کیا عمران خان سچ بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

کیا عمران خان سچ بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : رانی صنم فریادؔ

یوں تو ہمارے سیاسی ماحول میں جھوٹ بولنا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ کسی کا جھوٹ اگر پکڑا جائے یا پھر سچ کا ثبوت مانگا جائے تو فخرانہ انداز میں یہ کہہ کر بات کو ٹال دیتے ہیں کہ ” یہ تو ان کا سیاسی بیان تھا ” بہت ہی کم لوگ شاید ایسے ہی ہوں گے جو سیاست کو جھوٹ سے پاک رکھنا چاہتے ہیں ایسے ہی لوگوں کی سیاست کو عوام کی اصل خدمت اور عباد ت کہی جا سکتی ہے ۔ ہماری ملکی سیاست ہو علاقائی جھوٹ پر جھوٹ کی کہانیاں ہم روز پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے زریعے سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں مگر گزشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شریف فیملی پر 10 ارب روپے کا رشوت کا الزام عائد کرکے لگتا ہے کہ جھوٹ کی ہیٹ ٹریک کو بھی مکمل کرلیا ہے ۔ عمران خان کا یہ چونکا دینے والا بیان سامنے آیا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ان کی فیملی نے انہیں پاناما کیس میں خاموش رہنے کے عوض 10 ارب روپے دینے کی آفرکی تھی ۔ اور یہ آفر اُنہیں سپریم کورٹ کے فیصلہ آنے سے دو ہفتے قبل کی گئی تھی ۔ عمران خان کے مطابق یہ آفر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ایک قریب ترین دوست کے زریعے کی گئی ۔ بقول عمران خان وہ شخص ان کا بھی قریب ترین دوست ہے ۔ ایک نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کے مطابق عمران خان نے اس بیان پر حسب عادت ایک دم یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ وہ 10 ارب روپے دینے کی آفر حمزہ شہباز کے ایک قریبی دوست ان کے اپنے ایک قریبی دوست کے زریعے کی تھی ۔ ٹی وی اینکر کی جانب سے اس شخص کانام بتانے کی اسرار پر عمران خان کہتے ہیں کہ میں اس شخص کا نام نہیں بتا سکتا کیوں کہ نام بتانے سے وہ ” بیچارہ ” پھنس جائے گا ۔ اس بیان کے بعد میڈیا سمیت عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا واقعی عمران خان سچ بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟

پی ٹی آئی والے نعوذ باللہ عمران خان کی ہر بات کو قرآن کا حرف سمجھنے کو بھی تیار ہوتے ہیں مگر پاکستان مسلم لیگ ن ہو یا دیگر جماعتوں کے لوگو ان کے اس بیان کو ایک اور سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے یہ مثالیں دے رہے ہیں کہ اس سے قبل بھی انہوں نے سابق نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر 35 پنکچرز کا الزام لگا یا سابق آرمی چیف جنرل پرویز کیانی پر عام اتنخابات کی دھاندلی میں بھرپور ساتھ دینے کا الزام لگا یا ، اُنہوں نے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز صاحبا ن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلیٰ ذمہ داران کو بھی نہیں چھوڑا لیکن بعد میں ان تمام الزامات سے یوٹرن لیتے ہوئے ایک دم موقف اختیار کیا کہ یہ تو ان کے سیاسی بیانات تھے ۔ اب اُنہوں نے 10 ارب روپے کی بات کی ہے جہاں تک یوٹرن کی بات ہے تو عمران خان نے دوست کی تبدیلی تک یوٹرن ضرور لیاہے مگر 10 ارب روپے آفر کی بات سے اب تک پیچھے نہیں ہٹے ہیں ۔ اگر عمران خان سچ بولتے ہیں تو اس سچ کاثبوت پوری قوم کو پہنچانے کے لیے اُنہیں اس اجنبی دوست کا نام بتا نا ہوگا ۔ بقول عمران خان اس اجنبی دوست کا نام بتانے پر وہ ” بیچارہ” پھنس جائے گا تو اس پر ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ شخص جو شریف فیملی کا قریب ترین دوست ہے اور عمران خان کا بھی قریب دوست ہے تو وہ

” بیچارہ ” کیسے ہوا ۔۔۔؟

وہ شخص جو 10 ارب روپے آفر کی بات عمران خان تک پہنچاتا ہے تو خود اس شخص کو معلوم نہیں کہ کتنے ارب روپے ملے ہوں گے؟ وہ بیچارہ کیسے ہوا ، بیچارے تو ہم جیسے وہ غریب لوگ ہیں جو سیاست کو شطرنج کا کھیل سمجھنے والوں کے آگے اور پیچھے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگائیں پھرتے ہیں اور اقتدار کے مزوں میں مست سیاست دان ان کی حالت زار تک بھی نہیں پوچھتے ۔ عمران خان سے ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ اس شخص کا نام بتانے پر وہ بیچارہ پھنس سکتا ہے تو کیا اس کانام نہ بتانے پر خود عمران خان پھنس نہیں سکتے ۔۔۔؟ایک بیچارہ کو بچانے کے لیے خود اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو بیچارہ بنانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں ۔۔۔؟ عمران خان کے مطابق میاں محمد نواز شریف اس ملک کے سب سے بڑے کرپٹ حکمران ہیں جن سے نجات کے لیے اسلام آبادمیں مہینوں تک دھرنے دیے ۔پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا تو پوری قوت کے ساتھ سڑکوں پر آگئے ، سپریم کورٹ آف پاکستان گئے اور یہاں تک کہ وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے اور اداروں کو دباؤ میں لاکر اپنے حق میں فیصلے صادر کرانے کے لیے میڈیا ٹرائل سے بھی دریغ نہیں کیا گیا ۔ ہمارا ان سے یہ بھی سوال ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے دو ہفتے قبل جب انہیں 10 ارب روپے کی آفر ہوئی تھی تو دو ہفتوں تک کیوں خاموش رہے ؟ اُنہیں اس شخص کو لیکر فوراً پریس کانفرنس کرنی چاہیے تھی تاکہ ان کو مزید دھرنوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔ ہمارے ملک میں ایسی غیر یقینی صورت حال پیدا کی گئی کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ملک کو غیر مستحکم کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور بھارت اس حد تک اپنے عزائم میں کامیاب ہوتا نظر آیا کہ ہماری پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں قرار داد تو منظور کی مگر اس قرار داد کو متفقہ قرار داد دنہ بناسکے ۔ کلبھوشن یادوف ہو یا احسان اللہ احسان ان کے سنسنی خیز انکشافات نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے مگر حوس اقتدار کے لیے ہونے والی رسہ کشی کا میدان ٹھنڈا نہیں ہوسکا ۔کیا ایسی صورت حال پیدا کرنا ہمارے ازلی دشمن بھارت معاونت نہیں ہے ۔۔۔؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر کلبھوشن یادوف ، احسان اللہ احسان اور غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے والوں میں کیا فرق ہے ؟ ٹھیک ہے ہمارا پاکستان مسلم لیگ ن یا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے نظریاتی عقیدت ضرور ہے مگر عمران خان جو کچھ بھی بولتے ہیں اگر سچ ہے اور میاں محمد نواز شریف سب سے جھوٹا انسان ہے تو پھر اُنہیں پختہ دلائل اور ثبوت کے زریعے سے ہمیں بھی قائل کرنا چاہیے ۔ کیوں مفروضوں اور منافقت کے زریعے سے سادہ لوح عوام کو گمرا ہ کیا جا رہاہے ۔۔۔؟ جھوٹ تو سب بولتے ہیں ۔۔۔۔بلکہ 95% جھوٹ بولتے ہیں ۔ یہ تو گلگت بلتستان کے بچہ بچہ کو معلوم ہے کہ ہنزہ عطا ء آباد جھیل قدرت تعالیٰ نے بنائی ہے مگر یہ جھیل میں نے بنائی ہے کہہ کر آصف علی زرداری بھی جھوٹ بولتے ہیں ، سی پیک کا منصوبہ ہمارا ہے کہہ کر بلاول علی زرداری بھی جھوٹ بولتے ہیں مگر عمران خان نے 10 ارب روپے رشوت کی بات کرکے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ بولا ہے۔ اُنہوں نے جھوٹ بولنے کی شاید اپنی ہٹ ٹریک کو بھی مکمل کی ہے ۔ جھوٹ بولنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے بعد اب لگتا ایسا ہے کہ جن لوگوں کو گمراہ بنا کر دھرنے کے نام پر سڑکوں پرگھسیٹا گیا اُن میں سے چند ایک کو عقل ضرور آگئی ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔۔۔؟ جھوٹ پر جھوٹ کا اصل مقصد کیا ہے ؟ اس سے پہلے چھوٹے موٹے جھوٹ اور جھوٹے میڈیا ٹرائل کی سمجھ تو آتی ہے کہ وہ عدالتوں اور اداروں کو دباؤ میں لاکر من پسند فیصلے مسلط کرانا تھا مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے اور اب 10 ارب روپے کی بہت بڑی جھوٹ شاید جے آئی ٹی میں شامل ممبران کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے ۔ ایسی حرکتیں کرنے والوں کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ضرور ہے جب اللہ کی پکڑ ہوگی تو کوئی بھی بچ نہیں پائے گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔