دینی اور دنیاوی تعلیم کے بغیر کامیاب زندگی گزارنا ممکن نہیں ۔ ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی

دینی اور دنیاوی تعلیم کے بغیر کامیاب زندگی گزارنا ممکن نہیں ۔ ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (رپورٹر) ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ خان نے دیامر پریس کلب میں بیت العلم سکول کے سالانہ نتائج کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے بغیر کامیاب زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے ۔عصری تقاضوں کا مقابلہ کرنے کیلئے موجودہ سائنسی اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں دینی اور دنیاوی علم حاصل کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ۔،اگر ہم دینی تعلیم حاصل کرکے دنیاوی تعلیم حاحل نہیں کریں گے تو ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے اور دنیا کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تین قسم کی تعلیم دی جاتی ہے ،جس میں مدرسے کی تعلیم ،پرائیوٹ سکولوں کی تعلیم اور گوررنمنٹ سکولوں کی تعلیم میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی پھیل جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت پہلی دفعہ جماعت اول سے لیکر جماعت پنجم تک ناظرہ پڑھانا لازمی قرار دے رہے ہیں اور غریب بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دینے کیلئے پالیسی بنارہے ہیں اور اب سے غریب بچوں کو مفت کتابیں دی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک تعلیمی ،معاشی اور سیاسی میدان میں ہمیں آپس میں لڑا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں ہر لحاظ سے کمزور کرکے ہمارے اوپر حکمرانی کرناچاہتے ہیں ،مسلمان فرقوں میں بٹنے کے بجائے آپس میں متحداور اتحاد سے رہیں ،دشمن ہمارے اندر اختلافات پیدا کررہا ہے اور ہمیں تقسیم کرنے کے درپے ہیں ،اس لیئے تمامسلمان اپنے دشمنوں کو پہچانیں اور ان عناصر کے خلاف برسر پیکار رہیں ،ہمارے کچھ ناسمجھ لوگ ان سازشوں کا شکار رہتے ہیں ،اس لئے پڑھے لکھے اور باشعور لوگ خصوصا علماء کرام دشمن ممالک کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے کردار ادا کریں ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک اور دیامر ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے بین الاقوامی سازشیں ہورہی ہیں اور دشمن کے انکھوں میں یہ میگا منصوبے کھٹک رہے ہیں ،گلگت بلتستان اور دیامر کے عوام دشمن کی ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قومیتوں ،فرقوں اور تعصبات کے خول میں جھکڑنے کی بجائے ایک قوم بننے کی ضرورت ہے اور صرف پاکستانی بن کر اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی بقا کیلئے آگے بڑھ کر مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے عوام تعلیم کو اپنا ہتھیار بناکر آگے بڑھیں اور دنیا کا مقابلہ کریں ، ایک دوسرے کے ٹانگیں نہ کھنچیں اور اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز رکھیں ۔بہت جلد مستقبل آپ کا قدم چومے گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔