50ہزار کا جرمانہ 

50ہزار کا جرمانہ 

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مر دم شماری کے قانون میں غلط معلومات دینے والے کے لئے 50ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے یہ بہت اچھا قانون ہے اس قانون کے ہوتے ہوئے کوئی غلط معلومات نہیں دے سکے گا یعنی زبان ،مذہب ،عمر ،تعلیم روزگار وغیر ہ کے بارے میں دروغ بیانی سے کام لینے کی جر ء ت کسی کو نہیں ہوگی مردم شماری کا عملہ جو معلومات جمع کرے گا وہ سو فیصد درست ہونگی مگرقانون میں ایک سقم اور نقص مو جود ہے اس میں غلط فارم ڈیزائن کرنے اور غلط معلومات لینے والے کے لئے کوئی قید ،کوئی جرمانہ مقرر نہیں ہے دراصل اس کے لئے بھی قید اور جرمانہ کی سزا ہونی چاہئے اسلام اباد کے دفتر میں ایک افیسر بیٹھا ہے اُس کو پاکستان کی سوسائیٹی کا کوئی علم نہیں ،پاکستان کے مذاہیب کا کوئی علم نہیں ،پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کا کوئی علم نہیں وہ سنیٹر اور ایم این ایز کو ملاقا ت کا وقت نہیں دیتا ،وہ کسی ادیب ،شاعر،مذہبی رہنما سے کبھی ملاقات نہیں کرتا وہ اپنے طرز عمل سے نمرود کا بیٹا یا فرعون کا پوتا لگتا ہے وہ پاکستانی اخبا ر پڑھنا اپنی توہین سمجھتا ہے وہ پاکستانی کی بات سننا اپنے شان کے خلاف سمجھتا ہے وہ سرکاری خزانے سے سالانہ 50کروڑروپے کے مراعات حاصل کرتا ہے مگر سر کار کے لئے یا وطن عزیز پاکستان کے لئے سال میں ایک گھنٹہ بھی نہیں دیتا اس نے مر دم شماری کا جو فارم بھیجا ہے وہ 1911 میں ڈیزائن کیا گیا تھا اُس فارم میں مذہب اور زبان کے بارے میں معلومات لینے کا خانہ نہیں ہے گلگت ،سوات ،چترال اور پشاور میں اس فارم کے ذریعے درست مردم شماری کی گنجائش ہی نہیں ہے حیات آباد پشاور کے ایک بلاک میں 4گھر ساتھ ساتھ ہیں ان گھروں میں 46 افراد رہتے ہیں ان میں سے 7 کالاش ،34مسلمان اور 5عیسائی ہیں مردم شماری کے فارم میں مسلمان اور عیسائی کا ذکر ہے مسلمان کے لئے 1کا عدد ہے عیسائی کے لئے 2کا عدد ہے کالاش کا نام بھی نہیں کالاش باشندے اپنا مذہب کیا لکھوائینگے ؟یہاں غلط معلومات دینے والے کی جگہ غلط معلومات لینے والے کو سزا ہونی چا ہیے گلگت کے محلہ کشروٹ میں چار گھر ساتھ ساتھ ہیں چاروں گھروں کے اندر 72افراد رہتے ہیں ان میں ممتاز دانشور عبدالخاق تاج بھی ہیں سینئر بیورکریٹ اور شاعر ظفر وقار تا ج بھی ہیں 72افراد شینا زبان بولتے ہیں بھارت میں یہ زبان سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے کارگل کے دونوں اطرا ف یہ زبان بولی جاتی ہے مردم شماری کے فارم میں اردو ،پنجابی اور سندھی کا نام ہے شینا زبان کا نام نہیں ہے یہ 72افراد پاکستانی زبانوں کے بارے کیا معلومات دینگے ؟ عبد الخالق تاج اپنی زبان پنجابی نہیں لکھے گا تو کیا لکھے گا ؟ اگر اس نے پنجابی کی جگہ شینا نہیں لکھوایا تو جرمانہ کس پر عائد ہونا چاہیے ؟ مر دم شماری کا عملہ خونہ چم سیدو شریف سوات آئے گا اس محلے میں 4گھر ساتھ ساتھ ہیں دو گھروں میں پشتو بولنے والے ہیں ایک گھر میں گاوری اور ایک گھر میں تو ر والی بولتے ہیں 68 افراد میں سے 32افراد پشتو بولتے ہیں 36 افراد گاوری یا توروالی بولتے ہیں فارم میں ان کی زبان کا نام نہیں ہے وہ اپنی زبان کے بارے میں کیا معلوما ت دینگے ؟ اس فارم میں غلط معلومات ہی آسکتے ہیں درست معلومات کے لئے فارم ہی ڈیزائن نہیں ہوا اگر جرمانہ کرناہے توہر فارم پر اسلام ابا دکے چیف سنسِس کمشنر کو 50ہزار روپے کا جرمانہ ہونا چاہیے وہ غلط فارم پر غلط معلومات کیوں جمع کروا رہا ہے اس طرح گولدور چترال ٹاون کا ایک محلہ ہے اس محلے کے چار پڑوسیوں میں سے ایک گھر میں پشتو ،دوسرے گھر میں کالاش اور بقیہ دو گھروں میں کھوار بولی جاتی ہے مردم شماری کے فارم میں 12افراد اپنی زبان پشتو لکھینگے 50 افراد کی زبانوں کا نام ہی نہیں ہے 8کالاش اور 42کھوار بولنے والے اپنی زبان اگر پشتو لکھینگے تو 50ہزار روپے جرمانہ ہوگا اگر وہ لکھیں کہ ہم کوئی زبان ہی نہیں بولتے تو غلط بیانی ہوگی مر دم شماری کا فارم ڈیزائن کرنے والوں کو یہاں جرمانہ خود بھرنا چاہیے اس غلط فارم کے ذریعے مر دم شماری کا پہلا نقصان یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی ،سوسائیٹی ،زبان اور مذہب کے بارے میں درست معلومات جمع نہیں ہونگے کالاش ،کھوار ،شینا ،گاوری ،توروالی اور دیگر زبانوں کے بغیر مردم شماری رپورٹ غلط ہوگی کالاش اور دیگر مذاہب کے ذکر کے بغیر مردم شماری ادھوری ہوگی دوسرا نقصان یہ ہے کہ گلگت ،سوات اور چترال میں اس کو پنجابی قومیت کی ضد اورہٹ دھرمی سے تعبیر کیا جارہا ہے سوشل میڈیا اور آن لائن اخبارات میں پنجابی تعصب اور تکبر کو ہدف تنقید بنایا جارہا ہے گویا Census Division نے جان بوجھ کر پورے ملک اور خصوصاًگلگت بلتستان ،چترال اور سوات میں پنجاب کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے اور یہ قومی یک جہتی کے لئے خطر ناک ہے اب بھی مر دم شماری میں ایک مہینہ باقی ہے حکومت کو ڈاکٹر طارق رحمن اور ڈاکٹر عطش درانی سے مشاورت کر کے مسئلے کا ابرو مند انہ حل نکا لنا چاہئے ورنہ پولیومہم کی طرح مردم شماری کا عمل بھی بدامنی کی نذر ہوجائے گا لوگ بائیکا ٹ کرینگے یا عدالت سے حکم امتناعی لیکر مردم شماری کو ملتوی کروائینگے غلط معلومات دینے والے کے لئے 50ہزار روپے کا جرمانہ درست ہے یہی جرمانہ غلط معلومات لینے ،غلط فارم ڈیزائن کرنے اور غلط مردم شماری کرانے والوں پر بھی عائد ہونا چاہیے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔