علماء کے خلاف ایف آئی آر بلتستان کے پر امن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ سید علی رضوی

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( پ ر ) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سربراہ اور معروف عالم دین سید علی رضوی اور ضلع سکردو کے سربراہ شیخ فدا علی ذیشان نے حالیہ دنوں حکومتی نا اہلیوں کے خلاف احتجاج کرنیوالے علمائے دین و عوام خصوصا معروف عالم دین علامہ حافظ زبیری اور شیخ حسن جوہری کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کو علاقے کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سازش اور بنیادی شہری حقوق کو سلب کرنے کی کوشش قراردیتے ہوئے کہا ان علماء کو گرفتارکرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ ہوش کے نا خن لیں اور اپنی حدود میں رہیں، ایسا نہ ہو کہ انکی عوام و علاقہ دشمن اقدامات سے علاقہ بد امنی کی طرف جائے اور حالات خراب ہوں، ھم نہیں چاہتے کہ علاقے کا امن و امان مخدوش ہو، لیکن جرائم پیشہ افراد، دہشت گردوں، کرپٹ عناصر، منشیات فروشوں اور عزتوں کو نیلام کرنیوالوں کو چھوٹ دیتے ہوئے پر امن اور عوام کی حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرکے عوام کا استحصال کرنا شروع کریں توحکومت اور انتظامیہ کا اصل چہرہ عوام میں پیش کرنے پر مجبور ہونگے۔ ایسا نہ ہو کہ حالات خراب ہوں اور انتظامی افسران کی کوتاہیاں اور نا اہلیاں ان کا ذمہ دار قرار پائے۔ شیخ فدا علی ذیشان نے اپنے بیان میں کہا کہ جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ دیکر حق گو اورحق پرست افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ایف آئی آر درج کرنا مقامی انتظامیہ اور قانون کی بالادستی کے کھوکھلے نعرے لگانے والی انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ مقامی انتظامیہ جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے لہٰذا ہم متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی عالم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات خراب ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔