ڈویژنل ہیڈ کوارٹر استور میں بنایا جائے۔ استور گرینڈ جرگہ

ڈویژنل ہیڈ کوارٹر استور میں بنایا جائے۔ استور گرینڈ جرگہ

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (سبخان سہیل /عبدالوہاب)استور گرینڈ جرگہ کا ایک اہم اجلاس گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس گلگت بلتستان نیشنل موومنٹ کے چیئرمین و سابق امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی ڈاکٹر غلام عباس کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات فرمان علی خان، پارلیمانی سیکریٹری ہیلتھ برکت جمیل، سابق نگراں وزیر قانون مشتاق ایڈوکیٹ،امیر جماعت اسلامی گلگت بلتستان مولانہ عبدالسمیع ،ایکس ڈی آئی جی میر افضل ،سابق ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نصیراللہ خان،سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماوں سمیت ضلع استور سے تعلق رکھنے والے سرکاری آفیسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین گلگت بلتستان نیشنل موومنٹ غلام عباس نے کہا کہ ضلع استور ایک پسماندہ ضلع ہے۔ عوام گزشتہ پینتیس سالوں میں ایک ہی ضلع ہونے کی وجہ سے دیامر کے چکر کاٹتےرہے ہیں۔ میں آج حکومت وقت سے اور اپنے دیامر کے بھائیوں سے اس بات کی اپیل کرتا ہوں کہ دیامر استور ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈ کواٹر استور میں بنانے کے لیے ہمارے ساتھ دیں ۔ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بھی ضلع استور کے غریب عوام اپنے کام کے لیے دیامر نہیں جاسکتے ہے۔ دیامر کی نسبت گلگت قریب پڑتا ہے۔ اس لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو استور میں بنایا جائے۔ اگر حکومت کے لیے اس میں کوئی مسلہ ہو توبونجی دونوں اضلاع کے لیے قریب پڑتا ہے۔ بونجی میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر بنایا جائے کیونکہ سیکورٹی کے لہازسے بھی بونجی ایک موزوں ترین جگہ ہے۔

اجلاس سے صوبائی وزیر بلدیات فرمان علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استور کی تعمیر و ترقی کے لیے آج اس پلیٹ فارم پر ڈاکٹر عباس نے جو ماحول فراہم کیا ہے اس پر میں اپنی جانب سے ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ استور کی تعمیر وترقی کے لیے ہم دونوں منتخب ممبران آپ کے آواز بن کر آپ کے مسائل کے حل کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔ استور میں ہمارے اس دو سالہ دور میں ڈیڑھ ارب روپے سے زاہد کے ترقیاتی منصوبوں پر عملی کام شروع ہوا ہے۔ ہم نے ہمیشہ سے عوام کی مفاد کو اپنی اولین ترجہی رکھا ہے۔ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت استور کے تعمیر وترقی کے لیے بہت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ استور بوبن سے شگر تھنگ تک روڈ کے لیے ایک کروڈ روپے سروے کے لیے جاری کردئے ہیں ، بہت جلد استور بوبن سے شگر تھنگ تک روڈ ٹینڈر کیا جائے گا۔ استور شونٹر روڈ سی پیک میں شامل ہے اس حوالے سے اسی سال اس کی سروے مکمل کردیا جائے گا۔ یہ ایک میگا پروجیکیٹ ہے۔ اس کو مکمل ہونے تک ٹائم لگے گا۔ شونٹر روڈ کے بننے کے بعد استور ایک بار پھر گلگت بلتستان کا تجارتی مرکز بن جائے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک بار پھر 1947والے استوری بن جائیں ۔ استور شونٹر روڈ بننے کے بعد ایک بار پھر تعمیر وترقی کے راہ پر گامزن ہوگا۔ انشاللہ دیامر استور کے حوالے سے دونوں اضلاع کے منتخب ممبران کی مشاورت سے اس کا حل نکالا جائے گا۔ استوری قوم کے مفاد پر کوئی سودا بازی نہیں ہوگی۔ استوری عوام کی خواہیش کے مطابق ڈویژنل ہیڈ کواٹر استور میں بنایا جائے۔ اس آواز کے ساتھ ہم استوری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ استوری قوم کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ استور کے منتخب ممبران کا بھی ہوگا ۔ ہمارا ڈویژنل ہیڈ کواٹر استور میں ہی ہونا چائیے۔ دیامر میں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری ہیلتھ گلگت بلتستان برکت جمیل نے کہا کہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع استور میں بہت جلد ایک سو بیڈ پر مشتمل ہسپتال بنایا جائے گا۔ صوبائی حکومت وزیر اعلی گلگت بلتستان ہیلتھ کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ اقدامات کررہے ہیں۔ گلگت سے استور تک کا ویلی روڈ ہم کسی ایسی نیشنل کمپنی کو دیں گے جو ایک میعاری کام کرئیگی۔ اس حوالے سے این ایل سی کمپنی کے ساتھ ہم رابطے میں ہیں کسی اچھی کمپنی کو یہ ٹینڈر دیا جائے گا۔ استور روڈ موجودہ حالت میں موت کا کنواٗں بنا ہوا ہے۔ استور روڈ بنے گا تو اس میں تھلیچ سے گوریکوٹ تک روڈ کے سائیڈمیں لوہے کی گریل بھی لگے گی۔ اس کے لگنے کے بعد خدا نخواستہ گاڑی حادثہ ہو جائے توبھی گرل سے ٹکرانے کے بعد روڈ پر ہی رہے گی ۔انشااللہ بونجی کاپرانا روڈ کو بھی استور پرانے روڈ کے ساتھ ملاتے ہوئے اس کو بھی فوری میٹل کیا جاے گا۔ ضلع استور دیامر کا ڈویژنل ہیڈ کواٹر کے حوالے سے دونوں اضلاع کے ممبران کو بہت جلد ایک ہی ٹیبل پہ بیٹھاکراس مسلے کا فوری حل نکالا جائے گا۔

اجلاس کے بعد متفقہ طور پر استور کے مسائل کے حل کے لیے استور سپریم کونسل کے نام سے ایک کونسل کی بھی تشکیل دی گئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔