ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں گلگت بلتستان دیگر صوبوں کی نسبت ٹاپ پر جارہا ہے، قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں دعوی

ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں گلگت بلتستان دیگر صوبوں کی نسبت ٹاپ پر جارہا ہے، قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں دعوی

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پ۔ر) محکمہ پلاننگ نے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہا کہ اس سال تر قیاتی بجٹ کے استعمال میں دیگر صوبوں کے مقابلے گلگت بلتستان ٹاپ پر جا رہا ہے۔قائمہ کمیٹی کی طرف سے خصوصی دلچسپی لینے کے بدولت اس سال جون میں بجٹ بچ جانے کے امکانات کم ہوگئے ہیں اور آئندہ مالی سال کے لیے وفاق سے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرانے میں کامیاب ہونگے۔تمام محکموں نے حالیہ مہینے کے دوران ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں بہترین کارکردگی دیکھائی ہے اور ماضی کے مقابلے اس دفعہ ریکارڈ بجٹ خرچ ہوا ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ورکس ،واٹر اینڈ پاور اور پلاننگ کا اجلاس گزشتہ روز ممبر اسمبلی رانی عتیقہ غضنفر کی صدارت میں گزشتہ روز اسمبلی کے کانفرنس ھال میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان ،ممبر اسمبلی راجہ جہانزیب ، ممبر اسمبلی ریحانہ عبادی ،محکمہ پلاننگ،واٹر اینڈ پاور اور ورکس کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں محکمہ پلاننگ نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ اس سال تمام محکموں نے کا فی محنت کی ہے اور ریکارڈ بجٹ استعمال کرکے ترقیاتی بجٹ میں اضافے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔پہلے وفاق کا یہ مواقف ہوتا تھا کہ جو بجٹ ہے اس کو خرچ کرے تو بجٹ میں اضافہ ہوگا اس با ر جون تک تما م محکمے تر قیاتی بجٹ خرچ کریگے اور وفاق سے اگلے مالی سال کے لیے اضافی ترقیاتی بجٹ لینے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

اس موقع پر واٹر اینڈ پاور کے سیکریٹری وقار تاج نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں واٹر اینڈ پاور کے پا س 119 توانائی کے منصوبے ہیں جن سے 94 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور ان سب پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔ابھی تک محکمہ واٹر اینڈ پاور نے فراہم کردہ ترقیاتی بجٹ سے 93 فیصد خرچ کیا ہے اور جون تک سوفیصد خرچ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتا یا کہ اس وقت ریجنل گریڈ کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے یہ اس منصوبے پر عمل درآمد ہونے بعد توانائی کے شعبے میں خاصی بہتری آئیگی۔انہو ں نے کہا کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی کے ساتھ منصوبے جن میں سکارکوئی پاور پراجیکٹ ، کا رگا ہ چھ میگاواٹ، ہنز ل پاور براجیکٹ نلتر سولہ میگاوات اور دیگر منصوبوں کی فزیبلٹی پر تیزی سے کا م ہو رہا ہے اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ ہنزہ میں اس وقت سات میگاواٹ کا شارٹ فال ہے اور ایک میگاواٹ ڈیزل انجن کے ذریعے عوام کو بجلی دی جارہا ہے اور اکتوبر تک ایک میگاواٹ کا ایک اور انجن فراہم کیا جائے گا تا کہ عوام کو بجلی کے حوالے سے درپیش مسائل میں کمی لاسکے۔

اس پر کمیٹی نے محکموں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ سرکاری محکموں کو مزید فعال اور مضبوط بنانے تمام وسائل فراہم کرے گے۔کمیٹی نے محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے اپنے اپنے محکموں میں سزا و جزا کا نظام لائے اور جو ملازمین کام نہیں کرتے ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے تاکہ محکموں کی کو مزید مضبوط بناکر علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔