علی بابا اور چالیس چور

علی بابا اور چالیس چور

47 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بہت سالوں کی بات ہے، ایران میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک امیر عورت سے ہوگئی۔ اس نے اپنی بیوی کی دولت سے ایک دکان کھولی اور تجارت کا چھوٹا سا کام شروع کر لیا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت امیر ہو گیا۔ علی بابا، لکڑی کاٹنے کا کام کرتا تھا ۔ وہ اور اس کی بیوی ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔ علی بابا، جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور انہیں بازار میں بیچ کر چند سکے کمالیتا۔ اسی سے، اس کی گزر اوقات ہوتی تھی۔

ایک دن علی بابا، جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر گھر لوٹ رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے، راستے پر گرد کا ایک بادل امڈا چلا آرہا ہے۔ وہ بہت حیران ہو ا۔ مگر تھوڑی دیر میں ہی اسے معلوم ہوا کہ یہ گرد کا طوفان نہ تھا۔ بہت سے گھوڑئے سرپٹ دوڑتے ہوئے، اس کی طرف آرہے تھے۔ گھوڑوں کے دوڑنے سے مٹی اڑ رہی تھی اور یہ اس قدر زیادہ تھی کہ دُور سے مٹی کا طوفان معلوم ہو رہی تھی۔ جب یہ طوفان علی بابا کے کچھ قریب آیا تو اس نے دیکھا گھوڑوں پر سوار لوگوں نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔ ان کے چہرے بھی کالے کپڑے میں چھپے ہوئے تھے، صرف ان آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ ان لوگوں نے ہاتھوں میں تلواریں پکڑ رکھی تھیں اور سب کی کمروں کے ساتھ لمبے لمبے خنجر بندھے ہوئے تھے۔ علی بابا، فوراً سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو، یہ ڈاکو ہیں۔ وہ فوراً ، اپنی لکڑیاں وہیں چھوڑ ، ایک درخت کے اوپر چڑھ گیا۔

ڈاکو، ایک چٹان کے سامنے جا کر رک گئے۔ گھوڑوں سے نیچے اترے۔ گھوڑوں کی پشت پر بندھے بڑے بڑے بوروں کو اتارا۔ ایک ڈاکو، جو غالباً ان کا سردار تھا، چٹا ن کے سامنے کھڑا ہوا اور بلند آواز میں کہنے لگا:

’’کھل جا سم سم ۔۔۔!‘‘

جونہی سردار نے یہ لفظ کہے، چٹان کا پتھر ایک طرف سرک گیا۔ ڈاکو ایک ایک کر کے چٹان میں داخل ہونے لگے۔ سب نے اپنی کمر پر بڑے بڑے بورے اٹھا رکھے تھے۔علی بابا نے ہر ایک ڈاکو کو چٹان کے اندر جاتے ہوئے گنا۔ سب ملا کر چالیس تھے۔ علی بابا نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو، یہ سب ڈاکو ہیں اور کہیں سے مال لوٹ کر لائے ہیں۔ علی بابا، درخت میں چھپا ، ان ڈاکوؤں کو دیکھ رہا تھا۔ ڈاکوؤں کو علی بابا کی موجودگی کا کوئی اندازہ نہ ہوا۔

ڈاکو، کافی دیر چٹان کے اندر موجود رہے۔ اس دوران علی بابا، درخت کے پتوں اور ٹہنیوں میں چھپا بیٹھا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اس کے درخت سے اترتے وقت ڈاکوؤں نے اسے دیکھ لیا تو اس پر بڑی مصیبت آجائے گی۔ اس لیے وہ درخت پر ہی بیٹھا رہا۔ کافی دیر کے بعد چالیس چور چٹان سے باہر نکلے۔ چوروں کے سردار نے پھر چٹان کے سامنے کھڑے ہو کر کہا:

’’بند ہو جا سم سم۔۔۔!!‘‘

چٹان کے ساتھ پڑا پتھر ، اپنی جگہ سے سرکا اور چٹان کے منہ پر آلگا۔ اس سے چٹان کا منہ بند ہو گیا۔

کچھ دیر علی بابا اسی طرح درخت پر بیٹھا رہا۔ آخر اس نے سوچا کہ اب اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تو وہ درخت سے نیچے اتر آیا۔ وہ چٹان کے اندر جانے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ چٹان کے اندر کیا ہے اور یہ بھی کہ کیا اس کے’’ کھل جا سم سم ‘‘ کہنے سے چٹان کے منہ پر پڑا پتھر سرکے گا کہ نہیں۔ علی بابا چٹان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس نے بلند آواز میں کہا:

’’کھل جا، سم سم۔۔۔‘‘

چٹان کے آگے پڑا پتھر سرک گیا اور علی بابا غار کے اندر داخل ہو گیا۔ جونہی وہ اندر داخل ہوا، غار کے منہ پر پتھر دوبارہ آگیا۔ علی بابا گھبرا گیا۔ اس نے سوچا شاید غار میں کوئی چور موجود ہے۔ اس نے ارد گرد دیکھا۔ اسے کوئی نظر نہ آیا۔

علی بابا ،آگے بڑھا۔ اس نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ ایسا منظر اس نے زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ غار میں ایک طر ف سونے اور چاندی کے انبار لگے تھے۔ ایک طرف ریشمی کپڑے اور قیمتی جواہرات تھے۔ علی بابا نے وقت ضائع کیے بغیر بہت سا سونا اور چاندی اکٹھی کی۔ اسے بورے میں ڈالا اور غار کے منہ پر آکھڑا ہوا۔ اسے جادو کے الفاظ یاد تھے۔ اس نے کہا:

’’کھل جا، سم سم۔۔۔!‘‘

غار کے منہ سے پتھر ہٹ گیا اور علی بابا باہر چلا آیا۔ اس نے پھر کہا:

’’بند ہو جا سم سم۔۔۔!‘‘چٹان کے منہ پر پتھر پھر آلگا۔

علی بابا نے گدھے پر سونے اور چاندی کے بورے کو لادا۔ اس کو چھپانے کے لیے اوپر لکڑیاں ڈال دیں اور جلدی جلدی گدھے کو ہانکتا ہوا گھر پہنچ گیا۔گدھے کو گھر کے باہر باندھ دیا اور سونے و چاندی کا بورا اٹھا کر ، علی بابا گھر میں داخل ہو گیا۔ علی بابا نے اپنی بیوی کو سونے اور چاندی کا انبار دکھایا اور کہنے لگا:

’’لو، نیک بخت، اب ہماری غربت کے دن ختم ہو جائیں گے۔۔۔‘‘

’’اتنا سونا اور چاندی ، تم کہاں سے لے آئے۔۔۔؟‘‘ علی بابا کی بیوی نے کہا۔

’’تم نے اتنی دولت کہیں سے چرائی تو نہیں۔۔۔؟‘‘

علی بابا نے اپنی بیوی کو پوری کہانی سنائی۔ علی بابا اور اس کی بیوی نے سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کو گننا شروع کر دیا۔ وہ گنتے گنتے تھک گئے۔ ابھی تک ایک ڈھیر گننا باقی تھا۔ علی بابا نے سوچا کہ گننے کی بجائے سونے اور چاندی کا وزن کر لیتے ہیں۔ اس طرح دولت کا اندازہ ہو جائے گا۔ علی بابا نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ قاسم کی بیوی سے ترازو لے آئے تاکہ سونے اور چاندی کا وزن کیا جا سکے۔ مگر اسے تلقین کی کہ وہ اسے سونے اور چاندی کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔

علی بابا کی بیوی ،قاسم کی بیوی کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی:

’’بہن، کیا میں کچھ دیر کے لیے تمہارا ترازو لے سکتی ہوں؟‘‘

قاسم کی بیوی نے سوچا:

’ علی بابا تو ایک غریب لکڑہارا ہے، بھلا اسے ترازو کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے پاس اناج بھی نہیں کہ جس کوتولنے کی ضرورت ہو۔۔۔ ہو نہ ہو دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔!‘

وہ کمرے میں گئی اور ترازو کے ایک پلڑے کے نیچے موم لگا دی۔ ترازو لا کر علی بابا کی بیوی کے حوالے کر دیا۔

علی بابا نے بڑی احتیاط کے ساتھ چاندی اور سونے کا وزن کیا۔ زمین میں ایک گڑھا کھودا اور سونے اور چاندی کو اس گڑھے میں دفن کر دیا۔

علی بابا اور اس کی بیوی کو جب بھی ضرورت پڑتی، سونے یا چاندی کی ایک ڈلی نکالتے اور اسے بیچ کر گھر کی ضرورت کی چیزیں خرید لیتے۔ اب وہ اچھے کپڑے پہننے لگے اور مزے مزے کے کھانے پکانے لگے۔ وہ امیر ہو گئے تھے اور اب علی بابا کو لکڑیاں کاٹنے کی ضرورت نہ رہی تھی۔ سب لوگ علی بابا اور اس کی بیوی کی زندگی میں آئی تبدیلی کو دیکھتے ، سب حیران ہوتے مگر کسی کو بھی ان کے امیر ہونے کا راز معلوم نہ تھا۔

(2)

علی بابا کی بیوی نے سونا چاندی تولنے کے بعد، ترازو قاسم کی بیوی کو واپس کر دیا۔ قاسم کی بیوی نے فوراً پلڑے کو الٹا کر دیکھا۔ پلڑے کے نیچے موم کے ساتھ سونے کی ایک ڈلی چپکی ہوئی تھی۔ شام کو جب قاسم گھر لوٹا تو اس کی بیوی اس سے کہنے لگی:

’’تم سمجھتے ہو کہ علی بابا ایک غریب لکڑہارا ہے۔۔۔ اصل بات یہ نہیں۔ اس کے پاس بہت سا سونا ہے۔ آج اس کی بیوی ترازو مانگنے آئی تھی۔ میں نے ترازو کے نیچے موم لگا دی، تاکہ معلوم کروں، آخر انہیں ترازو کی کیونکر ضرورت پڑ گئی۔ یہ دیکھو، (قاسم کو سونے کی ڈلی دکھاتے ہوئے) موم کے ساتھ یہ ڈلی چپکی ہوئی تھی۔۔۔‘‘

قاسم بہت کمینہ شخص تھا۔ وہ اپنے بھائی کے امیر ہونے کو ہرگز پسند نہ کرتا تھا۔ وہ جلد از جلد معلوم کرنا چاہتاتھا کہ آخر اس کا بھائی، اچانک کیسے امیر ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ علی بابا ،اب اچھے کپڑے پہننے لگاتھا۔ اس کے گھر سے اچھے اچھے کھانوں کی مہک آنے لگی تھی۔ کچھ دن وہ حسد کی آگ میں جلتا رہا۔ایک دن قاسم سے نہ رہا گیا۔ وہ علی بابا کے پاس آیا اور اسے ترازو کے پلڑے کے ساتھ چپکی سونے کی ڈلی کا سارا قصہ کہہ سنایا۔ وہ علی بابا سے کہنے لگا:

’’تم ہمیشہ کہتے ہو کہ تم غریب ہو۔ یہ دراصل تمہارا ایک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے پاس سونے اور چاندی کا ایک ڈھیر ہے۔ تم نے یہ خزانہ کہاں سے حاصل کیا ۔۔۔؟ کیا تم نے کہیں ڈاکہ مارا ہے؟ مجھے بتاؤ۔۔۔تمھیں ہر بات بتانا ہی ہو گی۔۔۔‘‘

علی بابا، قاسم کو سونے اور چاندی کا راز نہیں بتانا چاہتا تھا۔ وہ کافی دیر قاسم کو ٹالتا رہا۔ مگر وہ نرم دل آدمی تھا۔ اگرچہ قاسم، اس سے حسد کرتا تھا مگر وہ قاسم پر پورا بھروسہ رکھتا تھا۔ وہ اسے چھوٹا بھائی ہونے کے ناطے، پیار بھی کرتا تھا۔ اس سے بات زیادہ دیر چھپائی نہ جا سکی۔ اس نے قاسم کو ساری کہانی سنادی۔ بلکہ اسے غار کا پتہ بھی بتا دیا۔

اگلے دن قاسم، دس گھوڑوں کو ساتھ لے کر غار پر جاپہنچا۔ وہ غار سے زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کر لینا چاہتا تھا ۔ وہ چٹان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے بلند آواز میں کہا:

’’کھل جا سم سم۔۔۔!‘‘

چٹان کا پتھر، اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ سامنے غار تھی۔ غار میں ہر طرف دولت کے انبار لگے ہوئے تھے۔ قاسم نے بڑے بڑے بوروں میں دولت کو سمیٹنا شروع کر دیا۔ وہ اس وقت تک ان بوروں میں سونا اور چاندی بھرتا گیا اور جب تک ان میں ایک ڈلی ڈالنے کی بھی گنجائش موجود تھی۔ پھر وہ غار کے منہ کی طرف آیا۔ اس کے قریب کھڑا ہو کر کہنے لگا:

’’کھل جا، جو کے دانے۔‘‘

غار کے آگے پڑا پتھر اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ اس نے تمام اجناس کے نام لیے، مگر غار کا پتھر اپنی جگہ سے نہ ہٹا۔(واضح رہے کہ سم سم دراصل سسمے (Sesme) ہے اور اس کا مطلب تل ہے۔ جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔ جب تل کی فصل تیار ہو جاتی ہے تو اس کے پودوں پر لگی پھلیاں خود بخود کھلتی جاتی ہیں اور ان میں سے تل باہر گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ جادوئی سا منظر لگتا ہے۔ اسی وجہ سے سم سم کا مطلب جادوئی طور پر کھلنا لیاجاتا ہے۔ اسی مناسبت سے قاسم مختلف اجناس کے نام لے رہا تھا اور سسمے یا سم سم کہنا بھول گیا)۔

قاسم سخت گھبرا گیا۔ اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ وہ سخت ڈرا ہوا تھا اور اس نے غار سے نکلنے کے لیے، غار کے اندر ہر جگہ کو دیکھا۔ اسے کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ آخر تھک ہار کر وہ غار میں ایک طرف بیٹھ گیا۔

اچانک اسے غار کے باہر سے مختلف آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ سمجھ گیا کہ چور، واپس آگئے ہیں۔ غار کا منہ کھلا اور ایک ایک کر کے چالیس چور غار میں داخل ہو گئے۔ سب نے سونے اور چاندی سے بھری بوریاں اٹھا رکھی تھیں۔ قاسم غار کے ایک کونے میں چھپا، یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ایک چور کی قاسم پر نظر پڑی۔ قاسم کو کونے سے باہر کھینچا۔ اس سے کوئی سوال کرنے کی بجائے ، اسے خوب پیٹا اور ادھ مؤا کر کے غار سے باہر پھینک دیا۔ چوروں کو قاسم پر سخت غصہ آیا اور وہ طیش میں اسے پیٹتے رہے۔ انہوں نے سونے اور چاندی کے انبار کی طرف دھیان ہی نہ دیا۔

گھر میں ، قاسم کی بیوی شام تک انتظار کرتی رہی۔ رات ہوگئی مگر قاسم کا کچھ پتہ نہ تھا۔ وہ سخت پریشان ہو رہی تھی۔ آخر وہ علی بابا کے گھر گئی اور اسے سارا قصہ بتایا۔ قاسم کی بیوی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ یہ دیکھ کر علی بابا کا دل نرم پڑ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ قاسم چوروں کی غار تک گیا تھا۔ علی بابا نے قاسم کی بیوی کو تسلی دی اور قاسم کو ڈھونڈ کر لانے کا یقین دلایا۔

علی بابا، غار کے منہ تک پہنچا۔ وہاں قاسم شدید زخمی حالت میں پڑا تھا۔ قاسم کچھ بول بھی نہ سکتا تھا۔ مگر علی بابا کو ساری بات سمجھ آگئی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ چوروں نے قاسم کو دراصل ، اپنی طرف سے مار مار کر ختم کر دیا تھا اور اس کی لاش کو غار کے سامنے پھینک گئے تھے۔ علی بابا نے بڑے آرام سے قاسم کو اٹھایا اور احتیاط کے ساتھ اپنے گدھے کے اوپر باندھ کر گھر لے آیا۔

(3)

علی بابا نے قاسم کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ قاسم کی ملازمہ مرجینا نے دروازہ کھولا۔ مرجینا، ایک خوبصورت اور سمجھ دار لڑکی تھی۔ علی بابا نے دروازہ کھلتے ہی مرجینا سے کہا:

’’دیکھو مرجینا، قاسم بہت بری طرح زخمی ہے۔ اسے گھر کے اندر لے جاتے ہیں۔ اس کے زخمی ہونے کے بارے میں کسی سے کچھ نہ کہنا۔‘‘

علی بابا اور مرجینا نے قاسم کو گدھے سے اٹھایا اور گھر کے اندر لے آئے۔ قاسم کی بیوی نے جب اپنے خاوند کو اس قدر بری حالت میں دیکھا تو وہ رونے لگی۔ علی بابا نے اسے تسلی دی کہ وہ قاسم کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ مرجینا کا اندازہ تھا کہ شہر کے حکیم سے قاسم کا علاج کروانا ممکن نہیں کیونکہ اس طرح قاسم کے زخمی ہونے کی خبر ہر طرف پھیل سکتی تھی۔ حکیم کے شفاخانے میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ اس نے علی بابا سے کہا:

’’میں ایک شخص کو جانتی ہوں، جو قاسم کا علاج کر سکتا ہے۔وہ جوتے سینے کا کا م کرتا ہے مگر اسے علاج معالجے کابھی خاطر خواہ تجربہ حاصل ہے۔‘‘

علی بابا نے سونے کے کچھ سکے، مرجینا کے ہاتھ پر رکھے اور اسے کہا:

’’تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے راز داری سے ادھر لے آؤ۔ اس کام میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مزید روپوں کی ضرورت پڑے تو مجھ سے مانگ لینا۔۔۔‘‘

مرجینا، موچی کے پاس گئی۔ اسے سونے کے سکے دے کر کہا:

’’ یہ سونے کے سکے لے لو۔ تمہیں میرا ایک ضروری کام کرنا ہو گا۔۔۔!‘‘

موچی سونے کے سکے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ وہ کہنے لگا:

’’کیوں نہیں، تم مجھ سے کیا کروانا چاہتی ہو۔ اگر کہو تو تمہیں خوبصورت جوتوں کا ایک جوڑا بنا دوں۔۔۔‘‘

’’نہیں ، جوتوں کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔ تمہیں ایک بیمار آدمی کا علاج کرنا ہوگا۔ بیمار کی حالت اچھی نہیں۔ اگر تم مدد کرو تو میں تمہیں سونے کا ایک سکہ اور دوں گی۔‘‘ موچی بیمار کا علاج کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ وہ جب مرجینا کے ساتھ چلنے کے لیے اٹھا تو مرجینا نے اس کی آنکھوں پر کالے رنگ کی پٹی باندھ دی۔موچی کچھ دیر اس پٹی باندھنے والے معاملے کو نہ سمجھ سکا۔ پھر اس نے سونے کے سکوں کا سوچ کر چپ رہنا ہی بہتر سمجھا۔

مرجینا،موچی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر، اسے قاسم کے گھر تک لے آئی۔ گھر میں لا کر موچی کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی۔ موچی نے قاسم کا معائنہ کیا۔ اس نے کہا وہ زخمی کے لیے خاطر خواہ کچھ نہیں کر سکتا۔ تاہم، اس نے زخموں کو دھویا اور اس کے پاس جو بھی دواتھی، زخموں پر لگا کر پٹی باندھ دی۔ موچی نے کئی دوائیاں بدلیں مگر قاسم کی حالت بدستور خراب ہوتی گئی۔ آخر قاسم مر گیا۔

مرجینا نے ، موچی کی آنکھوں پر پھر سے پٹی باندھی اور اس کے گھر تک چھوڑ آئی۔ اگلے دن، علی بابا نے اپنے بھائی کی اچانک موت کے بارے میں عزیزوں اور دوستوں کو بتایا۔ سب لوگوں کو قاسم کی موت کا بڑا دکھ ہوا اور اسے دفن کر دیا۔

قاسم کی بیوی کا خیال رکھنا اب علی بابا کی ذمے داری تھی۔ اس نے قاسم کی دکان اپنے بیٹے کے سپرد کر دی۔ قاسم کی بیوی کو اس کی ضروریات کی چیزیں دے دی جاتیں اور اس طرح سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

(4)

قاسم کو زخمی کرکے پھینک دینے کے بعد چایس چور پھر غار میں واپس آئے۔ غار کے اندر جا کر پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ غار سے بہت سا سونا اور چاندی غائب تھی۔

’’مجھے لگتا ہے کہ کسی کو غار میں آنے کا راز معلوم ہو گیا ہے۔ ہمیں اس شخص کو تلاش کرنا ہوگا۔۔۔‘‘ چوروں کے سردار نے کہا۔ دوسرے چوروں نے فوراً اپنے سردار سے اتفاق کیا۔ سردار نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’ہم میں سے ایک شخص شہر جائے گا۔ وہ ایک عام آدمی کے بھیس میں وہاں جا کر اس شخص کے بارے میں معلوم کرے گا، جس کو ہم نے قتل کر دیا تھا۔ مگر یاد رکھو، اگر وہ صحیح خبر نہ لایا تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔۔۔!‘‘

ایک چور نے شہر جانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔ وہ اگلے دن ایک مسافر کا بھیس بدل کر شہر میں آیا۔ شام ہو رہی تھی اور بازار میں تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں ۔ صرف ایک دکان کھلی تھی۔ یہ دکان موچی کی تھی۔ چو ر نے دکان میں داخل ہوتے ہی ، موچی کو سلام کیااور کہنے لگا:

’آپ بزرگ آدمی ہو اور اندھیرے میں بھی اچھا خاصا کام کر لیتے ہو۔ لگتا ہے کہ آپ کی نظر، عمر کے حساب سے بہت اچھی ہے۔۔۔!‘‘

’’لگتا ہے ، تم اس شہر میں نئے ہو، جو لوگ مجھے جانتے ہیں، سب کا خیال ہے کہ میری نظر، عمر کے حساب سے بہت اچھی ہے۔۔۔‘‘ موچیٰ نے کہا۔

’’کیا آپ کو جوتے بنانے سے کافی آمدنی ہو جاتی ہے؟‘‘

’’ہاں، گزارہ ہو جاتا ہے۔۔۔ مگر میں جوتے سینے کے علاوہ بھی ایک کام کر لیتا ہوں۔ مجھے علاج معالجے کے بارے میں تھوڑا بہت پتہ ہے۔ پچھلے ہفتے ہی میں نے ایک شدید زخمی کا علاج کیا تھا۔ میں نے اس کا علاج بڑی محنت سے کیا مگر وہ بچ نہ سکا۔‘‘

چور کو فوراً سمجھ آگئی کہ موچی کس شخص کی بات کر رہا تھا۔ اس نے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے موچی کو اکساتے ہوئے کہا: ’’مجھے تمہاری بات کا بالکل یقین نہیں۔ ایک موچی، بھلا ایک حکیم کا کام کیسے کر سکتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ تم سچ بول رہے ہو۔۔۔‘‘

’’میں بالکل سچ بول رہا ہوں۔ مگر میں اس سے زیادہ ایک لفظ بھی نہیں بولوں گا۔‘‘ موچی نے مسافر سے کہا۔

’’اب تم جاؤ، اور اپنی راہ لو۔۔۔‘‘

چور نے موچی کو سونے کا ایک سکہ دیا اور اس سے کہنے لگا:

’’کیا تم مجھے وہ گھر دکھا سکتے ہو، جہاں پر تم نے زخمی کا علاج کیا تھا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کے بارے میں کسی سے کوئی بھی بات نہیں کروں گا۔‘‘

’’نہیں، نہیں، میں ایسا نہیں کر سکتا۔ تم بس، اب چلے جاؤ۔‘‘ موچی نے مسافر سے کہا۔

چور نے فوراً سونے کا ایک سکہ اور نکالا اور اسے موچی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:

’’یہ ایک اور سکہ لے لو، مگر مجھے اس زخمی کے گھر کے بارے میں ضرور بتا دو۔ میں صر ف گھر ہی دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘

’’مگر۔۔۔ مجھے گھر کے بارے میں درست طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب مجھے اس گھر تک لے جایا گیا تو میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ میں صرف اس گھر کے نزدیک کسی جگہ تک تمہیں لے جا سکتا ہوں۔‘‘

آنکھوں پر پٹی باندھنے کے معاملے سے چور کو یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو زخمی وہی شخص تھاجوان کی غار سے چوری کرنے آیا تھا۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہوا ۔ موچی نے مسافر کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کا کہا۔ موچی کا خیال تھا کہ وہ اس طرح مسافر کو زخمی کے گھر کیقریب تر لے جائے گا۔

موچی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ دونوں کافی دیر تک چلتے رہے۔ ایک مکان کے سامنے موچی جا کھڑا ہوا اور کہنے لگا:

’’یہی ہے، وہ گھر۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہی گھر ہے، جہاں میں نے زخمی کا علاج کیا تھا۔۔۔‘‘

’’تمہارا بہت بہت شکریہ، اب تم دکان پر واپس چلے جاؤ۔۔۔‘‘ چور نے موچی کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولتے ہوئے کہا۔

جب موچی ، اپنی دکان پر جانے کے لیے وہاں سے چلا گیا تو چور نے سفید مٹی کے ساتھ گھر کے دروازے پر ایک نشان لگا دیا۔ ایسا کرنے کے بعد فوراً جنگل کی طرف بھاگا تاکہ اپنے سردار کو مکان مل جانے کی اطلاع کرے۔

اگلی صبح ، بازار سے سودا سلف لانے کے لیے، مرجینا گھر سے نکلی۔ اس نے دروازے پر نشان دیکھا۔

’’یہ کیسا نشان ہے اور بھلا کسی نے ہمارے مکان پر کیونکر لگا یا ہے؟‘‘ مرجینا سوچنے لگی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ہو نہ ہو کوئی شخص اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس نے سفید مٹی لی اور ارد گرد سب گھروں کے دروازوں پر ایسا ہی نشان بنا دیا۔

مرجینا کے بازار جانے کے کچھ ہی دیر بعد چور اور ان کا سردار، علی بابا کے گھر تک آئے۔ وہاں ہر گھر پر ایک ہی نشان بنا ہوا تھا۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان گھروں میں سے کون سا گھر علی بابا کا ہے۔ وہ سخت مایوس ہو گئے اور جنگل واپس لوٹ آئے۔ جنگل میں پہنچ کر چوروں کے سردار نے علی بابا کے گھر کا پتہ بتانے والے چور کو، سب کے سامنے قتل کر وا دیا۔

اگلی صبح ایک اور چور علی بابا کے گھر کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے شہر آیا۔ اس نے پہلے چور کی طرح موچی کو سونے کا سکہ دیا۔ موچی نے اسے علی بابا کے گھر کا پتہ بتایا۔ چو ر نے گھر کے دروازے پر سرخ رنگ میں ایک نشان بنا دیا۔ مرجینا پہلے ہی بہت محتاط تھی۔ اس نے دروازے پر ایک نیا نشان دیکھا تو سمجھ گئی کہ کوئی اس کے مالک پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس نے فوراً اسی رنگ میں ، محلے کے تمام گھروں پر ایسے ہی نشانات بنا دیے۔ جب چوروں کا سردار، علی بابا کے گھر پر حملہ کرنے کے لیے آیا تو اس نے محلے کے تمام گھروں پر سرخ نشانات دیکھے۔ وہ سخت سٹپٹا گیا۔ اس نے اب علی بابا کے گھر کے بارے میں خود سے معلوم کرنے کا فیصلہ کیا۔

چوروں کا سردار، شہر آیا اور اس نے موچی کی مدد سے علی بابا کے گھر کا اتاپتا معلوم کر لیا۔ یہ سب کرنے کے بعد وہ واپس جنگل میں آیا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا:

’میں نے گھر کا پتہ معلوم کر لیا ہے۔۔۔ اب میں اسے اندھیرے میں تلاش کر لوں گا۔ اب تم میری بات بڑی احتیاط سے سنو۔ ہم تیل ڈالنے والے بڑے بڑے مرتبان لے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو تیل سے بھر دیں گے۔ باقی مرتبانوں میں تیل کی بجائے تم میں سے ہر شخص چھپ جائے گا۔ میں تمام مرتبانوں کو، تم لوگوں سمیت شہر میں لے جاؤں گا۔۔۔‘‘

(5)

چوروں کے سردار نے مرتبانوں کو گھوڑوں پر باندھا اور انہیں ہانکتا ہوا، علی بابا کے گھر کے دروازے تک لے آیا۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔ علی بابا دروازے پر آیا تو سردار نے کہا:

’’میں ایک سوداگر ہوں اور میرے پاس گھوڑوں پر لدے بہت سے مرتبان ہیں۔ ان مرتبانوں میں تیل ہے۔ اب شام ہو چکی ہے اور دکانیں بند ہو گئی ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو آج کی رات میں آپ کے ہاں قیام کر لوں۔ میں صبح سویرے رخصت ہو جاؤں گا۔ میں، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو گی۔‘‘

علی بابا نے سردار کی باتیں سنیں۔ وہ ہرگز نہ پہچان سکا کہ اس کے سامنے چوروں کا سردار کھڑا ہے۔ سردار نے اپنا حلیہ بدل لیا تھا، وہ دیکھنے میں کوئی اور شخص نظر آرہا تھا۔ علی بابا کو سردار کے لیے ہمدردی محسوس ہوئی اوراُس نے اسے رات ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ اس نے نوکروں کو حکم دیا کہ وہ گھوڑوں پر بندھے مرتبان احتیاط سے اتار کر ایک طرف رکھ دیں۔ گھوڑوں کو چارہ وغیرہ ڈالیں۔ اس نے مرجینا کو کہا کہ وہ مہمان کے لیے اچھا سا کھانا تیار کرے۔

کھانے کے بعد، سردار صحن میں چہل قدمی کے لیے چلا آیا۔ اس نے مرتبانوں کے قریب جاکر ،بہت ہلکی آواز میں کہا:

’’میں مرتبانوں پر ایک چھوٹا سا پتھر پھینکوں گا۔ تم اس کی آواز سے مرتبانوں سے فوراً نکل آنا۔ اس وقت تک، چپ چاپ مرتبانوں میں بیٹھے رہو۔‘‘

یہ کہہ کر سردار خاموشی کے ساتھ واپس گھر میں چلا آیا۔ مرجینا نے مہمان کو اس کے سونے کا کمرا دکھایا اور واپس گھر چلی گئی۔ اسی وقت اس نے دیکھا کہ اچانک لیمپ بجھ گیا۔ اس نے ہلا کر لیمپ کو دیکھا۔ اس میں تیل ختم ہو گیا تھا۔مرجینا نے سوچا کہ صحن میں تیل کے مرتبان پڑے ہیں۔ ان میں سے تیل لے لیتی ہوں اور صبح اس کی خبر سوداگر کو کردوں گی۔ وہ صحن میں آئی اور اس نے پہلے مرتبان کا ڈھکنا کھولا۔ وہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ اسے مرتبان سے آواز آئی:

’’کیا، اب میں مرتبان سے باہر آجاؤں۔۔۔؟‘‘ اس نے دوسرے مرتبان کا ڈھکنا کھولا۔ وہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ اسے مرتبان سے آواز آئی:

’’کیا، اب میں مرتبان سے باہر آجاؤں۔۔۔؟‘‘ مرتبان میں چھپے چور نے مرجینا کو اپنا سردار سمجھتے ہوئے کہا۔ کچھ وقت کے لیے تو مرجینا ہکی بکی رہ گئی۔ اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ آواز کہاں سے آرہی تھی۔ اس نے تھوڑا سا غور کیا تو اسے سارا معاملہ سمجھ میں آگیا۔ اس نے اپنی آواز کو مردانہ آواز کی طرح بھاری بناتے ہوئے کہا:

’’نہیں نہیں ، ابھی ادھر مرتبان میں ہی رہو۔۔۔ میں ابھی کچھ دیر میں تمہیں بلاتا ہوں۔۔۔‘‘

مرجینا کو معلوم ہو گیا کہ یہ کوئی چال ہے اور علی بابا کی جان سخت خطرے میں ہے۔ وہ آخری مرتبان تک پہنچی۔ اس مرتبان کیمنہ پر تیل لگا ہوا تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ صرف ایک مرتبان میں تیل ہے اور باقی سب میں آدمی چھپے ہوئے ہیں۔ اس نے مرتبان سے بہت سا تیل نکالا اور ایک بڑے کڑاہے میں ڈال کر خوب گرم کیا۔ جب تیل ابلنے لگا تو اس نے اسے ایک برتن میں ڈالا اور باری باری سب مرتبانوں میں ڈالنا شروع کر دیا۔ مرتبانوں میں موجود تمام چور ، جل کر مر گئے۔

مرجینا، اپنا کام مکمل کرکے گھر کے اندر چلی گئی اور چپ چاپ بیٹھی ہر حرکت اور آہٹ کا خیال کرنے لگی۔ جب رات کافی گزر گئی تو اس نے چوروں کے سردار کی آواز سنی۔ وہ مرتبانوں پر چھوٹے چھوٹے کنکر پھینک رہا تھا۔ مرتبانوں سے جب کوئی چور بھی باہر نہ نکلا تو اس نے گھبرا کر ان کے اندر جھانکا۔ اس کے تمام ساتھی جل کر مر چکے تھے۔ وہ گھبرا گیا۔ اسے معلوم ہو گیا کہ اُس کی علی بابا کو مار دینے کی چال ناکام ہوچکی ہے۔ وہ فوراً گھر کی دیوار کود کر بھا گ گیا۔

صبح سویرے مرجینا اٹھی اور سیدھی علی بابا کے پاس آئی۔ اسے رات کو ہونے والا سارا قصہ سنایا۔ علی بابا نے مرجینا کا شکریہ ادا کیا۔

(6)

مرتبانوں میں گرم تیل سے جل مرنے کے بعد سارے چوروں کا خاتمہ ہو گیا۔ اب صرف ان کا سردار ہی بچ گیا۔ سردار ، علی بابا کی جان کا دشمن بن گیا اور وہ کسی نہ کسی طرح اسے ختم کر دینا چاہتا تھا۔

سردار نے اب ایک امیر تاجر بن کر شہر کا رُخ کیا۔ وہ اکثر علی بابا کے بیٹے کی دکان پر جاتا اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہتا۔ آہستہ آہستہ ان دونوں کے درمیان بڑی اچھی دوستی ہوگئی۔علی بابا کو دونوں کی دوستی کا علم ہوا تو اس نے اس امیر تاجر کو اپنے گھر کھانے پر دعوت دی۔ تاجر نے کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انکار کی وجہ یہ بتائی کہ وہ کھانے میں نمک نہیں کھاتا۔ علی بابا نے فوراً کہا کہ اس میں تو ایسی مشکل والی بات ہے ہی نہیں۔ اسے نمک کے بغیر کھانا دیا جا سکتا ہے۔ تاجر نے دعوت قبول کر لی۔

علی بابا نے گھر آکر مرجینا کو نمک کے بغیر کھانا تیار کرنے کے لیے کہا۔ مرجینا یہ سن کر حیران ہوئی کہ بھلا، نمک کے بغیر کھانا کیونکر لذیذبن سکتا ہے۔ وہ سوچنے لگی کہ آخر یہ کون ہے اور اس نے نمک کے بغیر کھانے پر کیوں اصرار کیا ہے۔

تاجر، علی بابا کے گھر آگیا۔ مرجینا بدستور اس تاجر کی نمک کے بغیر کھانے کی شرط پر سوچ رہی تھی۔ اس نے سوچا: ’ اگر کوئی شخص کسی کا دیا نمک کھالے تو پھر وہ اسے قتل نہیں کر سکتا۔ ہو نہ ہو، یہ شخص، علی بابا کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔۔۔!‘

مرجینا نے نمک کے بغیر کھانا تیار کیا۔ اس نے بڑے اہتمام سے کھانے کو تاجر کے سامنے پیش کیا۔ مگر وہ بڑی احتیاط سے اُس تاجر کی ہر حرکت کا دھیان رکھ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ تاجر نے اپنے لباس کے اندر ایک خنجر چھپا رکھا تھا۔ اس نے تاجر کو بغور دیکھا۔ اس کو اندازہ ہو گیا کہ یہ وہی شخص تھا جو مرتبانوں کے ساتھ ایک رات ان کے ہاں ٹھہرا تھا۔ اس نے تاجر کو دیکھا، وہ بڑے خوشگوار طریقے سے علی بابا کے ساتھ خوش گپیاں لگا رہا تھا۔ وہ اس انتظار میں تھا کہ اسے موقع ملے اور حملہ کر کے علی بابا کو ختم کر دے۔

مرجینا کو ایک خیال سوجھا۔ اس نے ایک چھوٹا سا خنجر اپنی کمر میں چھپایا اور ایک ساتھی نوکر کے ساتھ تاجر کے سامنے ناچنا شروع کر دیا۔ تاجر اور علی بابا نے یہی سمجھا کہ وہ ناچ سے مہمان کا دل بہلا رہی ہے۔ کافی دیر ناچنے کے بعد، مرجینا ، جھومتی ہوئی، تاجر کے پاس آئی۔ اس کے سامنے جھکی اور خنجر کے ایک وار سے اسے قتل کر دیا۔

علی بابا اور اس کے بیٹے نے شور مچا دیا:

’’مرجینا، تم نے یہ کیا کر دیا۔۔۔؟ کیا تم پاگل ہو گئی ہو۔۔۔ ؟ مہمان پر حملہ کر دیا۔۔۔؟‘‘ انہوں نے دوڑ کر مرجینا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مرجینا کہنے لگی:

’’میں نے تمہارے دشمن کو ختم کر دیا۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کہ یہ کون ہے۔۔۔؟ یہ چوروں کا سردار ہے جو تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا۔۔۔‘‘ مرجینا نے چوروں کے سردار کی کمر پر بندھے خنجر کو کھینچ کر باہر نکالا اور اسے علی بابا کو دکھایا۔

علی بابا، مرجینا کی بہادری پر بڑا خوش ہوا۔ اس نے اسے اپنی بہو بنا لیا۔

کچھ عرصہ، کسی شخص نے علی بابا کو پریشان نہ کیا تو وہ سمجھ گیا کہ اب چوروں میں سے کوئی نہیں بچا۔ وہ چوروں کی غار میں گیا۔ اس نے کہا:

’’کھل جا سم سم۔۔۔!‘‘ غار کے اندر ابھی تک بہت سا سونا، زیورات اور ہیرے جواہرات پڑے تھے۔ علی بابا نے غار سے یہ سب اٹھا لیا اور خوشی خوشی گھر چلا آیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔