چترال: گرم چشمہ روڈ برفباری کے تین ہفتے بعد بھی بند، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

چترال: گرم چشمہ روڈ برفباری کے تین ہفتے بعد بھی بند، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) گرم چشمہ روڈ آج برف باری کے 18 دن بعد بھی مکمل طور پر بند پڑا ہے، گرم چشمہ وادی میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ علاقے کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مریضوں کو پیدل سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ گرم چشمہ وادی سے منتخب نمائندے سی اینڈ ڈبلیو کی تعریفوں کے پل باندھنے میں لگے ہوئے ہیں یا پھر انتظامیہ کی کوششوں سے روڈ کھل جائے تو ایک دوسرے کی تعریف میں اخباری بیان داغنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، گزشتہ دنوں ایم پی اے فوزیہ بی بی ریڈیو پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ برف باری کے بعد تمام مضافاتی سڑکیں کھول دی گئی تھیں اب بھی کوشش کررہے ہیں کہ دو تین دن کے اندر تمام رابطہ سڑکیں بحال کریں، گرم چشمہ شاید دیر یا باجوڑ کا حصہ ہے جو کہ 18 دن سے بند ہے اور ہمارے نمائندوں کو نظر نہیں آرہا ہے۔ گرم چشمہ کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں چار سے پانچ گھنٹے مریضوں کو کندھوں پر سوار کراکے سفر کرنا مسائل کو جنم دے رہا ہے، اشیائے خوردونوش کی قلت نے الگ سے عوام کا جینا حرام کررکھا ہے، علاقے کے عوام نے ہمارے نمائندے سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرم چشمہ روڈ پر کام انتہائی سست رفتاری سے ہورہا ہے وہ بھی پاک آرمی کے دباؤ کی وجہ سے تھوڑا بہت کام ہورہا ہے بلڈوزر کے بجائے اسکویٹر سے برف صاف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وجہ برف صاف ہونے کا نام لے رہا ہے، کچھ دنوں میں سکول کالج کھلنے والے ہیں تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد بچوں کو سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا، خصوصاً گرم چشمہ وادی سے تعلق رکھنے والے ایسے بچے اور بچیاں جو چترال کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ان کو چترال پہنچنے میں شدید مشکلات درپیش آئیں گے، علاقے کے عوام نے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومت اور مقتدر حلقوں سے اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔