پروفیسرز ایسوسی ایشن ایجوکیشن سیکریٹریٹ اور ڈائیریکٹریٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ راحت شاہ

پروفیسرز ایسوسی ایشن ایجوکیشن سیکریٹریٹ اور ڈائیریکٹریٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ راحت شاہ

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خصوصی رپورٹ:امیرجان حقانیؔ ) گلگت بلتستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی کی کابینہ کی ایک اہم میٹنگ ڈائریکٹرایجوکیشن پروفیسر منظورکریم کے ساتھ مقامی ہوٹل میں ہوئی۔میٹنگ کا انعقاد پروفیسر ایسوسی کی طرف سے پروفیسر منطور کریم کے ڈائریکٹر کالجز بننے پر انہیں ویلکم پارٹی دینا تھا۔ اس میٹنگ میں پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر راحت شاہ، جنرل سیکرٹری عرفان علی صدیقی، پریس سیکرٹری امیرجان حقانیؔ ، خواتین ونگ کی صدر پروفیسر ثریانثار، اور ایسوسی ایشن کے ممبران عبدالرشید، امیراحمد جان، میڈیم رخسانہ عامر، شہربانو نے شرکت کی۔صدر راحت شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ایسوسی ایشن تعلیم و تربیت کے موجودہ نظم میں بہتری کے لیے کام کرہی ہے جس کے لیے ہم ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ اور سیکریٹریٹ کی ہرممکن مدد کریں گے۔ ایجوکیشن پالیساں بنانے اور بنیادی اسٹریکچر میں تبدیلی لانے کے حوالے سے تمام کالجز کے ممبران اور سینئر فیکلٹیز کے ساتھ مل کر پالیساں اور فیڈ بیک تیارکرکے ڈائریکٹریٹ اور ایجوکیشن سیکریٹریٹ کے ساتھ شیئر کی جائیں گے۔ راحت شاہ نے مزید کہا کہ سیکرٹری ایجوکیشن کے ساتھ ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی کمزور ترین تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں اور بہت ہی فکر مند ہیں جس کی ایسوسی ایشن بھر پور حمایت کرتی ہے۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن منظور کریم نے ایسوسی کی کابینہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کے تعاون سے تعلیمی نظم و نسق اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے بنیادی تبدیلیاں لانی ہونگی۔ کالجز کے نظم و نسق میں تبدیلی میری اولین ترجیح ہوگی۔ میں نے اپنے دفتری عملے سے کہا ہے کہ کالجز کے پرنسپل اور پروفیسروں کے کام ہر صورت نمٹا کر چھٹی کی جائے گی اس سے پہلے ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ کا کوئی ملازم چھٹی نہیں کرے گا۔ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ میں پروفیسر ایسوسی ایشن کے ساتھ سیکریڑی ایجوکیشن کا بھی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور ان شاء اللہ میں اپنے دورانیہ میں فیکلٹی ، کالجز اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی ، تربیتی اور اخلاقی ریفامز اور بہتری کے لیے کچھ کرکے جاونگا، یہ میرا اور میری ٹیم کا عزم ہے کہ ہم ایسوسی ایشن، فیکلٹی ممبران اور پرنسپل صاحبان کے تعاون و مشاورت سے بہتر سے بہتری کی طرف گامزن ہونگے۔ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ جی بی میں پہلی دفعہ خواتین پروفیسروں کو باقاعدہ ایسوسی ایشن کی میٹنگوں اور پالیسی میکنگ کاحصہ بنایا جارہا ہے اور خواتین پروفیسرز بھی نظام کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں جو خوش آئند ہے۔

ایسوسی کے جنرل سیکرٹری عرفان علی صدیقی نے کہا کہ یہ پروفیسروں کی توہین ہے کہ وہ اپنی پرسنل فائلیں لے کر دفتروں میں چکر لگاتے پھریں۔ بلکہ ڈائریکٹر سمیت دیگر آفسوں میں پروفیسروں کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔پریس سیکرٹری امیرجان حقانی نے کہا ایچ ای سی سے ایک ریسرچ جرنل کی منظوری لی جائے ۔ پورے گلگت بلتستان میں ایچ ای سی سے منظور شدہ ایک بھی ریسرچ جرنل نہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے پروفیسرز اور محققین اپنے تحقیقات اور تخلیقات منظر عام پر لانے سے قاصر رہتے ہیں۔اگر ڈائریکٹر ایجوکیشن ایک ریسرچ جرنل کی منظوری لیتے ہے تو پروفیسروں کو تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا جس سے جی بی میں کئی پوشید ہ گوشوں پر علمی تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ پروفیسر عبدالرشید نے کہا کہ اے جی پی آر سمیت بعض دفتروں میں پروفیسروں اور استادوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنا یا جاتا ہے۔ کالجز کے اکاونٹنٹ اور سپرنڈنڈنٹ پروفیسروں کے بل تک تیار نہیں کرتے اور نہ ہی اے جی پی آر سے ان کے بلات منظور کرواتے ہیں۔ اس پر ڈائریکٹر ایجوکیشن نے کہا کہ بنیادی طور پر ان منشیوں کو کسی نے یہ بتایا ہی نہیں کہ پروفیسروں کا پورا ریکارڈ رکھنا اور ان کے تنخواہیں اور دیگر بلات کو منظور کروانا ان کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں، ہم جلد ایک ورکشاپس کروائیں گے جس میں ان کلرکوں کو یہ بتایا جائے گا کہ انہوں نے پروفیسروں کی فائلیں منیج کرنی ہیں اور اے جی پی آر کے سارے امور انہوں نے نمٹانے ہیں۔پروفیسر ثریا نثار نے کہا کہ گلگت بلتستان کے پروفیسروں میں ٹیلنٹ بہت زیادہ ہے ۔ انکو مناسب سہولیات دی جائے تو یہ اپنے علمی اور تحقیقی لوہا پورے ملک میں منوا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پروفیسروں کے لیے علمی ورکشاپس، سیمنارز اور ٹریننگ کا انعقاد کیا جائے تاکہ تعلیم کے میدان میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔

ان امور پر میٹنگ کا اختتام کیا گیا کہ جلد ڈائریکٹر، کالجز کے پرنسپل کے ساتھ ایک نشست کرکے اپنے کلریکل عملے کو درست رکھنے کی ہدایات جاری کریں گے۔اور ان کو چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی تلقین کی جائے گی۔اگلے سیشن سے ماڈل کالجز یا ایک دو کالجوں میں ماڈل کلاسوں کے اجراء کے حوالے سے ہنگامی ورک پیپر کیا جائے گا۔تعلیمی نظم و نسق میں بہتری کے لیے تمام کالجز کے پروفیسروں سے فیڈبیک طلب کیا جائے گا اور ان کی روشنی میں تعلیمی پالیساں بنائی جائیں گی اور پروفیسرایسوسی ایشن نظام میں تبدیلی کے لیے ڈائریکٹریٹ اور سیکریٹریٹ کی معاونت کرے گی اور معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ ریلشن شپ مضبوط کی جائے گی تاکہ نظام تعلیم درستگی کی راہ میں گامزن ہو۔اس بات پر متفقہ زور دیا گیا کہ سرکاری کالجز میں غریب عوام کے بچے آتے ہیں، ان کے پاس بنیادی سہولیات تک نہیں ہوتیں ہیں۔ میٹرک تک ان کی تعلیم انتہائی کمزور ہوتی ہے ۔ تومعاشرے کے ان کمزور اور غریب لوگوں کی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت کا کوئی نیا اور بہترین نظام کے لیے ہنگامی پلاننگ کی جائے گی تاکہ امیرکے ساتھ غریب کو بھی بہترین تعلیم سستے داموں حاصل کرنے کا موقع ملے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔