آئے ڈی ایچ کیو ہسپتال استور چلتے ہیں جہاں۔۔۔۔۔

آئے ڈی ایچ کیو ہسپتال استور چلتے ہیں جہاں۔۔۔۔۔

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔ شمس الر حمن شمس

میں کبھی کبھی سوچھتا ہوں کہ آخر استور کے مسائل کیسے حل سکتے ہیں ۔۔۔؟بقول ارباب اختیار کے تو استور کے مسائل کم ہونا چاہیے لیکن دن بہ دن یہاں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔دیگر مسائل تو عوام جس طرح سے بھی سہ لینگے مگر صحت جیسا اہم مسلہ کو کیا کرئے جو انسان کی ذندگی اور موت کا سوال ہے ۔۔۔۔اگرچہ اسے پہلے وہ مریض جو شدید بیماری کی حالت میں استور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سہولیات نہ ملنے کے باعث گلگت ریفر کیا ہوں اور گلگت پہنچنے سے پہلے راستے میں دم تورڈ دیتا ہے پھر ان کے لواحقین ہاتھ اٹھا کر ضلع استور کے ارباب اختیار کو عاجزی کے ساتھ اللہ سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو غر ق کریں ۔۔۔۔۔جنہوں نے ہم سے ووٹ لیا اور ہماری ڈومیسائل سے آفیسر بنا مگر آج شہرت ،لالچ ، اقتدار کی خاطر بڑے بڑے شہروں میں رہایش پذیر ہیں

۔۔۔خیر ایک نہ ایک دن ان غریبوں کی بدعا لگ جائے گی کیونکہ اللہ کے دربار میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔۔۔۔قارئین کو ایک بات پتانا مناسب سمجھتا ہوں کہ اس وقت گلگت بلتستا ن میں سب سے ذیادہ ڈاکٹرز استور سے ہیں مگر بدقسمتی سے استور کا نام لینا گہوارہ نہیں کرتے ہیں اور نام نہاد ڈیوٹیاں خوشی سے دیگر اضلاع میں دیں رہے ہیں ۔۔۔۔مزئے کی بات یہ ہے کہ ان ڈاکٹرز کو منتخب ممبران اور دیگر بیوروکریٹس کی آشروات حاصل ہے جسے یہ ڈاکٹر ز بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں اگر یہ ڈاکٹر ز ایمانداری کے ساتھ آخرت کا سوچھ کر استور آ جائے اور یہاں پر اپنی خدمات سر انجام دیں تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ محکمہ صحت استور کے مسائل حل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ڈی ایچ کیو ہسپتال استور میں اس وقت صرف2ڈاکٹر اپنے فرائض سر انجام دیں رہے ہیں اور دونوں کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں اس حکومت میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔اس نام نہاد ڈی ایچ کیو ہسپتال میں جدید آپریشن کے لئے کوئی مشینری موجود نہیں ہے ہسپتال کی حالت ذار دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی cکلاس ڈسپنسری ہے ۔۔۔۔دوسری جانب ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تعمیر کرتے وقت محکمہ ورکس استور اور متلقہ ٹھکیدار نے ناقص میٹریل کا استعمال کیا ہے جس وجہ سے تمام وارڈمیں سمینٹ مکمل ختم ہو کر مٹی بن چکی ہے۔۔۔۔۔۔ اس حالت ذار کے باوجود بھی محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے ہسپتال ہینڈ اور ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہسپتال کی بلڈنگ کو ریپر نہیں کی گئی تو خطرئے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔۔۔۔ہسپتال میں موجود تمام ملازمین خاص طور پر نرسنگ حضرات ڈیوٹی ٹائم پر بھی اپنی کلینک میں دوائی فروخت کرتے نظر آینگے اور ہسپتال کی ڈیوٹی سے انکو کوئی غرض نہیں انکا غرض کلینک میں بیٹھ کر پیسے کمانا ہے۔۔۔۔۔۔ مریض آتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے خود اسپیشلسٹ بن کر اپنی کلینک میں لے جا کر دوائی دیتے ہیں بعد میں وہ دوائی ری ایکشن کرتی ہے اموات واقع ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔ اس طرح کے سگین مسائل کے باوجود بھی صوبائی حکومت کے پولیٹکل ایجنٹ کا منہ بند ہونا سوالیہ نشان ہے ۔۔۔۔۔؟اس وقت اس ہسپتال کے حوالے سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ضلع استور سے تنخوایں لیکر گلگت و دیگر اضلاع میں رہنے والے ڈاکٹر ز کو استور لانے سے ہیلتھ کے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے کامیابی کا پہلا ذینہ ہوگا ۔۔۔۔۔ اور اس وقت ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایک با صلاحیت ،ایم ایس تعینات کیا جائے تاکہ ہسپتال میں ایڈمیسٹریشن کے معملات چلائے اور تمام ملازمین کی ڈیوٹی کو یقینی بنا ئے تاکہ اس

ہسپتال کا نظام میں بہتری لا سکے ۔۔۔۔یہاں پر ایک اور بات کہنا ضروری ہے کہ اسی حلقے کا منتخب ممبر اور پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ ہونے کے باجود اس ہسپتال کی حالت ذار اس طرح ہونا میرئے خیال میں ناکا می کے سوائے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔موصوف اگر ڈ ی ایچ کیو ہسپتال گلگت ،اور دیگر اضلاع کے ہسپتالوں پر چھاپے مار کر اقدمات کے حوالے سے آواز اٹھاتا ہے تو میری گزارش ہوگی موصوف سے کہ کبھی اس ہسپتال کا بھی دورہ کریں جہاں سے ایک بہت بڑا عوامی مینڈیٹ ملا ہے اور آج ایوان میں بیٹھے ہوئے ہوں ۔۔۔۔اور اس وقت اس ہسپتال کے حوالے سے ضلع استور میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھی ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔تو چلے ہم سب ملکر محکمہ صحت استور کے اس نظام کو درست کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔۔ اس شعر کے ساتھ اجازت

خدا کرئے کہ میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندھیشہ ذوال نہ ہو۔۔۔۔۔ْْْ

یہاں جو پھول کھیلے وہ کھیلے رہے صدیوں

یہاں خزاں کا گزرنے کا بھی مجال نہ ہو۔۔۔۔؂

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔