بلات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اخبارات کی بندش کے خلاف صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، اسمبلی کے باہر دھرنا

بلات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اخبارات کی بندش کے خلاف صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، اسمبلی کے باہر دھرنا

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (فرمان کریم) گلگت بلتستان میں آٹھ روز سے اخبارات کی اشاعت بند۔ حکومت اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور اشتہارات کی مد میں گزشتہ  سال سے مقامی اخبارات کے کروڑوں روپے کی رقم ادا نہ کرنے خلاف گلگت بلتستان کے تمام صحافتی تنظیموں،  پریس کلب گلگت، گلگت یونین آف جرنلسٹس، میڈیا پروٹیکش کمیٹی اور ایڈیٹرز فورم کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی تک  احتجاجی ریلی نکالی گئی اور اسمبلی کے  مرکزی دروازے پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ جہاں قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بهی جاری تها۔

صحافیوں کی احتجاجی ریلی سے اظہار یکجہتی کیلئے اپوزیشن ارکان بهی شریک ہوئے اور گلگت بلتستان کے صحافیوں اور اخباری مالکان کے ساتھ حکومتی برتاو کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ حکومت ملک کے چوتھے ستون کے ساتھ غیر آئینی اور مقامی صحافت کا گلا دبانے سے باز آجائے ورنہ ایوان سے نکل کر حکومت کو اقتدار میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔

احتجاجی مظاہرے سے صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی حکومت جان لے کہ صحافت کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ صحافت کسی بهی معاشرے کا حقیقی آئینہ ہوتا ہے اور گلگت بلتستان کی صحافت بهی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کو ان کی کارکردگی کے بارے میں حقائق آگاہ کرتے ہوے اپنی زمہ داری ادا کرتی رہے گی۔ ن لیگ کی حکومت جب  سے  گلگت بلتستان میں اقتدار میں آئی ہے ان کا ہدف صرف  صحافیوں کا گلا گهوٹنے کے علاوہ کوئی اور کام روز اول سے نظر نہیں آیا ہے. صحافیوں کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرنے اور  دھمکیاں دینے کی روش اب برداشت نہیں کی جائے گی۔

مقررین نے کہا کہ سچ لکهنے پر  گلگت بلتستان کے صحافیوں کو شیڈول فور میں ڈال کر ڈرانے رچانے کا سلسلہاب بند ہونا چاہئے۔ کل سے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے صحافی اور صحافتی ادارے اپنے اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاجی دهرنے دینگے۔ اب  گلگت بلتستان میں ن لیگ کی کرپٹ حکومت اور صحافت میں سے صرف ایک کو رہنا ہوگا۔ حکومت کے اتنے بهیانک اقدام کی دنیا کی  میں مثال نہیں ملتی ہے۔ ایک سال  سے مقامی اخبارات کو بلات کی ادائیگی نہ ہونے سے اخباری مالکان آور صحافی خود کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

صحافتی تنظیموں نے  حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کرنے تک پریس کلب سے اسمبلی تک روزانہ احتجاجی ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔