غیر منصفانہ رویہ 

غیر منصفانہ رویہ 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اجلال حیدر

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ پید افرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اشرف المخلوقات کا رتبہ بھی عطا کیا ہے اور یہ بلند مرتبہ کسی اور کو عطا نہیں کی ۔

اس کرہ عرض پہ بنی نوع انسان کے لیے بے شمار وسائل بھی پیدا کی ہیں تاکہ انسان کسی بھی چیز کا محتاج نہ ہو ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں کو انتخاب کیآزادی دی ہے وہاں یہ بات بھی واضح کیا ہے کہ خیر و شر کیا ہے ، نیکی اور بدی کیا ہے ، نقصان کس میں ہے اور فائدہ کس میں ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بندوں کی رہنمائی کا انتظام بھی بہت اعلیٰ طریقے سے کیا ہے جو کہ ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے اس کے باوجود کچھ لوگ کافر بنے ، کچھ منکر بنے اور کچھ مسلمان ہی رہے۔ کافر ، منکر ، شرک اپنی جگہ مگر میں بات کرنا چاہتا ہوں مسلمانوں کی اور اسلامی ملک پاکستان کے حکمرانوں کی ۔

مجھے نہیں معلوم کہ میرے ملک کا حاکم کیا بول رہا ہے۔ جھوٹ بول رہا ہے یا سچ بول رہا ہے ۔ بات موجودہ حاکم اور اس کے وزراء کی نہیں بات ان سے پہلے والوں کی بھی ہے دراصل بات پاکستان کی سیاست کی آغاز سے ہے ۔ اگر سب سے پہلے حکومت کے کارندوں نے جھوٹ کا سہارا لیکر حکومت کی ہے تو ضرور دوسری حکومتوں نے بھی اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے ان سے زیادہ جھوٹ اور فریب کا سہارا لیا ہوگا اور اگر پہلی حکومت نے سچ اور فرض سمجھ کر حقائق پر مبنی حکومت کی ہو تو آنے والی حکومت بھی یہی کرتی جو کہ نہیں ہے۔ گلہ مجھے اپنے آپ سے نہیں بلکہ گلہ مجھے اُسے ہے جو میرا اور عوام الناس کے ووٹ سے منتخب ہوا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد مجھ سے ہی جھوٹ بول رہاہے ۔ اسلامی جمہوریملک کا مسلم حکمران، جو کہ اپنے ملک اور عوام سے وفاداری کا حلف لینے کے باوجود اپنے عوام سے جھوٹ بول رہاہے ۔ حیر ت کی بات تو یہ ہے کہ منشور 10 صفحات پر مشتمل ہوتاہے اور کام ایک لائن کا بھی نہیں ہوتا ہے ۔حکمران عوام کی خدمت کرے یا نہ کریمجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ ہی کسی نہ کسی طریقے سے وسائل عطا کرتا ہے اور وہ طاقت ، ہمت ، جذبہ، اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندے کو بخشتا ہے۔لیکن جو بات دل میں چبھتی اور کھٹکتی ہے وہ سیاستدانوں کا عوام الناس کے ساتھ غیرمناسب رویہ ہے ۔ غیر ہماری تعریف کیسے کرے، کس لیے کرے، اس لیے کرے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں یا اس لیے کر ے کہ ہم جھوٹ بول کر بھی اپنی کرسی بچائیں ، جیتنے کے لیے دھاندلی کرکے جیتے ہیں اور اگر ہارگئے تو الزام تراشی شروع کرتے ہیں۔

افسوس ہے کہ حکومتیں اپنی پانچ سالہ مدت جھوٹ اور فریب کا سہارا لیکر پوری کرنے کے بعد خوشیاں مناتیہیں اور مدت پوری کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہمارے دور حکومت میں بم دھماکوں سے کتنے لوگ بے گنا ہ مرے ہیں، بھوک سے مرے اور کتنوں کے گھر اُجڑ گئے ہیں اور کتنے لوگوں کے حقوق غضب ہوئے ہیں ۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ ایک اسلامی ملک کے مسلم حکمران ہونے کے باوجود قرآن اور اسوہ حسنہ کا آپ کے سامنے ہونے کے باوجود کتنا جھوٹ کا سہارا لیا ہے، کیوں ڈرتے ہیں سچ بولنے سے سچ بولوگے تو کیا ہاروگے؟

ایک ایسا کیس جس کے بارے میں بہت بولا گیا ،پانامہ کیس نے مجھے کافی حد تک مضطرب کیا ہے تقریباً ایک مہینے سے عوام سیاسی ، سماجی طبقے اس کے بارے میں بول رہے ہیں فریقین کسی بھی صورت ہار ماننے کو تیار نہیں لیکن یہ لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ کیا بول رہے ہیں مجھے غر ض اس بات سے نہیں کہ کون جیتے گا یا کون ہارے گا ۔ اس کے بعد بات عدلیہ کے فیصلے تک محدود نہیں، بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے شعور اور سوچ اپنی سوچ تک محدود لیکن ابھی تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ دونوں فریقین میں سے سچ کون بول رہا ہے اور ……… کون بول رہا ہے۔

آخر میں دعاگو ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ ہم سب کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے محترم سیاست دانوں کو بھی سچ بولنے ، مملکت خداد اد پاکستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خدمت کرنے کی ہمت عطا کرئے اور افواج پاکستان کو ان مشکل حالات میں فتح و کامرانی نصیب فرمائے ۔ آمین۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔