اسلامی اور غیر اسلامی تہذیبیں

اسلامی اور غیر اسلامی تہذیبیں

29 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شاہ عبداللہ
ناظم تعلیمات دارالعلوم غذر

اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے اس میں کوئی کمی اور نقص نہیں، جحۃ الوداع کے موقع پر جو قرآن کریم کی جوآیتیں نبی کریم ﷺ اس میں دین کی تکمیل کا اعلان واشگاف الفاظ میں کیا گیا ہے اور اسی دین اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیا گیا ہے۔ دین کامل کے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگلی شریعتیں یا تہذیبیں ناقص تھیں اس لیے کہ وہ آخری سچائیاں ہوتیں تو پھر نئے دین، نئی کتاب اور نئے رسول کو بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اس لیے آیا تھا کہ تہذیبوں کو سہارا دے اور ان کے صالح نقوش کو ابھارے، مذاہب کی تجدید و اصلاح کرے ، وقت کی مانگ اور نئے تقاضے پورے کرے ، فکر و نظر کی خلیج کو پاٹ دے اور اس حقیقت کو ماننے کے بعد یہ بھی ماننا ضروری ہے کہ اب اسلام کے سواکسی بھی مذہب و تہذیب میں زندہ رہنے اور زندگی کو کچھ دینے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مذہب کوئی عالمی صداقت مکمل شکل میں باقی رہ گئی ہو۔ لہذا سابقہ ادیان اور تہذیب و تمدن کی مشابہت اختیار کرنا یا شاہان کسریٰ کے تمدن کے حسن کے گیت گانا یا ان کی کسی تہذیبی تہوار کو اختیار کرنا دین اسلام کے ناقص ہونے کا تصور ہے۔

مسئلہ تشبہ دین اسلامی تہذیب کا ایک بنیادی عنصر ہے۔لاالہ الا اللہ پر ایمان رکھنے والی قوم جب تہذیبی مسائل پر پہنچتی ہے تو اس سے حکم ملتا ہے کہ وہ لا الہ کے تقاضوں اور اس کے دورس مطالبات کے پیش نظر ان تمام تہذیبوں سے پرہیز کرے جو اسلام سے ٹکراتی ہوں۔ اور اسلامی تہذیب کو فروغ دے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے ۔

اسلام چونکہ آخری صداقت اور انسانیت کے لیے مکمل نعمت ہے اس لیے اس میں زندگی کے قدروں اور اچھے برے کا معیار بہت واضح مکمل اور دو ٹوک ہے۔ وہ فلسفہ نہیں کہ چھوٹی موٹی سچائیوں کی اپیل کرے۔ اس سے انسان بنانا اور ڈھالنا ہے اس لیے وہ زندگی کے لیے بنائے ہوئے سانجے دیتے اس لیے اسلام کا مقصد کفر اور کفریہ تہذیبوں کی مخالفت ہے، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں یہود و نصاری ،مشرکین یا دوسری قوموں کی مشابہت سے روکا گیا ہے اس کا کھلا مفہوم یہ ہے کہ ہر غیر اسلامی شعار سے بچنا اسلام کو مطلوب ہے اور یہ بات چند معاملات میں مخالفت یا ترک تشبہ سے پورا نہیں ہوگا بلکہ اس کے پورے تقاضوں پر عمل ضروری ہے۔اور وہ فرماتے ہیں کہ جب شارع علیہ السلام نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے تو پھر نیت اور عدم نیت ، شعور اور بے شعوری کا کوئی فرق نہیں رہ جاتا جیسے مریض کو ان تمام چیزوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے جو بدپرہیزی میں شمار ہوتی ہیں خواہ ان کے استعمال میں اس کی نیک نیتی ہی کو دخل کیوں نہ ہو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر شعبے میں یہود ونصاری اور غیرمسلم قوموں کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے رویت ہے “جزواالشوارب وارخواللحی خالفوا المجوس ” مونچھیں کترا داڑھیاں بڑھا مجوس کی مخالفت کرو۔ترمذی شریف میں حجرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔”غیروا الشیب ولاتشبھوا بالیہود” سفید بالوں کو خضاب دو، یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ” حلق القفا من فعل المجوس” گدی کے بال کاٹنا (اور آگے کی طرف بال چھوڑنا ) مجوس کا فعل ہے۔

حضرت عمر بن عاص سے روایت ہے کہ ” اہل کتاب اور ہماریروزوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہم سحری کھاتے ہیں اور وہ نہیں کھاتے ہیں” ابوداد شریف میں حضرت ابوایوب انصاری کی روایت ہے کہ ” میری امت اس وقت تک کامیاب رہے گی جب تک کہ وہ مغرب کی نماز میں تاخیر نہ کرے اس لئے کہ یہود ونصاری مخر کرتے ہیں”

اسی طرح اور بیسوی روایات ایسی ہیں جن میں غیرمسلم اقوام وملل کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔تشبہ کی بنیادی حدیث ابوداد میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ” من تشبہ بقوم فھو منھم” جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا ۔ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی روح سے تشبہ کم از کم حرام ٹھہرتا ہے۔ مسلمانوں کو ان تمام تشبہات سے پرہیز کرنا چاہیے جو اسلامی روایت اور تعلیمات کے متصادم ہوں۔

غیر اسلامی عیدوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ غیر اسلامی تہذیبوں کا سب سے بڑا رمز اور ان کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہیں۔ اس لئے ان میں شرکت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مسلمان سب سے بڑے شعار کفر اور علامت شرک کو اپنا لے کیونکہ یہ تہوار غیر اسلامی شعار ہیں اور اسلام میں صرف دو ہی عیدیں “عید الفطر ،اور عید الاضحی ” ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی عید غیر اسلامی تہذیب کا شکار ہے ۔ اس تشبہ کی خرابیوں پر لوگوں کی نگاہ عموما نہیں جاتی، عدم تشبہ کی ایک حکمت یہ ہے کہ کسی قوم سے تشبہ کے بعد اس کی خرابیاں نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں اور اس کی طرف عام میلان پیدا ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی عظمت دل میں اترجاتی ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ غیرمسلم اقوام سے مشابہت نہ رکھنے سے اہل حق کی طرف میلان بڑھتا ہے اور جب کسی کے پاس زندہ دل ہو اور اسلام کا حقیقی عرفان بھی رکھتا ہوتو اہل باطل سے دوری اور ان کے اخلاق سے پرہیز میں بھی ثابت قدم ہوگا ۔

ایک اور مصلحت یہ ہے کہ غیر مسلموں سے ظاہری مشابہت کے بعد حق و باطل کی تمیز اور قومی انفرادیت ختم ہوجاتی ہے لہذا جو لوگ اسلام کو کامل اور مکمل دین سمجھتے ہیں ان کو غیر مسلم اقوام وملل کی کئی تہذیبوں اور ان کے شعار سے پرہیز کرنا ہوگا اسلام کے دامن رحمت میں اپنی کامیابی تلاش کرنی ہوگی۔ورنہ غیروں کا طریقہ اختیار کر کے ان کے تہواروں کو اپنا تہوار قرار دیکر مختلف ناموں کے ساتھ منانا کبھی نوروز کبھی جشن بہاراں ،کبھی جشن تخم ریزی اور کبھی کسی اور نام سے یہ اسلام اور اہل اسلام کا مشن نہیں ہوسکتا ۔

اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم سے نوازے۔(آمین)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔