شگر: سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا

شگر: سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)شگر میں سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر ابراہیم ثنائی خصوصی طور پر شریک ہوے۔

اس موقعے پر خطاب کرتےہوے وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کہا ہے کہ جی بی کالجوں اورمحکمہ تعلیم میں اساتذہ کی کمی سابق حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہوئی۔موجودہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کے بعد فری یونیفارم اورغریب طلباء و طالبات کیلئے وظائف کا اجراء کیا جارہا ہے۔جبکہ ہر اضلاع میں دو دو ماڈل سکول قائم کیا جارہا ہے جہاں کیڈٹ کالج سے بھی بہتر ہوگی۔جی بی میں ایک لاکھ طلباء وطالبات میں مفت کتابوں پر 20کروڑ روپے خرچہ آئے گی۔ہم اپنے اے ڈی پی کے 40فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کررہے ہیں۔ اور محکمہ تعلیم میں میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی یقینی بنائی گئے۔اور اسی سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔ شگر میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات میں کتابیں تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ کا فالو کرنے پر ہمارے اپنے اورہمارے ووٹر ہم سے ناراض ہے لیکن ہم میرٹ کو قائم رکھیں گے۔کالجوں اور سکولوں میں اساتذہ کی کمی کی اصل وجہ سابق حکومت کی غلط پالیسی اور فیڈرل سروس کمیشن کو لکھے گئے خط ہے ۔ جس میں سابق حکومت نے گلگت بلتستان سروس کمیشن کی تشکیل دئے بغیر ہی گریڈ 17کے اوپر کے اساتذہ اور لیکچرر کو صوبائی کمیشن کی ذریعے لینے کا فیصلہ کیا گیا ،تاہم ہم نے دوبارہ ایف پی ایس سی کے ذریعے ہی ان کی تعیناتی کافیصلہ کیا گیا ہے ۔ انشاء اللہ تمام اداروں میں سٹاف کی کمی فوری پوراکیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کے بعد فری یونیفارم اورغریب طلباء و طالبات کیلئے وظائف کا اجراء کیا جارہا ہے۔تاکہ کوئی بھی بچہ یا بچی تعلیم سے محروم نہ رہے۔جی بی میں ایک لاکھ طلباء وطالبات میں مفت کتابوں پر 20کروڑ روپے خرچہ آئے گی۔ہم اپنے اے ڈی پی کے 40فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کررہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں روزگار کے وسائل دیگر صوبوں کے مقابل میں انتہائی محدود ہے۔ہم تعلیم میں اگر تیزی نہیں لائی تو خودکشی کے مترادف ہوگی۔سی پیک اس خطے سے گزررہے ہیں اور سی پیک میں ہمارے پڑھے لکھے جوانوں کو موقع دینے کیلئے بہتر تعلیم انتہائی لازمی ہے۔ہماری حکومت تعلیمی صورتحال کی بہتری کیلئے مغربی طرز تعلیم کو جی بی میں لانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں اس سلسلے میں برطانیہ،کینیڈا،بیلجیئم اور کوریا کی وزیر تعلیم سے ملاقات کی ہے اور ان سے اس بارے میں خصوصی گفتگو کی.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان نے کہا کہ محکمہ تعلیم شگر کی کارکردگی قابل تعریف ہے موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر علاقے میں تعلیمی صورتحال میں بہتری کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ علاقے کی عوام کو اس پر مکمل اعتماد ہے۔ سابق ممبر ضلع کونسل حاجی وزیر فداعلی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے میرٹ کو فالو کرنے کی پالیسی بہتر اقدام ہے جب تک میرٹ قائم نہیں ہوگا کسی بھی ادارے میں بہتری نہیں آئیں گے۔انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم کی توجہ انٹرکالج کی حالت زار کی طرف دلائی اور کہا کہ گذشتہ سال وفاقی وزیرتعلیم بلیغ الرحمن اور صوبائی وزیر کو کالج کے پی سی 4کی کاپی فراہم کی تھی اور کالج میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی کمی کی جانب توجہ دلائی تھی جس پر وفاقی وزیر نے یقین دلایا تھا کہ فوری طور سٹاف کی کمی کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے تاہم اب تک کوئی قدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔اس موقع خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر عبدالحمید نے کہا کہ کم وسائل اور اساتذہ کے باؤجود محکمہ تعلیم شگر کی کارکردگی دیگر اضلاع سے کافی بہتر ہے۔میڈیاجہاں ہماری کوتاہی کی نشاندہی کررہے وہاں بہتر کارکردگی پر ہماری حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہئے۔تنقید برائے تعمیر کی ہم خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔صوبائی حکومت کی جانب سے کتابوں کی فراہمی میں دیر ضرور ہوئی لیکن اس کے باؤجود محکمہ تعلیم نے تعلیمی سلسلے کو رکنے نہیں دیا بلکہ کورس سردیوں میں اور اس ماہ بھی جاری تھا۔اب کتابیں پہنچنے کے بعد سے درسی کورس کو پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا جائے گا۔

ممبر جی بی کونسل وزیر اخلاق حسین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کو کرپشن فری زون بنائیں گے۔سابق دور حکومت میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نوکریوں کیلئے باقاعدہ بولیاں لگتا تھا لیکن ہماری حکومت کے آتے ہی شفاف طریقے سے اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنائی۔جبکہ محکمہ پولیس میں میرٹ کو بحال کیا۔وزیر اعلی کی قیادت میں محکمہ تعلیم اور دیگر اداروں کی بہتری کیلئے دن رات کوششیں کررہے ہیں۔ بلتستان یونیورسٹی کی قیام کے بعد اس ریجن میں تعلیمی انقلاب آئے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔