور قوم پرست تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھی کے اندراج کے حوالے سے زور دیتے ہوئے مردم شماری کی تیاریوں پربعض خدشات کا اظہار بھی کیاگیا۔ ایم کیوایم کے مختلف گروپوں سمیت بعض اردو بولنے والے حلقوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی ، حیدر آباد، میرپور خاص اور دیگر اردو بولنے والے اکثریتی علاقوں کے لوگ بالخصوص میمن ، گجراتی ، بنگالی ، بہاری ، مارواڑی اور دیگر اپنی مادری زبان کے طور پر ’’اردو‘‘کا اندراج کریں۔
دوسری جانب بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ سے 14فروری کو ہونے والی ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے ،جس میں انہوں نے مردم شماری پر شدید خدشات کا اظہا رکیاہے۔ اختر مینگل کے مطابق بلوچستان کے 50فیصدسے زائد لوگوں کا نادرا میں اندراج نہیں ہے، جبکہ بلوچستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ حالات کی سنگینی دیگر مسائل کی وجہ سے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرچکاہے ، مزید یہ ہے کہ دس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو مردم شماری میں شامل کرنے سے بلوچ اقلیت میں بدل جائیں گے۔50فیصد سے زائد افراد کے اندراج ، مقامی لوگوں کی واپسی اور افغان مہاجرین کو مردم شماری سے الگ کئے بغیرہم مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے ۔ اسی طرح کے خدشات کا اظہار بلوچستان کے دیگر حلقوں کی جانب سے بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس ضمن میں 18فروری کو بلوچستان سیاسی ومذہبی جماعتوں قوم پرستوں کا جرگہ بلایاگیاہے، جو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔
سندھ میں بھی مردم شماری کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے مطالبہ سامنے آیا ہے ۔ تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی اوردیگر نے13فروری کو پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ سندھ سے کیا ہے کہ عوامی خدشات دور کرنے کے لئے سندھ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے ۔

گلگت بلتستان کے مختلف حلقے بھی مردم شماری کے حوالے سے خدشات کا اظہارکر رہے ہیں۔جن کا کہنا ہے کہ مردم شماری کیلئے جس وقت کا انتخاب کیاگیاہے وہ انتہائی نامناسب ہے اس موسم میں گلگت بلتستان کی 30سے40فیصد آبادی شہروں میں ہوتی ہے ،جس کا اندراج مقامی سطح پر نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کا تناسب بہت کم ہوگا ، جس کے باعث مختلف شعبوں میں حق تلفی ہوگی ۔مزید یہ کہ گلگت بلتستان کی دونوں بڑی زبانوں ’’شینا‘‘ اور’’ بلتی ‘‘کو باقاعدہ طور پر مردم شماری میں شامل نہ کرکے زیادتی کی گئی ہے۔’’ شینا‘‘ زبان نہ صرف گلگت بلتستان کی سب سے بڑی زبان ہے بلکہ خیبر پختونخواکے ضلع کوہستان ، ضلع چتر ال اور آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں’’شینا ‘‘زبان بولنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔
بروقت اور شفاف مردم شماری کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام اور ادارے تمام لوگوں کے خدشات کو سنیں اور مل بیٹھ کر قانون و آئین کی روشنی میں اس کا حل تلاش کریں تاکہ شفاف اور غیر متنازعہ طریقے سے مردم شماری کا انعقاد بر وقت ممکن ہوسکے ، بصورت خدشات کے تنازعات کی شکل اختیار کئے جانے کاامکان ہے ۔مردم شماری کا کام اگر چہ مکمل طور پر وفاق کاہے ، لیکن تمام صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔