جرگے کی جانب سے خواتین کو جشن میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ

جرگے کی جانب سے خواتین کو جشن میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جشن قاقلشٹ کمیٹی نامی ایک جرگے نے فیصلہ سنادیا ہے کہ 20سے 23اپریل تک بالائی چترال میں بونی سے ملحق قاغ لشٹ میں منعقد ہونے والے جشن بہاراں یا جشن قاغ لشٹ میں شرکت نہیں کرسکتیں۔ ایک نوٹیفیکشن میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مقامی خاتون کو ان چار دونوں کے اندر قاغ لشٹ جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اگر کسی نے اس فیصلے کو توڑنے کی کوشش کی تو پولیس کی مدد سے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔اس سلسلے میں تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف کی جانب سے اخباری بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ ”چترال کے اسلامی ماحول ، ثقافت اور اقدار کو برقرار رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی خاتون کو چارہ روزہ جشن قا غ لشٹ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔“

چترال کے ایک آن لائن اخبار ”چترال ٹوڈے”میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحصیل ناظم نے اپنے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ خواتین کو جشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا اشتہار مساجد، جماعت خانوں اور خواتین کے تعلیمی اداروں کو خط کے ذریعے مطلع کیا گیا ہےں ۔خبر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ صرف مقامی لوگوں کو فیسٹول میں شرکت کی اجازت ہوگی جس کا مقصد چترال کے ثقافتی کھیلوں اور کلچر کو فروع دینا ہے اور بیرونی لوگوں کی بھرپور حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ خبر اس لنک پر ملاحظہ فرما سکتے ہے،

http://www.chitraltoday.net/women-asked-to-stay-away-from-qaqlasht-fes

چترال ایکسپریس نامی اورویب سائٹ میں شائع ہونے والی خبر کچھ یوں ہے ”تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف اور جشن کا غ لشٹ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن عبداللہ جان نے کہاہے کہ20 اپریل سے شروع ہونے والے چار روزہ جشن میں خواتین کی شرکت پر پابندی کا سلسلہ پہلے کی طرح جاری رہے گا جبکہ اس سے قبل بھی چترال کی اسلامی ماحول، روایات اور تہذیب وتمدن کے پیش نظر عوام نے اس پابندی کو قبول کیا تھا جشن کا غ لشٹ میں صرف مقامی کھیلوں اور تہذیب وثقافت کو اجاگر کیا جائے اور غیر مقامی کھیلوں اور مشاغل کو اس میں شامل کرناہرگز مناسب نہیں ہے”۔

خبر اس لنک میں موجود ہے ۔

http://chitralexpress.com/archives/14849

جشن قاغ لشٹ کمیٹی کی جانب سے شائع کردہ ایک اشتہار کم نوٹس میں یوں لکھا گیا ہے، ”بذریعہ اشتہار ہر خاص وعام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جشن قاغ لشت 20اپریل 2017ءکو شروع ہونے والا ہے اس جشن کا مقصد صر ف اور صرف مذہبی رسومات اور چترال کی تہذیب وتمدن کو برقرار رکھتے ہوئے قدیم ثقافتی کھیلوں کو منعقد کر نا ہے ۔ اس جشن میں مرد حضرات محظوظ ہوسکتے ہیں البتہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی خواتین کی آمد پر پابندی لگائی گئی ہے ، اس سلسلے میں جشن قاغ لشت کمیٹی سنجیدہ ہے۔بزور شمشیر داخل ہونے کی صورت میں پولیس کی مدد لی جائے گی لہٰذا تمام مذہبی اسکالر ز اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داراں کی خدمت میں درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے مذہبی اور اخلاقی فرض ادا کرکے ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں۔

المشتہر جشن قاغ لشٹ کمیٹی”۔

 اس سلسلے میں جب تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف سے رابطہ کرکے اس فیصلے کی قانونی حیثیت سے متعلق دریافت کیا تو ان کا کہناتھا کہ یہ فیصلہ تحصیل کونسل کا نہیں بلکہ جشن قاغ لشٹ کمیٹی نامی ایک غیر رجسٹرڈ کمیٹی کا ہے ۔ اور اس فیصلے کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ان کا موقف تھا کہ اس چار روزہ جشن میں ہم اسلامی اقداراور اپنے ثقافتی روایات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین کو جشن میں شرکت سے منع کیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے سال کچھ بیرونی خواتین ایسے لباس پہن کر قاغ لشٹ آئی تھی جن کو یہاں کے لوگوں نے پسند نہیں کیا اور اس طرح خواتین کی شرکت سے فحاشی پھیلنے کے امکانات ہوتے ہیں۔جب ان سے اس فیصلے کی قانونی حیثیت جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تحصیل کونسل یا تحصیل انتظامیہ کا نہیں بلکہ جشن قاغ لشٹ کمیٹی کا ہے جو پہلے سے موجود روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی مقامی خواتین کو جشن قاغ لشٹ کے دوران وہاں جانے سے منع کیا ہے۔ اس فیصلے کے قانونی حیثیت کی بابت تحصیل میونسپل ایڈمینسٹریشن کے ایک سنیئر اہلکار نے کہا کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔اور نہ ہی انتظامیہ کسی کے خلاف کاروائی کرنے کا مجاذہے ۔ این جی اوز سے تعلق رکھنے والے خواتین، ایلیٹ کلاس کے خواتین اور بیرونی خواتین سیاحوں کی آمد سے متعلق سوال پر تحصیل ناظم کا کہناتھا کہ یہ فیصلہ صرف اور صرف مقامی خواتین پر لاگو ہوسکتا ہے غیر مقامی خواتین آسکتے ہیں ان کو روکنا ممکن نہیں۔ یعنی اس سے یہ بات واضح ہوگیا کہ طاقت ور خاندانوں کی خواتین پر کوئی پابندی نہیں البتہ غریب خاندان کے کسی خاتون کو جشن قاغ لشٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ تحصیل ناظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ غریب کو تو جشن منانے کی ضرورت ہی نہیں۔ جب سب ڈویژن مستوج کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حیات شاہ سے اس فیصلے سے متعلق پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ تحصیل انتظامیہ نے اس قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ، ہم صرف سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں ۔ جب اس سلسلے میں بونی تھانہ میں ایس ایچ او سے رابطہ ہوا تو ان کا موقف تھا کہ ہمیں نہ تو ایسی کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی قانون موجودہے جس کے مطابق خواتین کو جشن میں شرکت سے روک سکے ۔ تحصیل نائب ناظم اور جشن قاغ لشٹ کمیٹی کے چیئرمین فخر الدین کا موقف تھا کہ یہ فیصلہ اس سال کا نہیں بلکہ یہ پرانا فیصلہ ہے جس کو اس سال بھی ہم نے فالو کیا ۔چونکہ انتظامیہ کے پاس اتنے پولیس اہلکار نہیں کہ وہ خواتین اور مردوں پر نظر رکھ سکیں اور آنے والوں کی پراپر چیکنگ کرنا ممکن نہیں اس لئے سیکیورٹی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ خواتین اس جشن میں شرکت نہ کریں۔

ان سارے حقائق کے بعد اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کو جشن قاقلشٹ میں شرکت سے روکنے والا نہ تو تحصیل کونسل ہے اور نہ ضلعی وتحصیل انتظامیہ ۔ بلکہ یہ ایک کمیٹی یعنی جرگے کا فیصلہ ہے ، خصوصا وہ خواتین جن کا تعلق معاشرے کے غریب خاندانوں  سے ہیں ۔ البتہ چترال کے اندر اور باہر کے ایلیٹ کلاس کے خواتین کو استثنا حاصل ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ چترال جیسے پرامن علاقے میں ایک جرگے کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ خواتین کو کسی جشن میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صادر کریں،اور تحصیل ناظم ونائب ناظم اس کی توثیق کریں؟۔تحصیل ناظم نے یہ قدم اٹھاتے وقت تحصیل کونسل کا اجلاس بلا کر ممبران کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ اور نہ ہی تحصیل وضلع کونسل کے خواتین کو اعتماد میں لیا گیا ۔آخر ناظم تحصیل کونسل ، نائب ناظم تحصیل کونسل اور ایک کمیٹی کو اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا اختیار کس نے دیا؟اس فیصلے اور میڈیا میں آکر بیان جاری کرنے کی وجہ سے ملکی وعالمی سطح پر چترال کا بہتر امیج مسخ ہوگیا ۔ اب دنیا کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ جن لوگوں کو پرامن اور مہذب خیال کیا جارہا ہے وہاں جرگہ خواتین کو فیسٹول میں شرکت کرنے سے روک دیا۔

اپنے پریس کانفر س میں تحصیل ناظم مولانا یوسف نے یہ بھی کہا ہے کہ ”جشن کا غ لشٹ میں صرف مقامی کھیلوں اور تہذیب وثقافت کو اجاگر کیا جائے اور غیر مقامی کھیلوں اور مشاغل کو اس میں شامل کرناہرگز مناسب نہیں ہے”۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ، فٹ بال،والی بال جیسے کھیل کشوم، استارو، سور لاسپور یا یارخون لشٹ کی پیداوار ہیں؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔