کیا نئے انسان کی اختراع ممکن ہے؟

کیا نئے انسان کی اختراع ممکن ہے؟

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جہاں آرا سیّد

قدیم یونانی ڈرامے ایڈی پس کا مرکزی خیال ایک بادشاہ کے گرد گھومتا ہے۔ بادشاہ کو معلوم ہوتا ہے کہ شہر پر کسی عفریت کا سایہ ہے اور اس کی وجہ سے فصلیں اچھی نہیں ہورہی ہیں۔ وہ اپنے شہر کو اس عفریت سے نجات دلانے کے لئے دیوتاؤں کے ہیکل سے رجوع کرتا ہے۔ وہاں سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کے حاکم کا خون کردیا گیا۔پھر خون کرنے والے نے اپنی ماں سے شادی کرلی۔ جب تک اس شخص کو سزا نہیں دی جاتی، عفریت شہر سے رخصت نہ ہوگی۔ بادشاہ بڑے خلوص سے اس معاملے کی تفتیش شروع کرتا ہے۔ جیسے جیسے بات کھلتی جاتی ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اورنہیں، اصل مجرم وہ خود ہے۔ اسی نے انجانے میں اپنے والد(بادشاہ) کو قتل کیا اوراس کی جگہ پر حکمران بن گیا ۔ پھر اسی نے اپنی ماں سے شادی کرلی۔ جب ایڈی پس کو یہ سب معلوم ہوتا ہے تو وہ اپنی آنکھیں پھوڑلیتا ہے۔

قدیم یونانی معاشرے میں انسان دیوتاؤں کے اسیر تھے۔ ان کی زندگیوں پر دیوتاؤں کی حکمرانی تھی اوروہ محض کٹھ پتلی کی طرح دیوتاؤں کی منشاء پوری کرتے رہتے تھے۔ یونانی تہذیب کو سمجھنے والے سیانوں کا خیال ہے کہ یونانیوں کو زندگی گزارتے وقت درپیش آلام ومصائب کا پورا ادراک تھا۔ وہ ان آلام کے سامنے اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے دیوتاؤں کا ایک بڑا کنبہ تخلیق کیا۔ یہ تخلیق تصور اتی تھی مگر انہوں نے اس تصوراتی کنبے کے سامنے اپنے آپ کو سونپ دیا۔ اس کے بعد بھی وہ مصائب وآلام تو سہتے تھے مگر اس کی ذمے داری دیوتاؤں پرڈال دی جاتی تھی۔ یعنی یہ کہ وہ ان دیوتاؤں (جو خود ان کے تخلیق کردہ تھے) کے سامنے اسیر وبے بس ہوگئے۔ ایسا کرنا اپنے طور پر ایک المیہ تھا مگر انسان اپنی زندگی کی ذمے داری لینے سے آزاد ہوگئے۔ اگرچہ یہ ایک فریب تھا مگر قدیم یونانی انسانوں نے اس فریب کو اپنا نظرےۂ حیات بنالیا۔

مسیحیت میں مرکزی نظریہ، انسان میں احساس گناہ پیدا کرنا ہے۔ اس(ناکردہ) گناہ کی تلافی کے لئے ساری زندگی، انسان ایک مجرم کی طرح رہتا ہے۔ یعنی یہ کہ مسیحی مذہب کو قبول کرنے کا مطلب دراصل اپنے آپ کو ایک مجرم بنادینا ہے۔ مجرم کو نفسیاتی طور یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو شریکِ زندگی نہ سمجھے کیونکہ مجرم سماج میں شمولیت کا حق کھو بیٹھتا ہے۔ وہ زندگی کے اصل دھارے سے نکل کر محض ایک اجنبی یا ’’باہرلے‘‘(Outsider) جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسی ’’زندگی‘‘ میں وہ زندہ رہنے کا حق بھی جتلانے سے قاصر رہتا ہے۔ ایسی بے بسی اور خود اذیتی کا فکا (Kafka)کی کہانیوں کے مطالعے سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ تحکمانہ حیثیت میں بیٹھی مسیحیت کی اتھارٹی، فرد کی ذات کے بہت اندر جاگزیں ہوجاتی ہے۔ اس اجتماعی احساسِ گناہ کے زیرِ اثر فرد کسی عدالت کے فیصلے سے بہت پہلے اپنے آپ کو نہ صرف مجرم سمجھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو سزا بھی دینا شروع کردیتا ہے۔

اکثرسماجی ترکیبوں (societal prescriptions)کا عمومی نظریہ جزا یا سزا کے گرد گھومتا ہے۔ یعنی یہ کہ ان ترکیبوں میں انسان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اورجزا وسزا کے مخصوص پیمانوں کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی فرد ان پیمانوں کی حدود سے باہر نہیں جاسکتا، بلکہ اس کی تمام زندگی اپنے آپ کو انہی پیمانوں کے مطابق ڈھالنے میں صرف ہوجاتی ہے۔ یعنی یہ کہ ان تراکیب کو ماننے والوں کی زندگیاں ایک طے شدہ ڈھانچے سے باہر نہیں جاسکتیں۔ وہ مجبوری کی زندگی گزارنے پر محبوس رہتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ وہ ساری زندگی جزا اور سزا کے کھاتے پورے کرنے میں گزارتے ہیں۔ ایسے نظریات کے تحت مخصوص طرز کے انسان یا انسانیت کے پیمانوں کی اختراع کی جاتی ہے۔

اوپر تین طرز کے انسانوں یا انسانیت کی اختراع کی بات کی گئی ہے۔ ان اختراعات میں اگر، قدیم یونانی معاشرے کے کلیسانے انسانوں کو دیوتاؤں کا اسیربنادیا تھا تو مسیحیت کے کلیسا نے احساس گناہ پر مبنی ایسا شعور، اپنے ماننے والوں میں پیدا کردیا کہ وہ ساری زندگی ایک مجرم کی حیثیت میں گزار دیتے۔ جزا اور سزا کی سماجی ترکیب سماجی ڈی این اے کا کام کرتی ہے۔ ان تینوں نظاموں میں انسانیت اورانسان ہونے کی مخصوص شرح کی گئی اور اس طرح مخصوص مزاج کے انسان کی اختراع کردی گئی۔ یہ نظریات تاریخ کے مخصوص دور میں ضرور پیدا ہوئے مگر انہیں ان کے ماننے والوں کے لیے، ہمیشہ کے لئے کی قسمت قرار دے دیا گیا۔ تاریخی معنوں میں ان نظریات کی اساس تاریخی تھی اوران کا تاریخی جواز بھی موجود تھا۔ جب ان نظریات کو دوامی پیمانے کا درجہ دے دیا گیا تو ساتھ ہی یہ بھی مان لیا گیا کہ تاریخی ارتقاء رک گیا ہے۔ انسانوں کی زندگی میں آنے والی مادی اورشعوری تبدیلیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ مثال کے طور پر قدیم دور میں جب جراثیم کی دریافت نہیں ہوئی تھی تو انسان ’’بیماریوں‘‘ کو آسمان پر رہنے والی ہستیوں کی کارستانی سمجھتے تھے۔ بیماری کا جدید نظریہ خرد بین کی ایجاد کے بعد ممکن ہوسکا۔ کیا قدیم دور کے انسان کا اپنے جسم کے بارے میں شعور، آج کے انسان کے اپنے جسم کے شعور سے مختلف نہیں؟ قدیم انسان، اپنے اردگرد ہونے والی فطرت کی سرگرمیوں کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ ان پر سوال تو اٹھاتا تھا مگر خاطر خواہ معلومات نہ ہونے کے باعث،مخصوص محدود معلومات یا اپنے تخیلاتی جہان بسا کر اپنی تشفی کرلیتا تھا۔ انسانی شعور کا ارتقاء مرحلہ وار ہوا۔بیماریوں سے متعلق حقیقی شعور، خرد بین کی ایجاد سے پہلے ممکن نہ تھا۔ کیا زمین، کائنات کا مرکز ہے؟ اس کا حقیقی جوابُ دور بین کی ایجاد سے پہلے ممکن نہ تھا۔ اسی طرح آئن سٹائن کا کائنات سے متعلق نظریہ، نیوٹن کے زمینی نظریے کے بعد ہی ممکن تھا۔

انسان کی مرحلہ وار مادی ترقی اب اس درجے پر ہے کہ انسان کی اختراع سے متعلق قدیم نظریات میں رہتے ہوئے انسان حبس اور دقتّ محسوس کرتا ہے۔ وہ ان سے بھاگنا چاہتا ہے مگر ذہنی اسیری کے باعث ایسا نہیں کرسکتا۔ جن پیمانوں پر اس کے شعور کو بنایا گیا ہے، اگرچہ وہ غیر حقیقی ہیں مگر انہیں’’حقیقی‘‘ مانتے ہوئے، ان سے نبھاکرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اگر شعور کی اس غیر حقیقی اساس کو ختم کردیا جائے تو انسان کچھ بھی نہیں رہتا۔مثال کے طور پر عورت کے مخصوص شعور کو لیں۔ اس کے عورت ہونے کا شعور، دراصل چند مخصوص نظریات میں پیوست ہے۔ فرض کریں کہ اس شعور کے سو ارکان ہیں اورسب کے سب مخصوص سماجی تناظر میں مخصوص عورت بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ اگر ان کو دلیری کرکے سمجھ لیا جائے اور تب معلوم ہوکہ یہ سب ارکان دراصل غیر حقیقی اور محض ڈھونگ تھے اورمخصوص نظرےۂ نسوانیت کی نمائندگی کرتے تھے تو کسی بھی عورت کے شعور کی اساس یکسر منہدم ہوجائے گی۔ یعنی یہ کہ اس عورت کا وجود جو اس مخصوص شعور کا مرہون تھا، ناقص اور غیر حقیقی قراردینے کے بعد صفر پر آگیا۔ایسی صورتحال سخت گھبراہٹ کا باعث بنتی ہے اورجب بھی کسی شخص کو اپنے شعوری نقص کا احساس ہوتا ہے تو وہ دوبارہ پیدا ہونے کی بجائے، اسی جعلی وجود میں رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ شعوری طور پر دوبارہ پیدا ہونے کے لئے، طاقتور فکری قوّت درکار ہے جو اجتماعی اور مؤثر دھارے کے بغیر ممکن نہیں۔ وگرنہ، شعور کی نوزائیدگی کی ضرورت اور اس کا احساس مناسب ماحول نہ ملنے کے بعد بڑے برُے طریقے سے قدامت پرستی کا حصہ بن جاتا ہے۔

اوپر جن تین نظریات کا ذکر کیا گیا ہے وہ دراصل ایک تعلق کی شرح کرتے ہیں۔ یہ تعلق حکمران طبقے اور محکومین کے درمیان ہے۔ تینوں نظریات دراصل محکومین میں شعوری اپاہج پن پیدا کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔ جب تک حاکموں اور محکومین میں ایسا تعلق برقرار رہے گا، ان نظریات کی افادیت برقرار رہے گی۔ مثال کے طور پر ان تینوں نظریات میں انسان کی اختراع کی بنیاد نیکی اوربدی کے مخصوص خیالات پر ہے۔ محکومین کے لئے نیکی اوربدی کا مخصوص تصور زندگی کے مرکزی نظریے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھتا اورپرکھتا ہے جبکہ حاکم کا نظریہ نیکی اور بدی کے تصورات سے قطع نظر حقیقی حالات میں پیوست ہوتا ہے۔ حاکم کے نزدیک استدلال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خیالات حقیقی حالات کے مرہون ہوتے ہیں۔ محکومین کا استدلال طے شدہ پیمانے کے باہر نہیں جاتا، اس طرح ان کے خیالات بھی مفید ہوتے ہیں۔ شعوری نوزائیدگی کے لئے ضروری ہے کہ استدلال کی قوّت کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ استدلال کا پیمانہ حقیقی حالات کے حساب سے تبدیل ہوتا ہے اور اس طرح ایسے نظریات و خیالات پیدا ہوتے ہیں جو آزادانہ طور پر لامحدود سطح پر پھلتے پھولتے رہتے ہیں۔ اسی مسلسل عمل سے نئے انسان کی اختراع ممکن ہے۔

نئے انسان کی اختراع کا تعلق نئے شعور کے ساتھ ہے۔ محکومیت کے شعور کی تربیت کے لئے مؤثرآلہ کار کلچر ہوتا ہے۔ کلچر کا مقصد لوگوں میں مخصوص ڈھانچوں میں سوچنے اورمخصوص طرز کی زندگی گزارنے کی عادات راسخ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عادات اس قدر جزئیات میں طے کردی جاتی ہیں کہ ان کے مطابق معمولی سے معمولی کام بھی نہ کرنے کی صورت میں ، فرد کو احساس گناہ ہوجاتا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو خواہ اس کا تعلق جاری زندگی سے ہو یا خیالی دنیاؤں سے ہو، سب کا فریم ورک اورنقشہ طے کردیا جاتا ہے۔ انسان کو اس کلچر میں رہتے ہوئے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ وہ جانوروں کی سطح پر زندگی گزارنے کو ہی اپنا مقصد بنالیتا ہے۔ واضح رہے کہ انسان ہونے کا جوہر، صرف اورصرف ناقدانہ شعور ہی ہے۔ اس لحاظ سے کلچر کا کردار جابرانہ ہوجاتا ہے اوراس کو دوامی مان لیا جاتا ہے۔ دوامی ماننے سے کلچر کی حفاظت کا بھی بندوبست ہوجاتا ہے۔ حالانکہ کلچر دوامی صرف اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب انسانی شعور مخصوص نظریات کے تحت جمود کا شکار ہوچکا ہو۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہمارا کلچر ختم ہورہا ہے یا اسے کسی خارجی کلچر کی یلغار کا سامنا ہے۔ ایسے خیالات دراصل اسی خود حفاظتی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایسے جابرانہ کلچر کے اندر موجود ہوتا ہے۔ ایسی گفتگو کرنے والے لوگ بھی دراصل اسی جابرانہ کلچر کے نمائندہ ہوتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ جب جابرانہ نظریات کا اثر کم ہوگا تو طے شدہ شعور اورکلچر میں تبدیلی آنا لازم ہے۔ جب لوگ اپنے شعور کو حقیقی حالات کے ساتھ منسلک کریں گے اور ان کو سمجھنے کے لئے کسی طے شدہ فکر سے الگ حقیقی حالات میں رہتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کریں گے تو نیا شعور اورنیا انسان پیدا ہوگا۔ یہ انسان اپنی زندگی کا خود ذمے دار ہوگا۔ اسے کسی طے شدہ فکر کی اسیری کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہی انسان دراصل حقیقی انسانیت کے درجے پر ممتاز ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔