چلاس: ہوٹل مالکان اور سبزی فروشوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا کریک ڈاؤن، بھاری جرمانے عائد کر دئے گئے

چلاس(مجیب الرحمان) سیاحوں اور مسافروں کو غیر معیاری کھانے کھلانے،ناقص پھلوں کی فروخت اور سرکاری نرخنامے سے زائد قیمتیں وصول کرنے والے ہوٹل مالکان اور سبزی فروشوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا زبردست کریک ڈاؤن بھاری جرمانے عائد کر دئے گئے۔میونسپل مجسٹریٹ شیخ فرید نے لیویز اہلکاروں کے ہمراہ اچانک ٹرانسپورٹ اڈہ اور شاہراہ قراقرم پر واقع بازار وں میں چھاپے مارے۔اس دوران انہوں نے ہوٹل مالکان کے کچن میں موجود اشیاء کے معیار کی چیکنگ کی اور کھانے کی تیاری کے مراحل کا بھی جائزہ لیا۔اور گندگی پھیلانے اور ناقص صفائی پر بھاری جرمانے عائد کئے۔انہوں نے بیکری کے کارخانے پر بھی چھاپہ مارا اور گندگی کی موجودگی پر سخت سرزنش کی اور جرمانہ عائد کیا۔کے کے ایچ میں غیر ملکی سیاحوں سے سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کر کے زیادہ قیمتیں وصول کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاح ہمارے مہمان ہیں ان سے زائد رقم وصول کرنا انتہائی زیادتی ہے کسی کو بھی اس طرح کی حرکت میں ملوث پایا گیا تو سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ دکاندار پر جرمانہ عائد کر کے وارننگ بھی دی۔کے کے ایچ میں واقع ایک ہوٹل کے فریزر میں موجود ایکسپائر مشروبات کو قبضے میں لے کر لیویز فورس کے ذریعے تلف کروا دیا۔جبکہ سبزی فروشوں کی دکانوں میں موجود سڑے ہوئے پھلوں کو بھی فوری طور پر تلف کروا دیا۔انہوں نے ہوٹلوں کے کمروں کا بھی جائزہ لیا۔اور ہوٹلوں میں قیام پذیر مسافروں سے کمروں کے کرایوں کی بھی معلومات حاصل کیں اور ہوٹل مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ کمروں کا کرایہ زیادہ ہرگز نہ لیں۔میونسپل مجسٹریٹ نے تندور وں پر بھی چھاپے مارے اور روٹی کا وزن بھی چیک کیا۔روٹی کا وزن کم ہونے پر جرمانہ عائد کر کے آئندہ کے لئے وزن برابر کرنے کی ہدایت کی۔چائے کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت پر ہوٹل مالکان اور چائے خانہ مالکان کی بھی سرزنش کی اور ہدایت کی کہ چائے کی قیمت فی کپ پندرہ روپے سے زیادہ ہرگز نہ لیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سرکاری نرخنامے سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کی فوری شکایت کی جائے تاکہ فوری طور پر انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی اور قیمتوں کی چیکنگ کی جارہی ہے۔انسانی جانوں کے ساتھ مضر صحت اور ناقص اشیائے خوردونوش اور مشروبات کے ذریعے زیادتی ہونے نہیں دینگے۔

آپ کی رائے

comments