’’اصحا بؓ بھی ہمارے، ہمارا حسینؓ ہے‘‘

تحریر:جمشید خان دکھی ؔ 

آقائے نامدار حضرت محمدؐ کے چھوٹے نواسے ،حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے لخت جگر سید نا حضرت امام حسینؓ کے جشن ولادت کے سلسلے میں 9اپریل 2019کے دن بعد نماز ظہرین مرکزی امام حسینؓ کونسل تھول نگر کے زیر اہتمام امام باڑہ تھول نگر میں ایک پروقارتقریب ہوئی جس میں حلقہ ارباب ذوق(حاذ) گلگت کے احباب کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ محفل میں شرکت کیلئے تنظیم کی طرف سے بھیجی گئی گاڑی میں صدر حاذ پروفیسرمحمد امین ضیاء کی سربراہی میں ہمارا قافلہ تقریباً دو بجے کے قریب تھول پہنچا ۔اس قافلے میں صدر حلقہ کے علاوہ نائب صدر حاذ اور اردو کے معروف شاعر جناب خوشی محمد طارق ،جناب غلام عباس نسیم ،رضاعباس تابش ،آصف علی آصف ، تہذیب حسین برچہ، معروف قلم کار احمد سلیم سلیمی اور راقم جمشید دکھی شامل تھے ۔جب ہم وہاں پہنچے تو پروگرام جاری تھا ۔ہمارے وفد کا امام حسین کونسل تھول کے اہلکاروں نے پرتپاک استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض متعلقہ کونسل کے جناب عباس میر اور شرافت حسین نے سرانجام دیئے ۔ پروگرام میں قومی اور بین الاقوامی شہرت کے حامل منقبت خواں بھی شریک ہوئے ۔ان میں جناب عارف ،کراچی سے آئے ہوئے منقبت خواں سید طرماح زیدی ،جناب جہانزیب اور جناب وجاہت کے نام قابل ذکر ہیں ۔جناب عالم عابدین جوہری اور جناب ناصر عباس انمول نے بھی منقبت خوانی کے جوہر دکھا ئے ۔حاذ کے تمام شعرا نے شنا اور اوراردو میں سلام عقیدت بحضور امام عالی مقام پیش کرکے خوب داد سمیٹی ۔اس پروگرام میں شرکت کیلئے تھو ل آمد پر نگر کے معروف شاعر اور قلم کار جناب اکبر حسین نحوی نے حاذ کے شعرا کا علاقے میں قیام امن ،مذہبی ہم آہنگی ،فروغ ادب اور اتحاد ملت کیلئے کردار کی نہ صرف تعریف کی بلکہ خوبصورت استقبالیہ کلمات سے بھی نوازا ۔انہوں نے اپنے خطاب میں سیرت امام حسینؓ کی پیروی پر زور دیا ۔صدر حلقہ پروفیسر محمد امین ضیاء نے اس موقع پر منظوم کلام پیش کرنے سے پہلے اپنے خطاب میں مرکزی امام حسینؓ کونسل کے عمائدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کا موقع فراہم کیا ۔آخر میں محترم شیخ بلال رہبری نے کلمات تشکر کے ساتھ ساتھ سیرت امام عالی مقام پر بھی روشنی ڈالی اور ان کے بعد شیخ عارف حسین نے اجتماعی دعا کرانے کی سعادت حاصل کی ۔تقریباً ساڑھے چار بجے کے قریب یہ محفل اختتام پزیر ہوئی ۔میز بانوں نے شرکاء کیلئے روایتی کھانے کا اہتمام کیا تھا ۔چنانچہ تناول ماحضر کے بعد ہمارا قافلہ گلگت کیلئے روانہ ہوا ۔یاد رہے کہ اسلامی تاریخ امام عالی مقام حضر ت حسینؓ کے ساتھ سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے پیار و محبت کے واقعات سے بھر ی پڑی ہے ۔کیوں کہ آپ ؐ سیدنا حضرت حسینؓ کے ساتھ غیر معمولی شفقت فرماتے تھے اور روزانہ اپنے نواسوں کو دیکھنے جاتے تھے ۔سیدنا حضرت امام حسینؓ نے اپنے نانا کا دین بچانے کیلئے اپنی اور اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔آپؓ کی قربانیوں کے طفیل دین اسلام ہم تک پہنچا ۔امام عالی مقام کا یہ احسان تمام انسانیت کیلئے ناقابل فراموش ہے ۔بدقسمتی سے عصر حاضر کے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم سب نام کے تو مسلمان ہیں اور ہمارا کوئی بھی عمل دین مبین سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ہم وہ مسلمان ہیں جو اصحاب رسول ؐ اور امام حسینؓ کیلئے جان قربان کرنے کو تو تیار ہیں لیکن ان کی سیرت پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ۔دین اسلام کے یہ روشن ستارے ہم سے جانوں کا نہیں بلکہ سیرت محمدیؐ پر عمل پیرا ہونے کا تقاضہ کرتے ہیں اور اسی مقصد کیلئے ان برگزیدہ ہستیوں نے نہ صرف جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ زندگیاں صرف کیں ۔کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ حسینؓ محبت اور اخوت کا نام ہے اور ہم نفرتیں بڑھارہے ہیں ۔حسینؓ سراسر وفاکا نام ہے اور ہم بے وفائی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔حسینؓ مرکر بھی زندہ ہے اور ہم جیتے جی مُردوں کی سی زندگی گزاررہے ہیں ۔حسینؓ وہ ہے جس نے اپنے دور کے یزید کو للکارا اور ہماری حالت یہ ہے کہ یزید وقت پوری مسلم امت کو للکاررہا ہے ۔حسینؓ نے تن تنہا دین کی حفاظت کی اور ہم مسلمان ایک ارب سے بھی زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود قبلہ اول اور چرار شریف کی حفاظت نہ کرسکے ۔حسینؓ نے دشمن کے خلاف تلوار اٹھائی اور ہم آپس میں دست و گریباں ہیں ۔حسینؓ نے انسانیت کو جوڑنے کی کوشش کی اور ہم مسلکی تعصبات کی بنیاد پر نفرتیں بڑھارہے ہیں ۔حسینؓ کی قربانیوں کے طفیل آج ہم مسلمان ہیں اور ہمارے پست کردار کی وجہ سے مسلمان مذہب سے بھاگ رہے ہیں ۔حسینیت کا مطلب اگر سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہی ہے کہ اسلامی اصولوں پر ہر حال میں کاربند رہا جائے ۔ملازمین وقت پر دفتر جاتے ہیں اور اپنے فرائض کو پوری دیانت داری سے ادا کرنے کے بعد وقت پر چھٹی کرتے ہیں تو حسینی ہیں اگر رشوت کھاتے ہیں اور سروس میں دیانت داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں تو یزیدی ہیں ۔دکاندار آپ ؐ کی تعلیمات کے مطابق تجارت کرتا ہے تو حسینی ہے ۔ٹھیکیدار اپنا ٹھیکہ پوری دیانت داری سے پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے تو حسینی ہے ۔اگر منبر رسولؐ پر جلو ہ افروز علماء و ذاکرین پوری ایمانداری سے دین اسلام کی رو ح کے مطابق وعظ و نصیحت کرتے ہیں اور لوگوں کو دعوت عمل دیتے ہیں تو حسینی ہیں اسی طرح ہر شعبے کے افراد کا دینی فریضہ ہے کہ اپنے فرائض منصبی کو بطریق احسن انجام دے کر حسینیت کا عملی مظاہرہ کریں ورنہ بصورت دیگر سب کا شمار یزیدیت کے گروہ میں ہی ہوگا ۔کس کو معلوم نہیں کہ وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہواتھا لیکن ہمارے حکمرانوں کو 70سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باجود اسلام کے نفاذ کی توفیق نہیں ہوئی ۔ملک میں سودی نظام جاری و ساری ہے اور اسلام کی روسے اس نظام کا نفاذ اللہ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔ایک طرف ہم رب الالمین سے حالت جنگ میں ہیں جبکہ دوسری طرف ماضی میں ہمارے ہاں متحارب دینی حلقوں کی توانائیاں بھی ایک دوسرے کے خلاف صرف ہوتی رہی ہیں اور ہمارا حکمران طبقہ اور سیاسی گُر و اسی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔مفاداتی سیاست کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ۔دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور حضور پاک رحمت اللعالمین ہیں۔حضرت علی شیر خداؓ کے مطابق انسان محبت کیلئے پیداکیا گیا ہے اور چیزیں استعمال کیلئے ۔ذرا ہم اللہ کے عیال کے ساتھ اپنے سلوک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے عمل کا اسلام کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے کیوں کہ ہم کچھ انسانوں سے نفرت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ غیر مسلم ہیں ، کچھ سے نفرت اس بنا پر ہیں کہ وہ مسلمان تو ہیں لیکن ہم مسلک نہیں ، حتیٰ کہ بعض تعصب زدہ علاقوں میں اشیاء کی خریداری کیلئے بھی ہم مسلک دکاندار کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ہم سرتا پا تعصبات کا شکار ہیں اور یہ بات طے ہے کہ تعصبات کی آگ میں جلنے والے دل صلاحیتوں سے خالی ہوتے ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے دلوں سے نفرت اور تعصب کو ختم کریں ۔تعصب ایک ایسی بیماری ہے کہ اگر کوئی قوم اس میں مبتلا ہوجائے تو اس کی ترقی رک جاتی ہے ۔تعصب عقل اور استدلال کا دشمن ہے اور مذہب میں تعصب کا رویہ معاشرتی زندگی میں فساد برپا کرتا ہے ۔بدقسمتی سے تعصب کا کینسر ہمیں اندر سے کھوکھلا کررہا ہے اورہم اپنی نئی نسل کو تعصب کی آگ میں جھونک رہے ہیں ۔یاد رہے کہ تعصب کی مہلک بیماری کا شکار ہونے والی قوم کو زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔جب تک ہمارے بچے تعصبات کا شکار ہوں گے ملک اور قوم کیلئے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے ۔ہماری قوم نہ فکر کے اعتبار سے اور نہ عقیدے کے اعتبارسے ایک صفحہ پر ہے جبکہ حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال فرماتے ہیں کہ ملا و شیخ حضرات کو اس راز کا ادراک ہونا چاہئے کہ ،’’وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام ‘‘۔اقبال کے مطابق جو قوم فکر اور عقیدے کے اعتبار سے متحدنہ ہو وہ زندہ نہیں رہ سکتی اور نہ اسے زندہ سمجھنا چاہئے ۔ایک قوم کی کامیابی کیلئے صرف فکر کا ایک ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے کردار میں بھی وحدت ہونی چاہئے ۔جبکہ ہماری قوم کی فکر ہی ایک دوسرے سے جدا ہے تو کردار کے ایک ہونے کا کیا سوال ؟ہم نے اسلام کے حصے بخرے کردیئے ہیں۔عالمی استعمارکبھی یمن میں سرگرم عمل ہے کبھی شام اور فلسطین میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلاہوا ہے۔جہاں کہیں اس کا بس نہیں چلتا وہاں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ان حالات کے باوجود ہم نہیں سدھرسکے ۔ہم نے اصحاب رسول ؐ اور اہل بیت عظام پر بھی اپنے اپنے مخصوص لیبل لگادیئے ہیں ۔حضور ؐ کا فرمان ہے کہ ’’میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی پیروی کروگے فلاح پاؤگے ‘‘۔ لیکن بد بختی سے ہم اصحاب رسول ؐ اور اہل بیت کی سیرت طیبہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور ہماری تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہورہی ہیں کہ فلاں صحابی رسولؐ سے فلاں صحابی رسول ؐ افضل ہیں ۔جبکہ بعض علمائے کرام حضرات انبیائے کرام کے درمیان بھی تقابل کا ماحول پیدا کرنا درست خیال نہیں کرتے اور خود حضور پاک نے سب سے افضل ہونے کے باوجود اس کی حوصلہ شکنی کی ہے ۔اصل میں منع فضیلت کے اظہار سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ تقابل کا ایسا ماحول پیدا کرنے سے روکا گیا ہے کہ اللہ کے دو پیغمبروں یاحضور ؐ کے دو صحابیوں کو آمنے سامنے کرکے ان کو ترازو پر تولا جائے کیوں کہ اس عمل سے کسی نہ کسی طرح اہانت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکل آتا ہے اس لئے احتیاط لازم ہے ۔طاغوتی قوتیں انہی اختلافات سے فائدہ اٹھاتی ہیں ۔انہی مسلکی اختلافات کی وجہ سے اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک کے بعض علمی اداروں میں آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ ،یاران مصطفی اور اہل بیت عظام کے حوالے سے تقاریب کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر چہ میں مختلف ایام میں چھٹیوں کے حق میں نہیں لیکن ان ایام میں بالخصوص علمی اداروں میں اسمبلی کے موقع پر متعلقہ دن کی اہمیت اور عصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ سے دس منٹ تک ضرور بات ہونی چاہئے جس کیلئے اچھی شہرت کے حامل علماء اور ملت کا درد رکھنے والے ہر مکتب فکر کے بے داغ دانشوروں کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔مختلف مکاتب فکرکے مابین تعلقات مستحکم کرنے کے لئے عرض ہے کہ پہلے مرحلے میں ہر مکتب فکر کے علمائے کرام ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت کرنے کو رواج دیں اور کچھ عرصے کے بعد جب تعلقات استوار ہوجائیں تو اگلے مرحلے میں اہل بیت عظام کی سیرت پاک کے حوالے سے کشروٹ اور جگلوٹ میں پروگرام ہوجس میں شیعہ مکتب فکر اور اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے علماء اورعوام شرکت کریں اور یاران مصطفی کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد دنیور اور نگر میں ہو جس میں اہل سنت اور اسماعیلی برادری کے علماء اور لوگ شریک ہوں تو اس سے طاغوتی طاقتوں کی کمر ٹوٹ سکتی ہے ۔مختلف مسالک کے مابین تعلقات کے استحکام کے لئے اسماعیلی برادری کا کردار بہت اہم ہے ۔انشاء اللہ حسب سابق قیام امن اور خوش گوار ماحول کے قیام کیلئے اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے ۔ہم سب کو ہر مکتب فکر کی برگزیدہ ہستیوں کا دل سے احترام کرنے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔جب تک علاقے میں یہ فضاء قائم نہیں ہوتی ہم ٹھوکریں کھاتے رہیں گے اور ہمارے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر دشمنوں کے ایجنٹ ہمیں آپس میں لڑاتے رہیں گے ۔ہم اصحاب رسول ؐ اور اہل بیت کرام کی محبت سے سرشار ہوکر اپنی عاقبت سنوار سکتے ہیں ۔اس طرح کے اقدامات سے ہمارے سیاسی اور قومی اہمیت کے حامل مطالبات کو بھی تقویت ملے گی اور اتحاد امت کیلئے راستہ بھی ہموار ہوگا اور ایک قوم ہونے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوگا ۔خداوند کریم امام عالی مقام کی قربانیوں کے صدقے میں ملت اسلامیہ کو یکجا کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کی ہر مکتب فکر کے علماء کرام،سیاسی عمائدین ،وکلاء ،تاجر برادری ،شعرا ء و ادباء ،صحافی برادری اورحکمرانوں کو توفیق عطاء فرمائے ۔اس حوالے سے اپنے ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

بے شک یہ سرزمیں مرے مولا کی دَین ہے

اہلِ وطن کوپھر بھی سکوں ہے نہ چین ہے

رقص و سرود پہ کوئی قد غن نہیں یہاں

ذکرِ حسینؓ ،ذکرِ صحابہؓ پہ بَین ہے

خیرالنسا ء و شیرِ خداؓ کا اے دوستو!

لختِ جگر حسینؓ ،حسنؓ نور عین ہے

حملہ یزیدیت پہ ،یہ کہہ دینا ہے دکھی ؔ !

اصحابؓ بھی ہمارے ،ہمارا حسینؓ ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments