دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تھک نیاٹ بابوسر یوتھ قومی موومنٹ

دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تھک نیاٹ بابوسر یوتھ قومی موومنٹ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیورورپورٹ) تھک نیاٹ بابوسر یوتھ قومی موومنٹ کے صدر ضیا ء اللہ تھکوی اور دیگر راہنماؤں نے دیامر پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر کے چند تنگ نظر قبائل دیامر بھاشا ڈیم اور ریاستی اداروں سے متعلق غلط سوچ رکھتے ہیں جو کہ انتہائی نامناسب اور شرمناک ہے۔کوئی بھی قبیلہ اپنی تنگ نظری پر مشتمل سوچ اور خیالات کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا ہے۔ریاستی املاک، دفاتر کے جلاؤ گھیراؤ کر کے بدمعاشی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کے تکمیل کا دور ختم ہو چکا ہے۔بڑھکیں مار نے والوں کے بیانات اور خیالات بے معنی ہیں۔ریاست کے ساتھ غداری کرنے والے حب الوطنی کے دعوے کرنے لگے ہیں جس پر تعجب اور حیرانگی ہو رہی ہے۔ چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بجائے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ داریل تانگیر سمیت دیامر بھر کے پسماندہ علاقے دیامر ڈیم کی مد میں ہونے والی تعمیر و ترقی سے مستفید ہوسکیں۔ دیامر ڈیم کی تعمیر سے ضلع کے تمام علاقے داریل تانگیر اور دیگر نالہ جات کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ضرور ہو رہے ہیں۔ صرف تحصیل چلاس کے لوگ متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔دیامر کے تمام نالہ جات اور لوگوں سے یکساں برتاؤ اور سلوک روا رکھا جائے۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر و تکمیل کے سبب کس قبیلے کے لوگ کتنے افراد اور گھرانے متاثر ہو رہے ہیں دیامر بھاشا ڈیم لینڈ ایکوزیشن ریکارڈ کی چھان بین کر کے لسٹ مرتب کی جائے تاکہ اصلی متاثرین کا اندازہ ہو سکے۔ کچھ فرضی افراد نے متاثرین لفظ کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کی ری سٹیلمنٹ سے قبل سروے کر کے متاثرین کی رائے لی جائے۔کہ وہ کہاں ری سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔انکی خواہشات کو مد نظر رکھ کر جگہ فراہم کی جائے۔زبردستی تمام متاثرین کو ماڈل ویلیج کے نام پر ایک جگہ جمع کرنے کی پالیسی غیر دانشمندانہ ہے۔اس پالیسی کو ترک کر کے از سر نو پالیسی مرتب کی جائے۔تھک داس میں متاثرین ڈیم کے لئے ماڈل ویلیج کسی صورت موزوں نہیں ہے کیونکہ تھک داس میں ہزاروں افراد بال بچوں سمیت رہائش پذیر ہیں۔ان ہزاروں خاندانوں کو تھک داس سے نکال کر متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ نامناسب عمل ہے۔اس طرح کی غلط پالیسیوں سے امن کی فضاء خراب ہو سکتی ہے۔صرف ایک ماڈل ویلیج کی خاطر ہزاروں افراد کے ساتھ ظلم کرنا نا انصافی ہو گی۔لہٰذا ماڈل ویلیج کے لئے تھک داس کا انتخاب درست اقدام نہیں ہو گا۔ متبادل جگہ کا انتخاب کیا جائے۔ہرپن داس ،کینو داس،اور ضلع دیامر کے دیگر داسز میں بھی الاٹمنٹ کئے جا چکے تھے لیکن متعلقہ نالہ جات اور قبائل کی عوام نے اپنی اپنی ملکیتی اراضیات کو باہم تقسیم کیا ہے۔اور کچھ جگہوں مثلاً بونر داس میں وہاں کی عوام نے اپنی اراضی کے معاوضے بھی حاصل کئے ہیں۔سرکار نے ان تمام الاٹمنٹ کو ذرا بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے لہٰذا دیامر کی تمام اراضیات خالصہ سرکار نہیں بلکہ عوامی ملکیت ہیں۔

اب اگر حکومت صرف اور صرف تھک داس کے بے بنیاد اور بے جا الاٹمنٹس کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے تو یہ سراسر دہرا معیار ہوگا۔اور تھک نیاٹ کے محب وطن اور پرامن عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہوگی اور یہ عمل کسی کے لئے فائدہ مند نہیں۔ معاہدہ 2010بحوالہ دیامر بھاشا ڈیم شروع دن سے متنازعہ رہا ہے۔لہٰذا عوامی سطح پر معاہدہ 2010کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ اس معاہدے کو زبردستی عوام پر ٹھونس دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس معاہدے کے سلسلے میں تمام قبائل اور نالہ جات کو اعتماد میں لایا جائے۔بصورت دیگر معاہدہ 2010 کو منسوخ کر کے از سر نو معاہدہ کیا جائے۔جس میں تمام قبائل اور نالہ جات کی عوام کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔تاکہ میگا ریاستی منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے مراحل میں عوامی رکاوٹوں اور خدشات کا اندیشہ باقی نہ رہے۔اور یوں تمام میگا ریاستی منصوبے بغیر کسی رکاوٹ کے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

پریس کانفرنس میں تھک نیاٹ کے عمائدین نمبردار زبیر ،نمبردار شمیر،نمبردار براق،سراج منیر،حاجی امان اللہ ،شفاعت اللہ ،سید محمد شریف،حاجی محمد موسیٰ،مجیب الرحمان،مجاور خان،عبدالرؤف،حاجی بجور،عالم خان،مولانا صمدر خان عبدالوکیل گل زیب محمد افضل،مقصود عالم،عبدالزبور سالک،کالا خان،برہ خان۔ضیالحق،محمد مشتاق،جہانزیب جعفراللہ جمالی غلام غفور محمد شبیر ندیم اسحاق محمودالحسن عارف شفا فضل خطاب مولانا طارق جمیل حاجی محمودالحسن ارشاداللہ و دیگر بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔