چترال میں دوسو پچاس بستروں پر مشتمل ہسپتال کا معمہ

چترال میں دوسو پچاس بستروں پر مشتمل ہسپتال کا معمہ

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سیاسی بیانات اور بلند وبانگ خالی خولی دعوے ہمارے سیاست دانوں کا محبوب اور دل پسند مشغلہ ہے۔ خاص طورپر اس وقت جبکہ کالے کیمروں اور مائک کے سامنے کھڑا ہوکر ہزاروں لاکھوں کے مجمعے سے خطاب کیاجارہاہو۔ تو سیاست دان اس ہجوم کو اُلو بنا کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ہر ممکن جتن کرتے ہیں۔ ایسے بے ہودہ اور بلاسوچے سمجھے بیانات ہمارے سیاست دان آئے روز میڈیا کے سامنے دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی کہی باتوں سے یوں مکر جاتے ہیں، جیسے اس قسم کا کوئی بیان دیا ہی نہیں۔ سات ستمبر سن دوہزار سولہ کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ایک روزہ دورے پر چترال تشریف لائے۔ اپنے اس دورے میں وزیر اعظم پاکستان نے چترال پولوگراؤنڈ میں ایک جم غفیر سے خطاب کیا۔ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے اس موقع پر میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ چترال کے لئے ایک ہسپتال اور یونیورسٹی بنایاجائے۔ جس کے جواب میں میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ وہ یونیورسٹی لے کر چترال آئے ہیں مطالبے کی ضرورت نہیں جبکہ اسی ہی لمہے یہ بھی اعلان کیا کہ  دوسوپچاس بستروں پر محیط ایک بہترین معیار کا ہسپتال بھی بنایاجائے گا۔جبکہ اسی ہی لمحے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ضلعی حکومت کے لئے بیس کروڑ روپے کے گرانڈ کا بھی اعلان کردیا۔ اس دورے کوچھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اعلانات ابھی تک عملی جامہ نہیں پہن سکے۔ البتہ ‘الٹا چور کوتوال کو ڈالٹے’ کے مصداق اب ہسپتال پر کام شروع کرنے کی بجائے خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت پر الزام لگایا جارہاہے کہ وہ چترال میں قائم ہونے والی ہسپتال کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ ایم این اے چترال جناب افتخار الدین کا ڈپٹی کمشنرچترال کے آفس میں اعلی سرکاری وانتظامی اہلکاروں ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیاگیا

جس میں ایم این اے کا کہنا تھا کہ” وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے گزشتہ دورہ چترال میں چترال کے لئے دوسوپچاس بیڈ کے ہسپتال کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت مرکزی حکومت نے صوبائی حکومت سے مذکورہ ہسپتال کے لئے زمین ایکوائر کرنے کی ہدایت کی تھی مگر صوبائی حکومت ہسپتال کے لئے ایک ہی جگہ زمین ایکوائر کرنے کے بجائے چترال کے دوجگہوں پر سو اور ایک سو پچاس بیڈ کے ہسپتال کی تعمیر کرنے کی تجویز دی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت مذکورہ ہسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے”۔

http://www.chitraltimes.com/udetail17/chitral_news-19690.htm

 اس کے علاوہ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے ڈسٹرکٹ کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ” وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے اعلان کردہ ہسپتال اور یونیورسٹی کے منصوبے سمیت بیس کروڑ روپے کی گرانٹ کی ریلیز کی راہ میں صوبائی حکومت رکاؤٹیں حائل کرنے اور روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ اس عمل سے چترال کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوگا”

http://www.chitraltimes.com/udetail17/chitral_news-19700.htm

ان دنوں بیانات کا بغور جائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ جہاں صوبائی ووفاقی حکومتین عوام کو بے وقوف بنانے میں وقت ضائع نہیں کرتے ،وہیں ہمارے اپنے نمائندے بھی بے غیر سوچے سمجھے یوں گویاہوتے ہیں کہ معمولی فہم والا بندہ بھی ان کے بیانات پڑھ کر ششدر رہ جاتے ہیں کہ اتنی ببانگ دھل کس طرح جھوٹ بولا جارہاہے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی اور جھوٹ بولتے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعظم کے اعلان کردہ دوسو پچاس بستروں پر محیط ہسپتال اور اعلی معیار کے یونیورسٹی کا تعلق ہے وہ محض بیانات تھے، ان کا حقائق سے دور کابھی تعلق نہیں۔ کیونکہ اگر وفاقی حکومت اور خصوصا میاں نواز شریف اپنے کئے وغدوں پر واقعی مخلص ہوتے تو ابھی تک ان دونوں اداروں کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہ کچھ عملی کام ہوچکاہوتا لیکن وہ نہ ہوسکا۔ کسی بھی ادارے کی تعمیر صرف ہوائی بیانات سے نہیں ہوتی بلکہ ان کے لئے مکمل منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ اس کے لئےفنڈز جاری کئے جاتے ہیں پی سی ون تیار کیاجاتاہے۔ اور منصوبے کے مختلف سمتوں میں جائزہ لے کر اس میں آنے والے اخراجات اور وقت کا تعین کیاجاتاہے۔ اس کے برعکس میاں نواز شریف نے جس یونیورسٹی اور ہسپتال کا اعلان کیاتھا ابھی تک اس پر ایک فیصد بھی عملی کام نہیں ہوا۔ مثلا دوسو پچاس بستروں کے ہسپتال ہی کو لے لیں۔ زرائع کے مطابق وزیر اعظم اپنے دورہ چترال سے واپسی کے بعد صوبائی حکومت اور چیف سیکٹری خیبرپختونخواہ سے ہسپتال کے لئے زمین دینے کا مطالبہ کیا۔ دوسو پچاس بستروں کے ہسپتال کے لئے کم از کم سو سے دو سو کینال زمین درکار ہے جبکہ چترال میں سرکار کے پاس ایک کینال زمین بھی موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے وزیر اعلی اورچیف سیکٹری نے وفاقی حکومت کو جواب لکھا کہ ہمارے پاس کوئی سرکاری زمین نہیں لہذا زمین خریدنے کے لئے پیسے جاری کردیاجائے تاکہ زمین خرید سکے۔ اس زمین کا تخمینہ خرچہ کم از کم اسی کروڑ سے ایک ارب تک بنتی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبے کو کوئی جواب نہیں دیا۔  محترم ایم این اے اور ضلع ناظم اس ساری صورتحال سے باخبر ہونے کے باؤجود سارا ملبہ صوبائی حکومت پر گرا کر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوکشش کررہے ہیں۔ محترم ایم این اے صاحب اپنی نااہلی اور اپنی جماعت (مسلم لیگ ن) اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی چترالی قوم سے کئے گئے وغدوں کو ایفا نہ کرنے کا الزام صوبائی حکومت پر ڈال کر خود کو اوراپنے محسن کو بری الزمہ ٹہرانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، جو کہ ایک گمراہ کن امر ہے۔

 اگر وفاقی حکومت چترال میں ہسپتال بنانے میں مخلص ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ابھی تک اس سلسلے میں کتنے فیصد عملی کام ہوئے ہیں اور کتنی رقم اس منصوبے کے لئے مختص کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں اور کارکردگی سے لاکھ اختلاف سہی لیکن کیا ہم اپنی ذاتی پسند وناپسند میں بہہ کر ہر اس بات کو سچ مانے جو ہمارے سیاسی جواری اپنی دکان چمکانے کے لئے دے رہے ہیں۔ ایم این اے صاحب کا کہناہے کہ صوبائی حکومت دو سو پچاس بستروں کے ہسپتال کوسو اور ایک سو پچاس بستروں کے ہسپتال میں تبدیل کرکے اس منصوبے کو ناکامی سے دوچار کرنے خواہاں ہے۔ ایم این اے صاحب سے پوچھتا چلوکہ یہ مطالبہ وزیراعلی کی جانب سے سامنے آیا، صوبائی وزیر صحت یا کسی اور محکمے کی جانب سے۔ یا پھر یہ  خود ایم این اے صاحب کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے۔ تاکہ آئیندہ انتخابات میں ہسپتال کے مسئلے کو لے کر عوام کے جذبات سے کھیلا جائے۔

 یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ میاں نواز شریف نے جس اعلی معیار کی  یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیاتھا اس کا کیا بنا اور ابھی تک اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی۔ ایم این صاحب سے یہ بھی پوچھا جائے کہ اکتوبر سن دوہزار چودہ میں اہالیان چترال کو ایک خوشخبری سنائی تھی کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کراچی کے تین کیمپسز چترال میں قائم کیا جارہاہے جن میں سے ایک کیمپس بونی میں ایک چترال اور ایک دروش میں قائم کیاجائے گا۔ لیکن ابھی تک اس یونیورسٹی کا کوئی آتہ پتہ نہیں چلا کیوں؟؟

رہ گئی ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ کے الزامات کہ صوبائی حکومت میاں نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ہسپتال، یونیورسٹی اور ضلعی حکومت کے لئے بیس کروڑ روپے کے گرانڈ کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ یونیورسٹی اور ہسپتال سے متعلق سطور بالا میں تفصیل سے بات کی گئی اس پر مزید بات کرنا فضول ہے ۔البتہ ہمارے ضلع ناظم بھی ہوا میں تیر چلانے کے ماہر نکلے۔ کیونکہ موصوف کو یہ تک پتہ نہیں کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب نے جس یونیورسٹی اور دوسو پچاس بستروں کے ہسپتال کا اعلان کیا تھا ابھی تک اس میں ایک فیصد بھی عملی کام نہیں ہوا۔ ضلع ناظم کی یہ منطق ہمارے سمجھ میں نہیں آئی کہ میاں نواز شریف نے ضلع کونسل کے لئے جس بیس کروڑ روپے کے گرانڈ کا اعلان کیا تھا کیا اس رقم کو جاری کرنے کے لئے بھی صوبائی حکومت کی اجازت ضروری ہے؟ کوئی قانون ہماری نظروں سے نہیں گزرا جس میں وفاقی حکومت کسی ادارے کو فنڈ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے اجازت لینے کا مجاز ہو۔ اس کے برعکس وہ پچاس کروڑ روپے میاں نواز شریف یا وفاقی حکومت ضلع کونسل کو جاری کرسکتے ہیں۔ اس کا الزام بھی صوبائی حکومت پر ڈال کر ضلع ناظم اپنی نااہلی کو سر بازار ننگا کردیا ہے۔

 اس سارے نتاظر میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ وفاقی حکومت چترال کی ترقی میں مخلص نہیں اگر وہ مخلص ہوتے تو ادھر ادھر کے بہانے تراشنے کی ضروت محسوس نہ ہوتی۔ اس کے علاوہ ایم این اے چترال اور ضلع ناظم چترال بھی اپنی نااہلی اور ناکامی کو سارا الزام صوبائی حکومت پر ڈال کر اپنی نااہلی وناکامی کو تشت ازبام کررہے ہیں۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔