حقوق کے مطالبے پر گلگت بلتستان کو متنازعہ قراردینے کی منافقت زیادہ دیر نہیں چلے گی، امجد ایڈوکیٹ

حقوق کے مطالبے پر گلگت بلتستان کو متنازعہ قراردینے کی منافقت زیادہ دیر نہیں چلے گی، امجد ایڈوکیٹ

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو (بیورو رپورٹر) حقوق لیتے وقت ہم پاکستانی ہوتے ہیں ہمارے اوپر ٹیکس لگاتے وقت کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے لیکن حقوق دینے کے اوپر بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے یہ منافقت اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔

ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ ، سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ ، سینئر نائب صدر بشیر احمد خان ، رکن قانون ساز اسمبلی عمران ندیم اور دیگر رہنماؤں نے مقپون پولو گراؤنڈ میں منعقدہ حق ملکیت اور حق حاکمیت کے حوالے سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکومت زمینوں کی بندر بانٹ بند کرو،غیر قانونی الاٹمنٹس کا سلسلہ ترک کرو ، زمینوں کی ایک ایک انچ کا تحفظ کریں گے زمینوں کی بندر بانٹ اور لوٹ مار بند نہ کی گئی تو دیامر سے گلگت کی جانب لانگ مارچ کریں گے اگلا پڑاؤ غذر میں پھر اس کے بعد دیامر میں میدان سجائیں گے لیکن حفیظ حکومت کو گلگت بلتستان کے عوام کی زمینیں غیر قانونی طورپر ہتھیانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک یہاں کے عوام ہیں ان پر حکومت کوجبری قبضہ کرنے نہیں دیں گے زمینوں پر جبری قبضہ کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔

انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں کوئی خالصہ سرکار نہیں ہے لیکن حکومت انتظامیہ کے سربراہ کے ذریعے عوام کی ملکیتی زمینوں پر قبضہ کرر ہی ہے اور لوگوں کی زمینیں چھینی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ حق ملکیت اور حق حاکمیت کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ہم حق ملکیت لے کر دم لیں گے عوام اپنے حقوق کیلئے گھروں سے نکل چکے ہیں اب حقوق لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا سوست ڈرائی پورٹ کو حویلیاں منتقل کیا گیا ہے لیکن ہمارے وزیر اعلیٰ سورہے ہیں وزیر اعظم چاروں وزرائے اعلیٰ کو لے کر چین میں گئے ہوئے ہیں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے جارہے ہیں لیکن وزیر اعظم نے ہمارے این سی پی وزیر اعلیٰ کو گھاس تک نہیں ڈالا بتایا جائے کہ حفیظ الرحمن سی پیک کانفرنس میں نظر انداز کرنے کے باوجود کیوں خاموش ہیں ؟رب کعبہ کی قسم سی پیک پر نظر ثانی نہ کی گئی تو ہم شاہراہ ریشم کو بلاک کردیں گے ہم نے ملکی بقاء اور سالمیت کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں معرکہ کارگل میں دو نشان حیدر نار درن لائٹ انفنٹری کو ملے ہیں اس کے باوجود ہمیں حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کو پیپلزپارٹی کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جارہاہے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام حقوق کے حصول کیلئے نکل پڑے گہیں اب حقوق لے کر ہی رہیں گے اب نعرے بازی والی سیاست نہیں ہو گی حقوق لینے کیلئے احتجاج کا طریقہ کار تبدیل کر دیں گے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن چوروں کی جماعت ہے اس نے پہلے الیکشن میں ووٹ چوری کئے اب زمینیں چوری کر رہی ہے جن ٹھیکیداروں پر کرپشن کے کیسز چل رہے تھے انہیں کروڑوں اربوں روپے کے ٹھیکے دیئے گئے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں دیامر بھاشہ ڈیم کے متاثرین کو 44ارب روپے معاوضے کی مد میں ادا کئے گئے لیکن موجودہ حکومت دیامر ، گلگت اور بلتستان کی زمینیں چھین رہی ہے پیپلزپارٹی کے اندر نظریا تی اور مسلم لیگ ن کے اندر حادثاتی لوگ بیٹھے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم سے حقوق لیتے وقت ہم پاکستانی ہوتے ہیں ہمارے اوپر ٹیکس لگاتے وقت کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے لیکن حقوق دینے کے اوپر بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے یہ منافقت اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گی انہوں نے کہا کہ فاٹا کو سیٹ اپ دیا گیا اور اس کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا مگر گلگت بلتستان کو ٹرخادیا گیا ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں کیوں ٹرخایا جارہا ہے ؟ آئینی کمیٹی کی رپورٹ پر وزیر اعظم 5ماہ بعد بھی دستخط کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ ہمارے لوگ محب وطن ہیں ہم سے مزیدامتحان نہ لیا جائے آئینی حقوق کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے ؟

انہوں نے کہاکہ بلتستان میں کسی جگہ پر ایک انچ زمین ہڑپ کی گئی تو ہم گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹری ہاوس کے گھیراؤ کریں گے حق ملکیت کا ہر صورت میں تحفظ کریں گے انہوں نے کہانواز شریف مجرم ہیں انہیں کبھی بھی وزیر اعظم تسلیم نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان پرامن خطہ ہے یہاں آنے والے غیر ملکیوں کو این او سی کی شرط رکھنا بڑی سازش ہے این او سی کی شرط رائیونڈ جانے والوں کیلئے رکھی جائے انہوں نے کہاکہ گلگت سکردو روڈ کو منظم ساز ش کے تحت نہیں بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے چار گھنٹے کا سفر لوگ 12گھنٹے میں طے کرتے ہیں اس کے باوجود بلتستان سے تعلق رکھنے والے ارکین اسمبلی حفیظ الرحمن کے ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں حاجی فدا ناشاد ، اکبر تابان ، ثنائی ،اقبال حسن کو خاموشی توڑ نا ہو گی جب تک یہ لوگ توانا آواز بلند نہیں کریں گے تب تک حقوق نہیں ملیں گے انہوں نے کہاکہ مذہبی جماعتوں نے عوام کو بے وقوف بنایا اب عوام کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور اپنا حق لینے کیلئے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں گے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔