شندورمیلے کی تیاریاں شروع

دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور میں سہ روزہ میلہ 7 جولائی سے شروع ہورہا ہے گلگت بلتستان اور کے پی کے کی حکومتوں نے اس اہم ایونٹ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، اور تازہ دم گھوڑے بھی شندور پہنچا دئیے گئے ہیں۔ دوسری طرف اس اہم میلے میں شرکت کے لئے ہزاروں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے شندور جانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہے کئی سیاح ابھی سے ہی غذر اور چترال کی بالائی علاقوں میں خیمہ زن ہوگئے ہیں جہاں تک شندور ایونٹ کاتعلق ہے یہ ایک انٹرنیشنل ایونٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے اور سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس اہم میلے میں شرکت کے لئے گلگت بلتستان اور چترال کے راستے شندور پہنچ جاتے ہیں اور تین روز تک اس اہم ایونٹ میں شرکت کرکے اس پر فضا مقام اور جنت نظیر وادی کی اچھی یادیں لیکر اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں شندور ٹورنامنٹ کی وجہ سے نہ صرف گلگت اور چترال بلکہ دونوں صوبوں کو ان سیاحوں کی آمد سے کروڑوں روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔

شندور کی خوبصورتی کو دیکھ کر غیرملکی سیاح تین روز نہیں بلکہ کئی دنوں تک اس پر فضا مقام پر خیمہ زن ہوتے ہیں اور جب یہاں سے چلے جاتے ہیں تو بڑی یادیں لیکر جاتے ہیں خصوصا ان دونوں علاقوں کے عوام کی مہمان نوازی سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس سال ریکارڈ سیاحوں کی شندور آمد متوقع ہے چونکہ ملک میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی ہزاروں سیاحوں نے خطے کے بالائی علاقوں کا رخ کر دیا ہے اور یہ سیاح یہاں کے خوشگوار موسم سے خوب انجوائی کرتے ہیں اور یہ سیاح 7جولائی سے دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور میں ڈیرے ڈال دینگے۔

1983سے قبل شندور میں کسی قسم کی کوئی تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ جنت کاایک ٹکڑا لگتا تھا 1987میں جنرل ضیاالحق نے سہ روزہ شندور میں شرکت کے لئے شندور آنا تھا جس پر چترال سکاوٹس نے شندور میں دو کمروں پر مشتمل ایک ریسٹ ہاوس تعمیر کیا اس کے بعد سالانہ کچھ نہ کچھ شندور میں تعمیر ہوتا گیا جس سے شندور کی حسن میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اگر تعمیرات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس خوبصورت علاقے کی خوبصورتی ختم ہوجائیگی حالانکہ سابق صدر پرویز مشرف نے دنیا کے اس خوبصورت مقام شندور میں کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی تھی اس کے باوجود بھی طاقت کے بل بوتے پر تعمیرات سمجھ سے باہر ہے جبکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ کے پی کے کی حکومت نے شندور کو بھی سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں ایک عالیشان ہوٹل کی تعمیر کے علاوہ دیگر تعمیرات کے حوالے سے بھی باتیں ہورہی ہے بلکہ یہاں تک بتایا گیا ہے کہ یہاں پر کرکٹ اور ہاکی کے گراونڈ بھی تعمیر ہونگے جس پر پونے دوارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی گراونڈ کی تعمیر تک کی بات تو سمجھ آتی ہے مگر ہوٹل اور دیگر تعمیرات اگر شندور میں کئے گئے تو اس سے اس جنت نظیر خطے کی قدرتی حسن ختم ہوجائیگی اس حوالے سے ہمارے حکمرانوں کو سوچنا ہوگاچونکہ جب اس قدرتی حسن سے مالامال علاقے میں اگر تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا تو اس خوبصورت علاقے کی قدرتی حسن میں کمی ائیگی۔ شندور کو سی پیک میں شامل کرنے کے حوالے سے کے پی کے گورنمنٹ نے جی بی حکومت کو اعتماد میں لیا ہے یا نہیں اس کا جواب تو گلگت بلتستان کے حکمران ہی بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں چونکہ پانچ سے چھ کلومیٹر قدرتی حسن سے مالامال اس خطے کو دیکھنے سالا نہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں اگر اب اس علاقے میں اتنی ساری تعمیرات ہونگی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غذر اور گلگت کو ہوگا شندور جھیل کا پانی الودہ ہوگا اور یہ پانی جوکہ دریائے غذر میں داخل ہوتا ہے ہم صاف وشفاف پانی کی بجائے الودہ پانی پینے پر مجبور ہونگے اس حوالے سے بھی گلگت بلتستان کی حکومت کو آواز بلندکرنی ہوگی اگر یہاں پر ہوٹلوں کی تعمیر اور دیگرتعمیرات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اسکا سب سے زیادہ نقصان گلگت بلتستان کو ہوگاچونکہ شندور جھیل سے ایک قطرہ پانی بھی چترال کی طرف نہیں جاتا جھیل کا پانی غذر کی طرف آرہا ہے دوسری طرف کے پی کے حکومت نے اپنی مرضی سے شندور میں تعمیرات کے حوالے اس اہم منصوبے کو سی پیک میں رکھا ہے اور اس حوالے سے بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے بھی کے پی کے حکومت نے جی بی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور اپنی مرضی سے پونے دو ارب روپے شندور میں تعمیرات کی مد میں سی پیک میں شامل کرا دیا ہے اور ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے فائدہ کے پی کے کو ہوگا اور جی بی کے صاف وشفاف پانی الودہ ہوگا اور تمام الودہ پانی دریائے غذر میں شامل ہوگا اس حوالے سے گلگت بلتستان کی حکومت کو ابھی سے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کرنا ہوگا ورنہ اس حوالے سے بھی ہم نے غلطی کی تو ہمارے آنے والی نسلیں کمی ہمیں معاف نہیں کریگی۔

قارئین کرام شندور میلے کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے اور گلگت سے شندور میلے میں شرکت کے لئے پولو کے کھلاڑی اپنے گھوڑوں سمیت شندور پہنچ گئے ہیں7 جولائی سے 9 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے اور ابھی سے ہی شائقین پولو نے غذر کے بالائی علاقوں میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور اس وقت ہزاروں کی تعداد میں سیاح غذر کے بالائی علاقوں میں خیمہ زن ہیں سطح سمندرے1t700فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا بلند ترین پولو گراون شندور میں ہر سال ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور چترال کے ہزاروں شائقین پولوکی ایک بڑی تعداد دنیا کے اس بلند ترین پولو گراونڈ میں کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں حکومتی ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس سال بھی شندور میلے کی میزبانی گلگت بلتستان اور کے پی کے کی حکومتیں مشترکہ طور پرکرئے گی اور برابر ی کی بنیاد پر شندور میلے کا انعقاد کیا جائے گا جو کہ ایک نیک شگون ہے گزشتہ کئی سالوں سے پولو میچ میں گلگت اے ٹیم چترال اے ٹیم سے ہار رہی ہے جس سے گلگت بلتستان کے شائقین سخت مایوس ہوتے ہیں مگر اس سال گلگت سے پولو کے اچھے کھیلاڑیوں کو گلگت اے ٹیم میں شامل کر دیا ہے اور باقاعدہ اس حوالے سے کھیلاڑیوں کے انتخاب کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی سفارش پر کھیلاڑیوں کا چناؤ کیا گیا ہے اس سال گلگت بلتستان کے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ شندور میلہ 2018گلگت اے کی ٹیم اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگی عوام جی بی کے یہ توقعات کس حد تک پورے ہوتے ہیں اس کا پتہ تو 9جولائی کو ہی چلے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments