چلاس کے علاقے تھور سے تعلق رکھنے والے بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کا کیس مشکوک ہوگیا

چلاس کے علاقے تھور سے تعلق رکھنے والے بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کا کیس مشکوک ہوگیا

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس ( بیورورپورٹ ) چلاس کے علاقے تھور سے تعلق رکھنے والے 14 ماہ کے بچے میں پو لیو وائرس کا کیس مشکو ک ہو گیا ۔ بچے کی صحت دن بدن بہتر ہو رہی ہے ۔ چلاس تھور میں کم سن بچے میں پو لیو وائرس کی مو جو دگی کی خبر پھیلنے پر صحافیوں کی ٹیم نے تھور کا دورہ کیا اور مذکورہ بچے کے والدین سے ملاقات کر کے اصل حقیقت معلوم کر نے کی کوشش کی ۔ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ بچے کا دایاں ہاتھ اوربازو حرکت نہیں کر رہا تھا ۔ جسے علاج کیلئے چلاس ، گلگت اور بعد ازاں ایبٹ آباد لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد دو ماہ کی ادویات دی ہیں جس کے استعمال کے بعد بچے کی صحت میں کا فی بہتری آئی ہے اور بچے کے بازو اور ہاتھ صحیح انداز میں کام کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر بچے کے ہاتھ میں ایک قلم تھمائی گئی جو کہ اس نے مضبوطی سے پکڑ لی ۔

بچے کے والد نے کہا کہ اسے کسی ڈاکٹر نے نہیں بتایا کہ بچہ پو لیو کا شکار ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق پو لیو کا وائرس پاؤں اور ٹانگ پر حملہ کر تا اور خدانخواستہ اس موذی مرض کا شکار ہو جاتا ہے پھر اس کا علاج ناممکن ہے ۔ اس ساری صورتحال کے بعد پو لیو کا حالیہ کیس مشکوک شکل اختیار کر گیا ہے ۔ محکمہ صحت کو اس سنگین مسئلے کی مکمل چھان بین کر نے کی ضرورت ہے تاکہ اصل حقیقت کا پتہ چل سکے ۔ دوسری طرف بچے کے والد کا کہنا ہے کہ انسداد پو لیو مہم کے دوران باقاعدگی سے پو لیو کے قطرے پلائے ہیں اور اس سلسلے میں محکمہ صحت کی جانب سے کو ئی کو تاہی نہیں برتی گئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔