مسابقتی کمیشن سے سزایافتہ ڈیری کمپنیاں اپنی مصنوعات دھوکہ دہی سے متبادل دودھ کے طور پر گلگت بلتستان میں آزادی سے فروخت کر رہی ہیں

مسابقتی کمیشن سے سزایافتہ ڈیری کمپنیاں اپنی مصنوعات دھوکہ دہی سے متبادل دودھ کے طور پر گلگت بلتستان میں آزادی سے فروخت کر رہی ہیں

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد (فدا حسین) مسابقتی کمیشن ایکٹ کی خلاف ورزی پرجرمانہ عائد ہونے کے باوجود سزایافتہ ڈیری کمپنیاں اپنی مصنوعات گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں متبادل دودھ کے طور پر فروخت کر رہی ہیں ۔ضلع گانچھے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں پر ڈیری روزانہ ،قدرط، ڈیری امنگ، ٹی میکس اور آل مکس وغیرہ ضلع گانچھے کے دہی علاقوں کے علاوہ ضلعی ہیڈ کوارٹر خپلو میں تمام دکانوں پر اس خرید و فروخت جاری ہے ۔ان کمپنیوں کے مصنوعات متبادل دودھ نہ ہونے کے باجود نہ صرف عام لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں بلکہ شیر خوار بچوں کو دودھ کے متبادل کے طور پر پلایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی طرف سے رواں سال 24جنواری کو جاری ایک آرڈر کے مطابق مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی پر اینگرو فوڈز لمیٹڈپر 6کروڑ22 لاکھ90 ہزار روپے،  نون پاکستان لمیٹڈ پر 20لاکھ روپے اور شکرگنج فوڈزپروڈکٹ لمیٹڈ پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ یہ آرڈر چیئر پرسن سی سی پی ودیعہ خلیل اور ممبران ڈاکٹر شہزاد انصر ،اکرام الحق قریشی پر مشتمل بنچ نے جاری کیا تھا۔یہ آرڈر سی سی پی کی جانب سے اس معاملے پر کی گئی انکوائری کے بعد جاری ہوا ۔آرڈر میں بتایا گیا ہے  انکوائری سے ثابت ہوا کہ اینگرو فوڈز لمیٹڈ، نون پاکستان لمیٹڈ اور شکرگنج فوڈزپروڈکٹ لمیٹڈمسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی اور ٹی وائیٹنرکی بطور دودھ تشہیر میں ملوث تھیں۔آرڈر کے مطابق اینگرو فوڈز لمیٹڈ اپنی  پروڈکٹ  “ڈیری امنگ-ڈیری ڈرنک” کی بطور دودھ کے جھوٹی اور گمراہ کن تشہیر میں ملوث تھی۔نون پاکستان لمیٹڈ  اپنی پروڈکٹ  ” ڈیری روزانہ-ڈیری ڈرنک ” کی پیکجنگ لیبلنگ میں یہ تا ثر دیتی تھی کہ اس کی پروڈکٹ ڈیری ڈرنک کی بجائے دودھ ہے۔اسی طرح شکر گنج فوڈز اپنی پروڈکٹ  “قدرت”کی لیبلنگ میں اس بات کا اظہارکرنے میں ناکام رہی تھی کہ اس کی پروڈکٹ دودھ کا متبادل نہیں ہے اور اس طرح صارفین سے دھوکہ دہی کی مرتکب ہوئی تھی۔

سی سی پی کے آرڈر کے مطابق کمپنیز کی جانب سے اپنی پروڈکٹ کے مواد کے متعلق معلومات کو صارفین سے چھپانا یا  اپنی پروڈکٹ کے مواد کے متعلق غلط معلومات دینا صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے اور مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی ہے۔اس لئے ان کمپنیوں کو مستقبل میں مسابقتی ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل کے متعلق انتباہ بھی کیا گیا تھااس کے باوجود گلگت بلتستان میں ان کمپنیوں کے مصنوعات متبادل دودھ کے طور پر آزادانہ خرید و فروخت جاری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔