شگر: چھورکاہ اے کلاس ڈسپنسری گذشتہ دو سال سے نرسنگ اسسٹنٹ کی رحم وکرم پر

شگر(عابدشگری)اے کلاس ڈسپنسری چھورکاہ میں گذشتہ دو سال سے ڈاکٹر غائب،مریض نرسنگ اسسٹنٹ کی رحم وکرم پرجبکہ ادوایات بھی نایاب،بیماری کی صورت میں گاڑی بک کرکے شگر اور سکردو جانے پر مجبور ہیں۔بعض اوقات گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں کی حالت غیر ہوجاتے ہیں۔چھورکاہ میں فوری طور ڈاکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ورنہ سخت احتجاج کرینگے۔مسلم لیگ (ن) شگرکے جنرل سیکریٹری رضوان اللہ کی قیادت میں چھورکاہ کے رہنماؤں حاجی فداحسین،محمد ایوب اوراحمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت اور ممبر قانون ساز اسمبلی دونوں چھورکاہ کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں۔سابقہ دور حکومت میں ایم کیو ایم کے ممبر اسمبلی کی کوششوں سے چھورکاہ میں ایک ڈاکٹر تعینات ہوا تھا جبکہ ڈسپنسری کی حالت زار بھی بہتر ہوا تھا لوگوں کو ادوایات بھی مل رہے تھے تاہم گذشتہ دو سال سے ڈسپنشری میں تعینات ڈاکٹرغائب ہے۔جس کی وجہ سے دس ہزار سے زائد آبادی کے علاقے جو صحت کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہے ہیں۔غریب مریضوں کو نرسنگ اسسٹنٹ کے رحم وکرم پر خالی پرچی لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں جبکہ بیماری کی صورت میں لوگوں کو مریضوں کو سکردو اور دیگر شہروں میں گاڑی بک کرکے لیجانے پر مجبور ہے۔ ان رہنماؤں نے شکایت کی کہ شگر سے کامیاب ممبر اسمبلی جو کہ علاقہ چھورکاہ کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہے ہیں۔جبکہ محکمہ صحت بلتستان کی جانب سے چھورکاہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ چھورکاہ ڈسپنسری میں فوری طور میڈیکل آفیسر کی تعیناتی عمل میں لایا جائے ورنہ ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت