آپٹک فائبرکی تنصیب سے چترال میں تعلیمی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی: ستراج احمد، سابق تحصیل ناظم

چترال ( محکم الدین ) سابق تحصیل ناظم چترال سرتاج احمد خان نے کہا ہے  کہ چترال کی ترقی کیلئے لواری ٹنل کے بعد فایبر آپٹِک کی تنصیب سب سے اہم ہے ۔ اس سے چترال کے تعلیمی اداروں میں انقلاب آئے گا ۔ اور حصول علم کیلئے تشنہ طلبہ اس سے بے پناہ فوائد حاصل کر سکیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ فائبر اپٹیک کی باقاعدہ سروس 15 جولائی سے شروع کیا جائے گا ۔ فی الحال تجرباتی طور پر سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔ اس میں کئی قسم کی کمزوریاں موجود ہیں ۔ اور یہ سروس مردان سے چترال تین سو کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ جبکہ لواری ائریے میں کیبل کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ ان کی بتدریج مرمت کرکے 15جولائی کے بعد کمرشل سروس شروع کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ فائبر آپٹیک کی سروس سے سمارٹ ٹی وی کی سہولت بھی حاصل ہوگی ۔ جس کے ساتھ چار ہزار روپے کی قیمت کا اضافی پُرزہ ٹیلیفون کے ساتھ لگانا پڑے گا ۔

انہوں نے کہا  کہ ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ آپریشن نیٹ ورکنگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی ٹی سی ایل وجیہ انور کی چترال سے دلی محبت ہے ۔ اور انہوں نے چترال کے لوگوں کو ٹیلیفون کی سہولت فراہم کرنے کیلئے اہم کام کئے ہیں ۔انہوں نے کہا ۔ کہ چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ذمہ دار کی حیثیت سے میں نے ایگزیکٹیو ممبر حاجی عبدالغفا ر کو ساتھ لے کر گذشتہ روز اُن سے ملاقات کی ۔ جس میں انہوں نے ہماری درخواست پر موری لشٹ میں نئے ایکسچینج کے قیام اور کوغذی گولین میں میڈیا کا مسئلہ حل کرنے کیلئے کیبل بچھانے کی منظوری دی ۔ جبکہ اس سے قبل انہوں نے لاسپور ، بمباغ ، ریشن ، بمبوریت ، کریم آباد ، موری لشٹ ، چمرکن ، وریجون ، زیزدی اور شاگرام میں وائرلیس لوپ کے ٹاور لگا دیے تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ان ہی کی دلچسپی اور تعاون سے چترال ، ایون ، دروش اور بونی میں ڈی ایس ایل ایم نصب ہوئے ۔ انہوں ان اقدامات پر وجیہ انورکا دلی شکریہ ادا کیا ۔اور اُن کے کردار کی تعریف کی ۔ سرتاج احمد خان نے کہا ۔ کہ گلگت چترال سی پیک کے تحت چینی حکومت کے تعاون سے سروے ہو چکا ہے ۔ اس سے ٹیلیفوں کے جتنے بھی مسائل ہیں حل کئے جائیں گے ۔ سابق تحصیل ناظم نے کہا ۔ کہ فائبر اپٹیک کی سروس کیلئے چترال کے نمایندگان ایم این اے ایم پی ایز ، ضلع ناظم چترال کے علاوہ جس نے بھی کردار ادا کیا ۔ اُن سب کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔ چترال کے لوگوں کی خدمت اپنی حیثیت کے مطابق انجام دینا عوامی نمایندگان سمیت اُن تمام افراد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ جن کی بات حکومتی سطح پر سنی جاتی ہے ۔ اس لئے کریڈٹ کے تنازعے میں پڑنے کی بجائے چترال کی خدمت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کو اب بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ اس لئے چترال کے لوگوں کو ان مسائل سے نکالنا اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے ۔ اور ہمارا مقصو د یہ ہو نا چاہیے ۔ کہ چترال کے عوام کو سہولت ملے ۔ بھلے ہمیں کوئی کریڈٹ دے یا نہ دے ۔

آپ کی رائے

comments