لواری ٹنل پراجیکٹ کو اس سال حقیقت کی شکل دھارتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ایم این اے شہزادہ افتخار الدین

لواری ٹنل پراجیکٹ کو اس سال حقیقت کی شکل دھارتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ایم این اے شہزادہ افتخار الدین

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال سے قو می اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی بروقت تکمیل کے لئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بناکر اسے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے قریب تر لانا گزشتہ چار سالوں کے دوران ان کاسب سے بڑا کارنامہ ہے اور انہیں اول دن سے یہ احساس تھا کہ چترال کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل اس منصوبے کی تکمیل سے چترال کی ترقی کے لئے ہر سمت میں راہیں کھل جائیں گے اور اس سال چترال کے عوام لواری ٹنل پراجیکٹ کو خواب نہیں بلکہ حقیقت کی شکل دھارتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ چترال پریس کلب کے زیر اہتمام “مہراکہ” پروگرام میں گزشتہ چار سالوں کے دوران اپنی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہاکہ 2013ء میں موجودہ حکومت سے قبل اس پراجیکٹ کے لئے 50کروڑ روپے سالانہ فنڈ ملتا تھا جوکہ نہ ہونے کے برابر تھا اور اسی رفتار سے اب تک صرف 2ارب روپے خرچ ہوچکے ہوتے اور اس کی تکمیل دس سال دور ہوتی۔ شہزادہ افتخارالدین نے چترال کے اندر ونی فیڈرل فنڈڈ روڈ پراجیکٹوں چترال گرم چشمہ روڈ، ایو ن بمبوریت روڈ، بونی بزند روڈ، چترال بونی شندور روڈ کا بھی ذکر کیا جن کی تعمیر کے لئے اعلان وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ان کے مطالبے پر کوراغ کے مقا م پر کیا تھا جس کے بعد ان کا مستعدی سے تعاقب کرتے ہوئے ان کے لئے فنڈز بھی ریلیز کرادئیے اور آئندہ چند دنوں میں گرم چشمہ اور ایون روڈ کے کاموں کا ٹینڈر بھی ہوں گے جبکہ چترال بونی شندور روڈ میں ایک تکنیکی مسئلے کو دور کرنے کے بعد اس کے لئے آنے والے بجٹ میں فنڈز ایلوکیشن کی جائے گی۔انہوں نے روڈ انفراسٹرکچر پر مزید کاموں کا ذکر کرتے ہوئے شاگروم تریچ تا اویر روڈ کا نام لیا جوکہ منظوری کے آخری مراحل میں ہے اور اس روڈ سے موڑکھو تحصیل میں ترقی کا انقلاب برپا ہوگا۔ ان کا کہناتھاکہ چترال کے اندرروڈ انفراسٹرکچر کے سیکٹر پر جوکام گزشتہ چار سالوں میں ہوا، اس کی نظیر ماضی میں کہیں نہیں ملتی اور چترال کے عوام پہلی بار بین الاقوامی معیار کی سڑکوں سے آشنا ہوں گے۔ شہزادہ افتخارالدین نے ہائیڈرو پاؤرکے سیکٹر میں اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی طرح گولین گول پراجیکٹ بھی فنڈز کی کمی کے باعث سست روی کا شکار تھا اور انہوں نے دن رات کی جدوجہد کے بعد اس کی ایلوکیشن میں خاطرخواہ اضافہ کرادیا جس کی وجہ سے اس سال دسمبر میں108میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سے اس بجلی گھر سے ڈال دی جائے گی جس میں سے وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق 30میگاواٹ چترال کے سو دیہات کو ملے گی ۔ انہوں نے کہاکہ چترال شہر اور مضافات میں بجلی کے بحران کو دورکرنے کے لئے فرانس حکومت کی طرف سے چترال میں واپڈا کی پن بجلی گھر کی پیدواری صلاحیت کو ایک میگاواٹ سے بڑہاکر 5میگاواٹ کرنے کاکام عنقریب شروع ہوگا جس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے اوریہ ان کے لئے اطمینان بخش بات ہے کہ اس کام کے لئے ڈونر کی تلاش اور انہیں چترال لانا اور قائل کرنا بھی ان کے حصے میں آئی۔ انہوں نے پاؤر سیکٹر میں ایک اور کام کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ موڑکھو میں اتہک کے مقام پر ٹنل کے ذریعے دریائے تریچ کا رخ موڑکھو کی طرف موڑ کرتریچ آن کے مقام پر سینکڑوں میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ موڑکھو میں ابپاشی کے پانی کی شدید قلت کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ کاغ لشٹ میں ہزاروں ایکڑ اراضی بھی زیر کاشت آئے گی ۔ انہوں نے بتایاکہ اس پراجیکٹ کو فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) حکومت چین کی فنڈ سے بیلڈ اپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی ) کی بنیاد پر مکمل کرے گا۔ ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکٹر میں اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یونیورسل سروسز فنڈ کی مدد سے ضلعے کے طول وعرض میں ٹیلی نار کے ٹاؤر ایستادہ کئے گئے جس کے نتیجے میں اب شاگروم تریچ سے لے کر کھوت ، ریچ، مداک لشٹ، یارخون لشٹ اور اویر میں بھی ٹیلی نار کی سروس دستیاب ہوگئی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ انہوں نے اپنے چار سالوں کے عرصے میں ضلعے کے گوشے گوشے میں اٹھارہ مزید برانچوں کا اضافہ کرادیا جبکہ ان کی ہی کوششوں سے سمیڈا نے چترال میں ریجنل بزنس سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے یہاں کاروبار کو وسعت اور ترقی ملے گی۔ وزیر اعظم کی طرف سے گزشتہ سال ہسپتال اور یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہسپتال کے لئے صوبائی حکومت چونکہ زمین دینے کو تیار نہ تھی اس لئے انہوں نے زمین کی قیمت کو بھی منصوبے کے پی۔سی ون میں شامل کرادیا ہے جبکہ یونیورسٹی کے لئے حال ہی میں دو ارب 90کروڑ روپے وفاقی حکومت کی طرف سے ریلیز ہوگئے ہیں جوان ہی کی کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے شرکاء کے مختلف سوالوں کا بھی جواب دیا جوکہ ذیادہ تر چترال ٹاؤن اور مضافات میں بجلی سمیت دوسرے سہولیات کی عدم دستیابی سے متعلق تھے۔ نشست کے آخر میں ممتاز کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے چترال کی پسماندگی دور کرنے میں ایم این اے شہزادہ افتخارالدین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ انہوں نے چترال کی نمائندگی کا حق صحیح ادا کیا ہے اور وفاقی حکومت سے متعلق ہرکام پایہ تکمیل کو پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ تاہم ایم این اے کو چترال کے حالیہ بحرانی حالت میں یہاں موجود رہ کر مسائل کو سلجھانے میں کردار ادا کرنا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر فیضی نے بعض سوالات کے حوالے سے ایم این اے کو مزید مشور ہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے ترقیاتی منصوبے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے چترال پریس کلب کے زیر اہتمام شروع کردہ مہراکہ پروگرام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اسے علاقے کی ذہنی اور طبعی ترقی میں اہم عامل قرار دیا۔ اس موقع پرمعززین شہر اور سول سوسائٹی کے نمائندے کثیر تعداد میں موجود تھے جن میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے جنرل منیجر بریگیڈیر (ر) خوش محمد خان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر نورالاسلام، ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر ایس آر ایس پی طارق احمد،صدر انجمن ترقی کھوار شہزادہ تنویر الملک، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، پروفیسر رحمت کریم بیگ، پروفیسر محمد دوست، پروفیسر حسام الدین،محمد یوسف شہزاد، ڈاکٹر محبوب حسین، محمد ولی شاہ، صدیق احمد ،صاحب نادر ایڈوکیٹ، ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ،پروفیسر سید شمس النظر فاطمی، جاوید اقبال ، عابد علی خان، الحاج عید الحسین، محمد عرفان،رحمت غفور بیگ المعروف بلبل، انجینئر تیمور شاہ، بیرسٹر اسدالملک، محمدظفر الدین، شہزادہ مبشر الملک ، شاہ جہان اور دوسرے شامل تھے۔ چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے اپنی نوعیت کے پہلے پروگرام میں شرکت پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔